انڈونیشیاءمیں پیدائشی سند یا برتھ سرٹیفکیٹ کا حصول اکثر اوقات درد سر بن جاتا ہے، مگر اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ اگر یہ سرٹیفکیٹ نہ ہو تو تعلیم اور طبی سہولیات سمیت متعدد بنیادی حقوق سے محرومی کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔
جکارتہ کے آوارہ بچوں کے ایک اسکول سیکولا جالان میں پڑھائی ہورہی ہے، آج طالبعلم ایک گانے کی مشق کررہے ہیں جو وہ کئی ماہ سے سیکھ رہے ہیں۔
روزانہ تین گھنٹے تک کھلنے والے اس اسکول میں عام اسکولوں کی طرح بچوں سے نظم و ضبط یا دیگر چیزوں کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔اِیبو پیپٹ نے تین سال قبل اس کی بنیاد رکھی تھی، وہ بتارہی ہیں کہ ان طالبعلموں کیلئے وہ اتنی لچک کیوں دکھا رہے ہیں۔
اِیبو پیپٹ” اس کی اقتصادی وجوہات ہیں، یہ بچے کام کرکے اپنے والدین کی مدد کرتے ہیں اور کچرا وغیرہ چننے کا کام کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر خاکروب ہیں، جبکہ کچھ گلیوں میں رہتے ہیں۔ یہ روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور یہ پیسے گھر جاکر والدین کے ہاتھ میں رکھ دیتے ہیں”۔
آج صرف دس طالبعلم اسکول آئے ہیں، مگر کئی بار ان کی تعداد تیس سے زائد بھی ہوجاتی ہے۔ چھ سے تیرہ سال کی عمر کے یہ بچے ایک چھوٹے کمرے میں ریاضی، موسیقی، انگریزی اور جاپانی زبان کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
اِیبو پیپٹ” آخر میں نے ان آوارہ بچوں کیلئے اسکول کیوں کھولا؟ کیونکہ میں ان بچوں کے بارے میں فکرمند تھی، یہ بچے انڈویشین قوم کا مستقبل ہیں، ان بچوں کو ذہین بنانا ہوگا، کیونکہ یہی مستقبل میں ہمارے ملک کو ترقی دلائیں گے، انہیں ذہین بنانا ہوگا اور انہیں ان کے تمام حقوق دینا ہوں گے”۔
یہ بچے اکثر و بیشتر اپنے حقوق سے محروم رہتے ہیں، جس کی وجہ ان کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونا ہے، کاغذ کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کی عدم موجودگی کے باعث وہ کسی اچھے اسکول میں داخلہ نہیں لے سکتے۔ امرُلا سُوفیان بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی این جی او پلان انڈونیشیاءکے پروگرام منیجر ہیں۔
امرُلا سُوفیان” پیدائشی رجسٹریشن بچون کی اولین شناحت کا حصہ ہے، جس سے انہیں دیگر حقوق حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ یعنی انہیں شناخت ملتی ہے، قومیت معلوم ہوتی ہے، تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی کا حق ملتا ہے وغیرہ وغیرہ”۔
انکا کہنا ہے کہ برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونے سے ان بچوں کو مستقبل میں متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امرُلا سُوفیان” جب وہ ملازمتوں کی تلاش کررہے ہوتے ہیں تو انہیں حکومت کے پاس خود کو رجسٹر کرانا ہوتا ہے، جب وہ بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں تو پاسپورٹ کے حصول کیلئے انہیں برتھ سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح شادی کی رجسٹریشن کیلئے بھی اس کی ضرورت ہوتی ہے، یہ وہ چند مشکلات ہیں جو برتھ سرٹیفکیٹ سے محروم بچوں کو مستقبل میں درپیش ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس عمل کو آسان بنانے کی حمایت کرتے ہیں”۔
گزشتہ برس ان کی این جی او نے جکارتہ کی پانچ کچی بستیوں میں ایک سروے کرایا تھا، جس کے بعد معلوم ہوا کہ دو تہائی والدین نے اپنے بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے کوئی کوشش ہی نہیں کی، انڈونیشیاءبھر میں یہ اعدادوشمار انتہائی بلند ہیں اور ایک اندازے کے مطابق تین کروڑ بچے رجسٹریشن سے محروم ہیں، یہ تعداد آسٹریلیا کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔وزارت سماجی امور کے ایک عہدیدار فیرڈی تسلیم کرتے ہیں کہ برتھ سرٹیفکیٹ کے حصول کے دوران لوگوں کو انتہائی پیچیدہ سرکاری طریقہ کار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فیرڈی” جکارتہ میں برتھ سرٹیفکیٹ کیلئے درخواست دینا بہت مشکل کام ہے، آپ کے پاس شناختی کارڈ ہونا چاہئے، والدین کو ہسپتال کا برتھ لیٹر اور اپنی شادی کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑتا ہے، اور اکثر والدین کے پاس یہ چیزیں نہیں ہوتیں یا کم از کم ان آوارہ بچوں کے پاس تو نہیں ہوتیں”۔
ایبو پیپٹ کے اسکول میں آنے والے بیشتر بچے ایک قریبی کچی بستی میں مقیم ہیں، یہاں افراد کچرا چننے کا کام کرتے ہیں۔ 26 سالہ سینٹی نے ہمیں اپنے ایک کمرے کے گھر میں مدعو کیا۔ان کے تین بچے ہیں جن میں سے کسی کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ نہیں۔
سینٹی” برتھ سرٹیفکیٹ کا حصول بہت مشکل ہے، وہ بہت مہنگا بھی ہے، تاہم اگر ہمارے پاس برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہو تو ہمارے بچے اسکول نہیں جاسکتے اور ان کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔اسی لئے ہم اس کے حصول کے بارے میں سوچ رہے ہیں”۔
وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔
سینٹی” جی ہاں میں فکرمند ہوں، مگر اس کے حصول کیلئے جو شرائط ہیں وہ بھی بہت سخت ہیں۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ خوراک کا حصول ہی ہمارے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہے”۔
وزارت سماجی امور نے حال ہی میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت ہر بچے کیلئے پندرہ لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، تاکہ انہیں تعلیم اور صحت کی سہولیات مل سکیں، مگر برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر تین کروڑ بچے اس منصوبے سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے۔امرُلا سُوفیان کا کہنا ہے کہ حکومت کو مزید اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔
امرُلا سُوفیان” ہم نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل سے آنکھیں نہ چرائے، یہ آوازہ بچے ایک حقیقیت ہیں، اس لئے حکومتی پالیسی کو کھلے ذہن سے تیار کیا جانا چاہئے”۔