غیرت کے نام پر قتل یا کاروکاری۔۔۔حوا کی بیٹی کو موت کے منہ میںدھکیل دینے والی ایسی ظالمانہ رسم ہے جس کی شرح سندھ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ جائیداد کے حصول کیلئے خواتین کی شادی قرآن سے کر دی جاتی ہے ، انھیں وَنی کیا جاتا ہے، خاندانی جھگڑوں کے نتیجے میں آگ میں دھکیل دیا جاتا ہے، غرض کہ بنتِ حوا آج بھی اپنے حقوق کیلئے معاشرے کی جانب مدد طلب نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ عورت فاﺅنڈیشن نے حال ہی میں اپنی ششماہی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ایسے بے شمار کیسز میڈیا اور فلاحی اداروں تک پہنچتے ہی نہیں ہیں اور بے قصور خواتین کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت ظلم و زیادتی کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔
عورت فاﺅنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر مہناز رحمٰن کا کہنا ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں خواتین کے ساتھ زیادتی کی شرح زیادہ ہے۔
مہناز رحمٰن نے خواتین پر تشدد کے واقعات کے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا:
عورت فاﺅنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ بارشوں اور خراب حالات کی وجہ سے ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں کمی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے واقعات میں خواتین کے قریبی عزیز ملوث ہوتے ہیں۔مہناز رحمٰن نے خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے قانون سازی اور قوانین پر موئثر عمل درآمد پر زور دیا۔
