Kachin Political Prisoners Remain Behind Bars – برمی سیاسی قیدی

یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد برمی حکومت نے 59 سیاسی قیدیوں سمیت 93 قیدیوں کو عام معافی دی، تاہم ایک برمی ریاست میں تاحال سینکڑوں سیاسی قیدی جیلوں مین موجود ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

میت کینا کے ایک پناہ گزین کیمپ میں چالیس سالہذی نوئی دوپہر کا کھانا کھا رہی ہیں، انہیں آج بھی وہ دن یاد ہے جب گزشتہ برس ان کے شوہربرانگ شوانگ کو پکڑا گیا تھا۔

ذی”وہ اتوار کی شب تھی جب انتطامیہ کے اہلکار آئے اور پوچھ گچھ کیلئے میرے شوہر کو لیکر چلے گئے۔ اس کیمپ کے رہنماءبھی ان کے ساتھ تھے، جس کے بعد میرے شوہر کو تفتیشی کمرے میں لے جایا گیا”۔

ذی نوئی”اگلے دن ہم واپس وہاں آئے، تو اہلکاروں نے مجھے اپنے شوہر کیلئے کچھ خوراک خریدنے کا کہا اور وعدہ کیا کہ ہم ان سے مل سکیں گے۔ مگر کچھ عرصے بعد ہمیں وہاں جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا”۔

برانگ شوانگپر ریاست کاچن میں موجود ایک باغی گروپ کاچن انڈیپینڈینٹ آرم سے تعلق کا الزام تھا۔وہ اس کیمپ میں صرف تین دن کیلئے لائے گئے تھے تاکہ انہیں سرکاری طور پر گرفتار کیا جاسکے۔

ذی “میرے شوہر نے گرفتاری کے وقت شارٹس پہن رکھے تھے، تاہم گرفتاری کے بعد جب میں نے انہیں پپلی بار دیکھا تو وہ لمبی قمیض پہنے ہوئے تھے تاکہ اپنے زخم چھپاسکیں۔ انکا پورا جسم زخموں سے بھرا ہوا تھا، ان زخموں کی وجہ سے انکا چہرہ بھی نہیں پہچانا جارہا تھا۔ میں اس ملاقات میں پورا وقت روتی رہی”۔

دوہزار گیارہ کے بعد جب حکومت اور باغی گروپ کے درمیان سترہ سال سے جاری جنگ بندی ختم ہوئی تواس وقت سے اب تک ریاست کچنمیں ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔حکومت کی جانب سے پناہ گزین کیمپوں میں موجود افراد پر باغیوں کی حمایت کا الزام لگایا جاتا ہے اور ان کے لئے امدادی سامان کی فراہمی روک دی جاتی ہے۔

زی نوئی”اگر ہم کسی باغی گروپ سے تعلق رکھتے تو ہم کبھی پناہ گزین کیمپ میں نہیں رہتے۔ ہم باغیوں کے ہیڈ کوارٹر” لزا ” چلے جاتے اور سکون سے رہتے۔ یہاں ہمیں خوراک کیلئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور کبھی کبھار تو ہمیں سادہ چاول ہی کھانے پڑتے ہیں”۔

گزشتہ سال فروری میں حکومت نے کاچن کے باغی گروپ سے امن مذاکرات کئے اور دونوں فریقین نے کشیدگی میں کمی اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ تاہم اب تک کوئی رسمی جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔ ایک مقامی این جی او نے الزام عائد کیا ہے کہ مذاکرات کے باوجود حکومت نے سو بے گھر افراد کو باغیوں کی حمایت کرنے کا الزام لگا کر گرفتار کرلیا ہے۔

پناہ گزین کیمپ کے سربراہ یو آونگ میت کا ماننا ہے کہبرانگ شوانگ بے گناہ ہیں۔

یو آنگ میت “میں نے برانگ شوانگ کے پس منظر کے بارے میں تحقیق کی ہے، اس کی پیدائش سے اور گرفتاری کے وقت تک کی، میں نے اس کے اسکول کے اساتذہ اور اس کے مالک سے ملاقاتیں کیں، برانگ شوانگ ایک سونے کی کان میں کام کرتا رہا ہے، اور اس کا پس منظر حکومتی الزامات سے بالکل مختلف ہے”۔

عالمی برادری کی جانب سے اس کی فوری رہائی کیلئے مہم چلائی جارہی ہے، برانگ شوانگ کو مبینہ طور پر تفتیش کے دوران بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے بم دھماکے کرنے کا الزام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا۔ گزشتہ برس اسے ٹرائل کیلئے لایا گیا، اس موقع پر اس کی رانوں اور گالوں پر خنجر کی خراشیں دیکھی جاسکتی تھیں۔

میت”پہلی سماعت کے دوران جج نے برانگ شوانگ کے جسم سے ایک ریکارڈنگ ڈیوائس دریافت کی، جس کے بعد اس کیس کو نظرثانی کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ایسا کیوں ہوا، ہم شفاف ٹرائل چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ جج جس نے ٹیپ دیکھی وہ صفائی کا گواہ بنے”۔

اس جج کو اس مقدمے سے ہٹا دیا گیا ہے، رواں برس مارچ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندہ خصوصی ٹو ما س کو ئنٹانانے برما آکرمیت کینا جیل کا دورہ کیا۔ وہاں انھوں نےبرانگ شوانگ اور دیگر قیدیوں سے ملاقاتیں کیں۔ اپنی رپورٹ میں انھوں نے تصدیق کی کہ برانگ شوانگ پر فوج کی جانب سے تشدد کیا گیا ہے۔

ذی نوئی اب پناہ گزین کیمپ میں اپنے خاندان کی خود دیکھ بھال کررہی ہیں۔وہ مارکیٹ میں اشیائے خورونوش فروخت کرتی ہیں تاکہ جیل میں اپنے شوہر تک کھانا پہنچا سکیں۔انہیں اب بھی توقع ہے کہ وہ اپنے شوہر کو دوبارہ دیکھ سکیں گی۔

ذی نوئی”میں ان کی جلد رہائی کیلئے پرامید ہوں، انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے”۔