زمین سے محبت کا احساس جگانے کے لئے دنیا بھر میں آج یوم ارض منایاجارہاہے۔ زمین ہمارے پاس آنے والی نسلوں کی امانت ہے لیکن ماحولیاتی آلودگی کے باعث یہ اپنی بقا کے حوالے سے خدشات کا شکار ہے۔
زمین کا دن انیس سو ستر سے ہر سال بائیس اپریل کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد زمین کی بقا کو دوام بخشنے کے لئے شعور اجاگر کرنا ہے۔انسان نے اپنی ابتدا سے لے کر اب تک بے مثال ترقی کی،ان گنت ایجادات اور دریافتوں نے انسانی زندگی کو پتھر کے دور کے مقابلے میں انتہائی سہل تو بنا دیا ہے مگر انھی کامیابیوں نے کرہ ارض کو خوفناک خطرات سے بھی دوچار کر دیا ہے۔
انسان کے غیر ذمہ داررانہ رویہ کے باعث جہاں قدرتی وسائل کم ہو رہے ہیں وہاں ماحول بھی آلودہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آلودگی سے عالمی حدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ اوزون کی تہہ میں شگاف پڑ چکا ہے جس سے خطرناک مسائل جنم لے رہے ہیں۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے اور ملک میں موسمی تغیر سے ہونے والے سالانہ نقصانات 12 کھرب 74 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
ملک میں 90 فیصد قدرتی آفات کی وجہ موسم ہے ، دنیا بھر میں 2 دہائیوں میں شدید موسم کے 14ہزار واقعات میں 7 لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور 2 کھرب 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
گلوبل کلائمنٹ رسک انڈیکس 2012ء کے مطابق پاکستان نہ صرف موسمی نقصانات سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے بلکہ 1990سے 2010ءکے دوران شدید ترین متاثرہ 10 اولین ممالک میں 8 ویں نمبر پر ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ فہرست کے 10 اولین مذکورہ ممالک میں پاکستان انسانی ترقی کے انڈیکس میں بھی سب سے پیچھے ، 145 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں تاریخ کے بدترین سیلاب میں 121میں سے 84 اضلاع میں 1700 سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے۔