(Indonesians going bald to fight cancer) کینسر کے خلاف انڈونیشین عوام کی بالوں کی قربانی
انڈونیشیاءمیں کینسر سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہیں، خصوصاً بچے اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس مرض کا علاج مہنگا ہونے کے باعث بیشتر بچے مناسب طبی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔تاہم اب ان بچوں کے لئے ایک منفرد مہم شروع ہوئی ہے، تاکہ ان کے علاج کیلئے رقم جمع کی جاسکے۔
Tika نامی خاتون اس وقت جنوبی جکارتہ کے ایک شاپنگ پلازہ کے باہر موجود قطار میں اپنے بال کٹوانے کیلئے کھڑی ہوئی ہیں۔
female) Tika) “میں یہاں اپنی بیٹی Dabira کیساتھ آئی ہوں، ہم دونوں اپنے کٹوانے کی بجائے انہیں بڑا کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں، مگر اب ہم نے اپنے بال چھوٹے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میری بیٹی کا کہنا ہے کہ ہمارے بال جادوئی ہیں، ابھی یہ کٹ کر چھوٹے ہوجائیں گے تو کچھ عرصے بعد دوبارہ بڑے بھی ہوجائیں گے۔ مگر ہمارے یہ کٹے ہوئے بال لوگوں کے علاج میں کام آئیں گے”۔
یہ کینسر میں مبتلا غریب بچوں کے علاج کیلئے رقم اکھٹا کرنے کی منفرد مہم ہے، جس میں لوگ اپنے بال کٹوا کر انہیں وگیں بنانے والی کمپنیوں کو فروخت کردیتے ہیں، ہر شخص کے بال دس ڈالر میں فروخت ہوتے ہیں۔ اب تک سینکڑوں افراد اس مہم کا حصہ بن چکے ہیں، ان میں سے ایک 28 سالہ Adit بھی ہیں۔
male) Adit) “میرے خیال میں یہ غیرمعمولی مہم ہے، ہم سے کہا جاتا ہے کہ اپنے سر کی حجامت کراکے کینسر کے مریض بچوں کی مدد کریں۔ مجھے معلوم ہے کہ میں ان بچوں کیلئے کچھ کرنہیں سکتا، مگر کم از کم میں نے اپنے بالوں کے ذریعے ان کی تھوڑی بہت تو مدد کی ہے”۔
اس مہم کو Shave for Hope کا نام دیا گیا ہے، جسے ایشین میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے شروع کیا، اسی طرح کی مہم کینیڈا، آسٹریلیا اور سنگاپور جیسے ممالک میں بھی چلائی جاچکی ہے۔Pandu Haryo اس ایسوسی ایشن کے رکن ہیں۔
male) Pandu Haryo) “ہم کینسر کے شکار بچوں کی مدد کیلئے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ اسی لئے ہم نے Shave for Hope کے ذریعے ان کیلئے فنڈز اکھٹا کرنا شروع کئے، تاکہ ان کے علاج معالجے کے اخراجات ادا کئے جاسکیں”۔
اپنے بال کٹوانے کیلئے آنے والے رضاکاروں سے یہ ایسوسی ایشن کم از کم دس ڈالر کا عطیہ دینے کی بھی درخواست کرتی ہے، جبکہ ان کے بالوں کے فروخت سے حاصل ہونیوالی رقم الگ ہے۔ یہ سب رقم Yellow Ribbon Foundation کو دیدی جاتی ہے، جو کینسر کے مریض بچوں کے خیال کا کام کررہی ہے۔ Erwin Fauzi، Yellow Ribbon Foundation سے تعلق رکھتے ہیں۔
male) Erwin) “یہ شعور اجاگر کرنے کی مہم ہے، تاکہ عوام کو ان بچوں کی مشکلات سے آگاہ کیا جاسکے، اس طرح ہم ان بچوں کی مدد کیلئے فنڈز بھی جمع کرلیتے ہیں۔ کینسر میں مبتلا افراد اس مرض سے تنہا نہیں نمٹ سکتے، مگر کینسر ہونے کا مطلب یہ نہیںکہ کسی کی زندگی ختم ہوگئی ہے۔ امید، خواب اور مستقبل کے بارے میں سوچنا ہر شخص کا حق ہے، چاہے آپ بیمار ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم ایسے افراد کی معاونت کرتے ہیں”۔
75 حجام رضاکاروں کے بال کاٹ رہے ہیں، ان رضاکاروں کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں یا تو وہ اپنے بال بہت چھوٹے کرالیں یا گنجے ہوجائیں۔ ہر شخص کی بال کاٹنے سے قبل تصویر کھینچی جاتی ہے، اور بال کاٹنے کے بعد بھی ان کے نئے روپ کی ایک تصویر لی جاتی ہے۔44 سالہ Lydia Dumayanti نے اپنا سر مکمل صاف کرایا ہے۔
female) Lydia Dumayanti) “میں خود خون کے سرطان کی مریضہ رہ چکی ہوں، تاہم پانچ سال قبل میں اس موذی مرض سے نجات پانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ میں جانتی ہوں کہ کینسر کے مریض یہ بچے کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔ کینسر کے chemotherapy طریقہ علاج کے دوران بالوں سے محرومی انتہائی تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے، میں یہاں دوبارہ اپنے بال صاف کرانے کیلئے آئی ہوں، تاکہ بچوں کی مدد کرسکوں”۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کینسر میں مبتلا افراد کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے، اور اب دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آرہے ہیں، جن میں سے ڈھائی لاکھ بچے ہوتے ہیں۔انڈونیشیاءمیں ہر سال چار ہزار سے زائد بچے اس موذی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ کینسر کے ماہر Dr Edi Tehuteru کا کہنا ہے کہ بچوں میں کینسر کی تشخیص بہت سے مشکل ہوتی ہے۔
male) Dr Edi Tehuteru) “ہم اس مہم کے ذریعے عوام تک کینسر کے بارے میں معلومات پھیلانا چاہتے ہیں، تاکہ والدین علامات کو پہچان کر اپنے بچوں کو بروقت طبی ماہرین کے پاس لے جائیں۔ ہم والدین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو ڈاکٹروں کو پاس لیکر جائیں، اور وہاں مشکوک علامات کی جانچ پڑتال کرائیں”۔
نوسالہ فرح کو ہڈیوں کا کینسر لاحق ہے۔ہم نے اس سے پوچھا کہ وہ بڑی ہوکر کیا بننا چاہتی ہے۔
فرح(female) “میں ہسپتال میں آنے والے افراد جیسی رضاکار بننا چاہتی ہوں۔ یہ رضاکار مجھ جیسے کینسر کے شکار بچوں کے ساتھ کھیلتے ہیں، جس سے ہماری تکلیف بہت حد تک کم ہوجاتی ہے”۔
فرح کی بائیں ٹانگ کینسر کو پھیلنے سے روکنے کیلئے گزشتہ دنوں کاٹ دی گئی تھی۔ فرح کی والدہ Yanti کا کہنا ہے کہ ان کے لئے اپنی بیٹی کے علاج کیلئے رقم جمع کرنا بہت مشکل کام ہے۔
female) Yanti) “میں کرائے کے گھر میں رہتی ہوں، میں اپنی بچی کے مہنگے طبی اخراجات کیسے اٹھاسکتی ہوں؟ پہلے ہمارے پاس اپنی گاڑی تھی مگر فرح کے علاج کیلئے ہم نے اسے فروخت کردیا۔ اب تو میں صرف اللہ سے دعا کرسکتی ہوں کہ وہ میری بیٹی کو جلد صحت یاب کردے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اس کے علاج کیلئے رقم کیسے جمع کروں گی”۔
اب واپس جنوبی جکارتہ کے شاپنگ پلازہ کی جانب چلتے ہیں، جہاں ایک ہزار سے زائد افراد اپنے بال کٹوانے اور رقم عطیہ کرنے کیلئے موجود ہیں۔ اس ایک روزہ مہم کے دوران 89 ہزار ڈالرز جمع ہوئے۔ یہاں اپنے سر مکمل صاف کرانے کیلئے آنے والے 40 سالہ Agus Gunawan نے چالیس ہزار ڈالرز کا عطیہ دیا۔
male) Agus Gunawan) “یہ میرے لئے اپنی ذات کے بارے میں جاننے کیلئے مددگار ثابت ہوئی ہے۔ اس کے ذریعے میں نے اپنی زندگی کی اہمیت کے بارے میں جانا ہے۔ یہ بچے ہمارے اپنے ملک کے ہیں، اگر ہم ان کی مدد نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟ چالیس ہزار ڈالرز ہوسکتا ہے کہ سننے میں زیادہ رقم لگ رہی ہو، مگر ان بچوں کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ کچھ بھی نہیں”۔
شاپنگ پلازہ میں موجود ایک اسٹیج پر معروف گلوکار اور ڈاکٹر Tompi رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور کینسر کے مریض بچوں کیلئے یہ پیغام دے رہے ہیں۔
male) Tompi) “اپنی جدوجہد جاری رکھو، آپ اس جدوجہد میں تنہا نہیں”۔