کہتے ہیں کہ عمارت کی بنےاد صحیح ڈالی جائے تو وہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔لیکن اگر بنےاد کمزور ہو تو عمارت کمزور اور ناپائیدار ہوتی ہے۔یہی حال بچوں کا ہے ،اگر ان کی بنیاد مضبوط اور صحیح خطوط پر ہو تو بچے بہترین کردار و شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔بچے کی شخصیت سازی میں سب سے اہم کردار بچے کے والدین ادا کرتے ہیں ۔اور اس تمام تربیت میں سب سے اہم حصہ بچے کی والدہ کا ہوتا ہے۔بحیثیت ماں عورت کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔کہتے ہیں کہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔بچے بہت معصوم اور شرارتی ہوتے ہیںلیکن کچھ بچے حد سے زےادہ شرارتی مزاج کے باعث والدین خصوصا ماں کے لئے ایک آزمائش سے کم نہیں ہوتے اور اگر بچہ پڑھنے میں قطعا دلچسپی نہ رکھتا ہو تو والدین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ایسے میں ماں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔اس طرح کی صورتحال میں ایک ماں کو کس پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جانتے ہیں سائرہ جنید سے جو کہ ایک ہاﺅس وائف ہیں۔
بچے کی تعلیم میں عدم دلچسپی کی وجوہات کے بارے میں ڈاکٹر احمد سلطان جو کہ مقامی اسکول کے پرنسپل ہیں بتاتے ہیں۔
ڈاکٹر احمد سلطان پڑھائی اور اسکول میں بچے کی دلچسپی بڑھانے کے لئے ماﺅں کے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں:
ایک مشہور مقولہ ہے کہ بچہ اپنے بہترین سبق ماں کی گود اور باپ کے پےارمیں سیکھتا ہے ۔ایک اورمقولہ مشہور ہے کہ ایک بہترین ماں اپنے بچے کوسو درسگاہوں سے بہتر تربیت دے سکتی ہے۔اب یہ ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کو وقت کی پابندی،سلیقہ شعاری،صفائی اور متوازن غذا کے اصول ذ ہن نشین کرائے ،انہیں جلد سونے،اور صبح جلدی اٹھنے کا عادی بنائے،کیونکہ بچپن کی یہی عادتیں آئندہ زندگی میں ان کے کردار کی بنیاد بنتی ہیں اور والدین خصوصا ماں کے لئے آسودگی کا باعث بھی بنتی ہیں ۔