Written by prs.adminJune 1, 2012
International Children Day بچو ں کا عا لمی دن
General . Special Reports | خصوصی رپورٹس Article
پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں آج بچوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1954ءمیں ہر سال عالمی یوم اطفال منانے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کی فلاح و بہبود کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔یہ دن سال میں دو دفعہ یکم جون اور بیس نومبر کو منایا جاتا ہے۔
بچوں کا پیدائشی حق ہے کہ انہیں معاشرے میں پہچان اور شناخت عطا کی جائے، مگر پاکستان میں 73 فیصد بچے ہرسال پیدائشی اندراج کے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔پاکستان میں بہت سے بچے تو ایسے بھی ہیں جنہیں تعلیم اور خوراک جیسے بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غذائیت کا شکار اور سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد افریقہ کے کئی پسماندہ ملکوں سے بھی زیادہ ہے۔ لیکن اس وقت بچوں کے رویئے اور ان کی ذہنی صحت سے متعلق معاملات نے زیادہ سنگینی اختیار کرلی ہے۔
اس کا اہم ثبوت استاد کی ناراضگی اور والدین کے زبردستی ہوسٹل بھیجنے پر بچوں کی خودکشیوں کے واقعات ہیں۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ بچوں کے بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل کی وجہ اساتذہ اور والدین سے بچوں کے رابطے اور بات چیت میں کمی ہے۔ بچے اکثر خوف اور والدین کی عدم دلچپسی کے باعث اپنے مسائل ان سے بیا ن نہیں کرپاتے۔
عالمی سطح پر ہر سال 27 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو گھریلو تشدد سے واسطہ پڑتا ہے اور یہ سلوک بچوں کی نشوونما پر قلیل اور طویل المدتی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ بچوں کے معاشی استحصال کا یہ عالم ہے کہ 21 کروڑ 80 لاکھ بچے معاشی طور پر متحرک چائلڈ لیبر ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 57 لاکھ بچوں سے جبری مشقت لی جا رہی ہے، 18 لاکھ بچوں سے جسم فروشی کا کام کرایا جا رہا ہے جبکہ 12 لاکھ بچے اسمگل کیے جا چکے ہیں۔
ورلڈ اسکاو¿ٹنگ رپورٹ 2006ءکے مطابق بچوں کی بنیادی سہولت سے محرومی کی صورتحال یہ ہے کہ د±نیا میں 40 کروڑ بچوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں، 50 کروڑ بچوں کو مناسب صفائی ستھرائی کی سہولت حاصل نہیں اور د±نیا میں بھوک سے سالانہ ایک کروڑ 10 لاکھ بچے مر جاتے ہیں ۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ 10 کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر تعلیم سے محروم ہیں۔ بچیوں سے امتیازی سلوک کا اظہار ان اعداد و شمار سے ہوتا ہے کہ دنیا کے 180 میں سے 55 ممالک ایسے ہیں جہاں اسکولوں میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کا تناسب کم ہے۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply