Karen Refugee Clinic Pioneer Wins Sydney Peace Prizeبرمی ڈاکٹر

ایک برمی ڈاکٹر کو تھائی برمی سرحد پر خدمات سر انجام دینے پر سڈنی امن پرائز دینے کا اعلان کیا گیا ہے، سنتھیا ماﺅنگ نامی ڈاکٹر نے پچیس سال قبلمائی ٹاﺅ کلنک قائم کیا تھا، جس کے تحت اب تک ہزاروں افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جاچکی ہیں۔ ان کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں

سنتھیا ماﺅنگ “برمی کی لگ بھگ تیس فیصد آبادی قبائلی یا مختلف لسانی گروپس پر مشتمل ہے، ستر فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے، تو جمہوری اصلاحات اور سیاسی تبدیلی کے باوجود اب تک ہمیں ان مظلوم افراد کی زندگیوں میں زیادہ بہتری نظر نہیں آئی۔حکومت اور باغیوں کے درمیان امن بات چیت جاری ہے، مگر زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ لوگوں کو ابھی بھی مشکلات کا سامنا ہے، انہیں طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں، تعلیم اور تحفظ جیسے مسائل پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی”۔

سوال” کرنز قبیلے اور برما کے دیگر گروپس کی حالت و زار کو عالمی میڈیا میں زیادہ اجاگر نہیں کیا جاتا، کیا آپ کے خیال میں یہ امن انعام ان برمی گروپس کی مشکلات کو نمایاں کرنے میں مددگار ثابت ہوسکے گا؟

ماﺅنگ”جی ہاں تمام لسانی گروپس اور برمی عوام کے درمیان مستحکم اور طویل المعیاد رابطے کی ضرورت ہے،تاکہ ایک پرامن اور جمہوری ملک کا قیام ممکن بنایا جاسکے۔ تو ہمیں لگتا ہے کہ مساویٰ حقوق، بات چیت اور انسانی حقوق کے فروغ سے حالات بہتر بنائے جاسکتے ہیں، اسی طرح اقتصادی اور سرمایہ کاری کے میدانوں پر توجہ دینا ہوگی، مگر سرمایہ کاری کے دوران ذمہ داری کا بھی ثبوت دینا ہوگا، کیونکہ کاشتکاروں کی زمینوں پر قبضہ کرلیا جاتا ہے، جبکہ فوجی چوکیاں دیہات کے ارگرد واقع ہیں، جسکی وجہ سے مقامی افراد میں عدم تحفظ کا احساس ختم نہیں ہوسکا ہے۔ دہائیوں سے بے گھر افراد اپنے گھروں کا رخ کرنا چاہتے ہیں اور اپنے گاﺅں و برادری کیساتھ رہنا چاہتے ہیں، مگر ان کی گھروں میں محفوظ واپسی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ بہتر معیار زندگی کا خواب بھی اب تک پورا نہیں ہوسکا ہے۔کرن اسٹیٹ یا دیگر ریاستوں میں سرمایہ کاری پر تشویش پائی جاتی ہے، ہم نے ایسے دیہات جو اقتصادی زونز میں شامل کئے گئے ہیں، میں دیکھا ہے کہ زمینوں پر زبردستی قبضہ کیا گیا، جس سے لوگ متاثر ہوئے، جبکہ ماحولیاتی اثرات سے کچھ زمین سیلاب کے باعث تباہ ہوگئی، اس آفت نے روزمرہ کی زندگی کو بہت متاثر کیا ہے، کرن اسٹیٹ میں سرمایہ کاری منصوبوں کے تحفط کیلئے فوجیوں چوکیوں کی تعداد میں اضافے سے لوگوں کے اندر عدم تحفظ بڑھا ہے”۔

سوال”اب آپ کے کام کی جانب آتے ہیں، آپ کو برمی حکام نے دعوت دی ہے کہ واپس آکر دیگر علاقوں میں بھی اپنا کلینک قائم کریں، کیا آپ نے اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے؟

مائنگ”اس کلینک کے ذریعے تھائی برمی سرحد پر بے گھر افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، بے گھر افراد کی زندگیاں بہت مشکل ہیں، تو ہمارا موجودہ کلینک نہ صرف طبی سہولیات فراہم کررہا ہے بلکہ وہ تھائی برمی سرحد پر ہیلتھ ورکرز کیلئے ایک تربیتی مرکز بھی ہے، یہ مختلف گروپس کیلئے موقع ہے کہ وہ اپنی برادریوں میں نظام صحت کو بہتر بنائیں، ہم مختلف لسانی گروپس کیساتھ ملکر کام کررہے ہیں تاکہ وہ اپنی برادریوں کی حالت بہتر بناسکیں۔تو برما واپس جاکر اپنا کلینک قائم کرنے کی بجائے ہم برمی حکاک کو مشور دیتے ہیں کہ وہ اپنے موجودہ طبی نظام اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں، اور لسانی طبی تنظیموں کیساتھ ملکر طبی خدمات یا نظام میں بہتری لائیں”۔

سوال”مگر کیا آپ کے خیال میں یہ بہتر نہیں کہ برما واپس جاکر مقامی حکام کے ساتھ ملکر ملک کو زیادہ جمہوری بنانے کی کوشش کریں؟

مائنگ”جی ہاں جیسا میں نے پہلے کہا کہ ہم مقامی اداروں اور گروپس کو خدمات کی فراہمی کیساتھ ساتھ ان کی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد کررہے ہیں، تو حکومت کو اس کا اعتراف کرتے ہوئے موجودہ ہیلتھ انفراسٹرکچر کی حالت بہتر بنانی چاہئے اور لسانی گروپس کیساتھ ملکر کام کرنا چاہئے، اس سے جمہوری اصلاحات کو زیادہ بہتر طریقے سے نافذ کیا جاسکے گا”۔

سوال”آپ نے پچیس سال قبل مائی ٹاﺅ کلنک کی بنیاد رکھی تھی، اور آغاز میں آپ کے پاس سہولیات نہ ہونے کے برابر تھی، ماضی کے مقابلے میں اب کیا تبدیلی آچکی ہے؟ کیا اب آپ کے مرکز میں بہتر سہولیات دستیاب ہیں؟

مائنگ”جی ہاں اب ہمارے ہیلتھ ورکرز کی تعداد چھ سو ہوگئی ہے، اور ہم مقامی آبادی کو منظم پروگرام کے تحت سہولیات فراہم کررہے ہیں، جن میں چائلڈ ہیلتھ سروسز اور پریوینٹیو سروسزقابل ذکر ہیں۔ ابھی ہم سالانہ ایک لاکھ سے زائد مریضوں کو علاج کررہے ہیں، تو طبی خدمات کا دائرہ بڑھنے سے ہم اس بات کو یقینی بناسکیں گے کہ ان افراد کو طبی سہولیات ان کی اپنی برادری کے اندر ہی مل سکیں، اور انہیں اپنے گاﺅں سے نکل کر ہمارے پاس نہ آنا پڑے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہیلتھ ورکرز اپنی اپنی برادریوں میں جاکر پرامن طریقے سے کام کرسکیں، تو ہیلتھ ورکرز کے کام اور مختلف تنطیموں کا تعلق بہت اہمیت رکھتا ہے۔ جس سے مقامی سطح پر ہی طبی خدمات فراہم کی جاسکیں گی”۔
Karen Refugee Clinic Pioneer Wins Sydney Peace Prizeبرمی ڈاکٹر

ایک برمی ڈاکٹر کو تھائی برمی سرحد پر خدمات سر انجام دینے پر سڈنی امن پرائز دینے کا اعلان کیا گیا ہے، سنتھیا ماﺅنگ نامی ڈاکٹر نے پچیس سال قبلمائی ٹاﺅ کلنک قائم کیا تھا، جس کے تحت اب تک ہزاروں افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جاچکی ہیں۔ ان کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں

سنتھیا ماﺅنگ “برمی کی لگ بھگ تیس فیصد آبادی قبائلی یا مختلف لسانی گروپس پر مشتمل ہے، ستر فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے، تو جمہوری اصلاحات اور سیاسی تبدیلی کے باوجود اب تک ہمیں ان مظلوم افراد کی زندگیوں میں زیادہ بہتری نظر نہیں آئی۔حکومت اور باغیوں کے درمیان امن بات چیت جاری ہے، مگر زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ لوگوں کو ابھی بھی مشکلات کا سامنا ہے، انہیں طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں، تعلیم اور تحفظ جیسے مسائل پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی”۔

سوال” کرنز قبیلے اور برما کے دیگر گروپس کی حالت و زار کو عالمی میڈیا میں زیادہ اجاگر نہیں کیا جاتا، کیا آپ کے خیال میں یہ امن انعام ان برمی گروپس کی مشکلات کو نمایاں کرنے میں مددگار ثابت ہوسکے گا؟

ماﺅنگ”جی ہاں تمام لسانی گروپس اور برمی عوام کے درمیان مستحکم اور طویل المعیاد رابطے کی ضرورت ہے،تاکہ ایک پرامن اور جمہوری ملک کا قیام ممکن بنایا جاسکے۔ تو ہمیں لگتا ہے کہ مساویٰ حقوق، بات چیت اور انسانی حقوق کے فروغ سے حالات بہتر بنائے جاسکتے ہیں، اسی طرح اقتصادی اور سرمایہ کاری کے میدانوں پر توجہ دینا ہوگی، مگر سرمایہ کاری کے دوران ذمہ داری کا بھی ثبوت دینا ہوگا، کیونکہ کاشتکاروں کی زمینوں پر قبضہ کرلیا جاتا ہے، جبکہ فوجی چوکیاں دیہات کے ارگرد واقع ہیں، جسکی وجہ سے مقامی افراد میں عدم تحفظ کا احساس ختم نہیں ہوسکا ہے۔ دہائیوں سے بے گھر افراد اپنے گھروں کا رخ کرنا چاہتے ہیں اور اپنے گاﺅں و برادری کیساتھ رہنا چاہتے ہیں، مگر ان کی گھروں میں محفوظ واپسی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ بہتر معیار زندگی کا خواب بھی اب تک پورا نہیں ہوسکا ہے۔کرن اسٹیٹ یا دیگر ریاستوں میں سرمایہ کاری پر تشویش پائی جاتی ہے، ہم نے ایسے دیہات جو اقتصادی زونز میں شامل کئے گئے ہیں، میں دیکھا ہے کہ زمینوں پر زبردستی قبضہ کیا گیا، جس سے لوگ متاثر ہوئے، جبکہ ماحولیاتی اثرات سے کچھ زمین سیلاب کے باعث تباہ ہوگئی، اس آفت نے روزمرہ کی زندگی کو بہت متاثر کیا ہے، کرن اسٹیٹ میں سرمایہ کاری منصوبوں کے تحفط کیلئے فوجیوں چوکیوں کی تعداد میں اضافے سے لوگوں کے اندر عدم تحفظ بڑھا ہے”۔

سوال”اب آپ کے کام کی جانب آتے ہیں، آپ کو برمی حکام نے دعوت دی ہے کہ واپس آکر دیگر علاقوں میں بھی اپنا کلینک قائم کریں، کیا آپ نے اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے؟

مائنگ”اس کلینک کے ذریعے تھائی برمی سرحد پر بے گھر افراد کو طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، بے گھر افراد کی زندگیاں بہت مشکل ہیں، تو ہمارا موجودہ کلینک نہ صرف طبی سہولیات فراہم کررہا ہے بلکہ وہ تھائی برمی سرحد پر ہیلتھ ورکرز کیلئے ایک تربیتی مرکز بھی ہے، یہ مختلف گروپس کیلئے موقع ہے کہ وہ اپنی برادریوں میں نظام صحت کو بہتر بنائیں، ہم مختلف لسانی گروپس کیساتھ ملکر کام کررہے ہیں تاکہ وہ اپنی برادریوں کی حالت بہتر بناسکیں۔تو برما واپس جاکر اپنا کلینک قائم کرنے کی بجائے ہم برمی حکاک کو مشور دیتے ہیں کہ وہ اپنے موجودہ طبی نظام اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنائیں، اور لسانی طبی تنظیموں کیساتھ ملکر طبی خدمات یا نظام میں بہتری لائیں”۔

سوال”مگر کیا آپ کے خیال میں یہ بہتر نہیں کہ برما واپس جاکر مقامی حکام کے ساتھ ملکر ملک کو زیادہ جمہوری بنانے کی کوشش کریں؟

مائنگ”جی ہاں جیسا میں نے پہلے کہا کہ ہم مقامی اداروں اور گروپس کو خدمات کی فراہمی کیساتھ ساتھ ان کی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد کررہے ہیں، تو حکومت کو اس کا اعتراف کرتے ہوئے موجودہ ہیلتھ انفراسٹرکچر کی حالت بہتر بنانی چاہئے اور لسانی گروپس کیساتھ ملکر کام کرنا چاہئے، اس سے جمہوری اصلاحات کو زیادہ بہتر طریقے سے نافذ کیا جاسکے گا”۔

سوال”آپ نے پچیس سال قبل مائی ٹاﺅ کلنک کی بنیاد رکھی تھی، اور آغاز میں آپ کے پاس سہولیات نہ ہونے کے برابر تھی، ماضی کے مقابلے میں اب کیا تبدیلی آچکی ہے؟ کیا اب آپ کے مرکز میں بہتر سہولیات دستیاب ہیں؟

مائنگ”جی ہاں اب ہمارے ہیلتھ ورکرز کی تعداد چھ سو ہوگئی ہے، اور ہم مقامی آبادی کو منظم پروگرام کے تحت سہولیات فراہم کررہے ہیں، جن میں چائلڈ ہیلتھ سروسز اور پریوینٹیو سروسزقابل ذکر ہیں۔ ابھی ہم سالانہ ایک لاکھ سے زائد مریضوں کو علاج کررہے ہیں، تو طبی خدمات کا دائرہ بڑھنے سے ہم اس بات کو یقینی بناسکیں گے کہ ان افراد کو طبی سہولیات ان کی اپنی برادری کے اندر ہی مل سکیں، اور انہیں اپنے گاﺅں سے نکل کر ہمارے پاس نہ آنا پڑے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہیلتھ ورکرز اپنی اپنی برادریوں میں جاکر پرامن طریقے سے کام کرسکیں، تو ہیلتھ ورکرز کے کام اور مختلف تنطیموں کا تعلق بہت اہمیت رکھتا ہے۔ جس سے مقامی سطح پر ہی طبی خدمات فراہم کی جاسکیں گی”۔