آسٹریلیا کے شمالی خطے کے روایتی رہائشی اپنے زمینی حقوق تسلیم کئے جانے کے پچاس برس مکمل ہونے پر جشن منارہے ہیں، 1963ءمیں ایسٹ ایرنہم لینڈکے قبائلی رہنماﺅں نے بارک پیٹیشنز کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد کان کنی کی رائلٹی کا حصول تھا۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
قبائلی بزرگ باکا مامو اس وقت نوجوان تھے جب ان کے والد رائے نےایسٹ ایرنہم میں اپنی زمینوں پر مجوزہ کان کنی کے منصوبے کے خلاف جدوجہد شروع کی۔
باکامامو”انھوں نے مجھے متاثر کیا، وہ اپنے باقی ماندہ قبائلی بھائیوں کے آگے ہوگئے اور کہا کہ وہ اس منصوبے کو چیلنج کریں گے”۔
یولنگو برادری نے ملکر یہ مہم شروع کی اور کامن ویلتھ میںبارک پیٹیشنز دائر کی، آسٹریلین حکومت نے اس پٹیشن کو تسلیم کیا تاہم ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔تین سال بعد عدالت نے آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی بار ان قبائلی افراد کے زمینوں پر ثقافتی اور اقتصادی حقوق کو تسلیم کرلیا۔
باکا مامو”ہمیں زمینی حقوق نہ ملے ہوتے اگر میرے والد کھڑے نہ ہوجاتے اور یہ تحریک نہ چلاتے”۔
آج باوگزیٹ مین اور ریفائنری ریو ٹنٹو ایلکو اور برادری کے دیگر لوگ چلارہے ہیں، جس سے انہیں کافی اقتصادی فوائد حاصل ہورہے ہیں، گزشتہ دنوں مقامی برادری نے اس تاریخی موقع کو پچاس برس مکمل ہونے پر جشن منایا، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس موقع پر بھی وہ اس بات کو یاد رکھے ہوئے ہیں کہ ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
باکامامو”ہمیں اس تاریخی موقع کو مزید آگے بڑھنے کیلئے استعمال کرنا چاہتے، اور دیکھنا چاہئے کہ آسٹریلیا کب تک اپنے آئین میں ہمارے حقوق کو پہلی بار تسلیم کرتا ہے”۔
روزی پیرسن،ایرنہم لیندمیں پلی بڑھی اور پھر سڈنی منتقل ہوگئیں، تاہم خصوصی مواقعوں پر وہ اپنے آبائی قصبے میں واپس آتی ہیں، انکا کہنا ہے کہ بارک پیٹیشنز کے پچاس سال مکمل ہونے پر قبائلی رہنماﺅں کو مزید آئینی حقوق حاصل کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔
روزی”اگر آپ ماضی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ سیاہ دور میں ہم لوگوں کو کسی قسم کے حقوق حاصل نہیں تھے، ہمیں ووٹ ڈالنے نہیں دیا جاتا تھا یا ایسے ہی دیگر حقوق بھی حاصل نہیں تھے۔ ابھی بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں، حالانکہ ہر انسان برابر ہے، حکومت کو تمام افراد یکساں حقوق دینے چاہئے”۔
برادری کے رہنماﺅں نے اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا منصوبہ بنایا ہے، تاہم روزی پیرسن کا کہنا ہے ملک بھر کے دیگر گرپوس کو اس حوالے سے اپنی آواز اٹھانی چاہئے۔
روزی پیرسن”نارتھ نیو ساﺅتھ ویلز میں حال ہی میں لوگوں نے خود کو خودمختار قرار دیا، جس سے ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا، آپ کو معلوم ہے کہ انہیں اس بات پر مجبور کردیا گیا تھا، میرے خیال میں انفرادی سطح پر اس طرح کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں، بلکہ سب کی مشترکہ توانائی سے تبدیلی آسکتی ہے، آسٹریلیا کے مختلف گروپس کو اکھٹے ملکر کام کرنا چاہئے”۔
نوجوان اس وقت پٹیشنز خود تیار کرنے میں مصروف ہیں۔
لڑکی”شراب نوشی اچھا کام نہیں، اس سے خاندان دولت سے محروم ہوجاتے ہیں، شرابی گھر آکر اپنے گھروالوں سے لڑتے ہیں، جس سے گھرانے ٹوٹ جاتے ہیں، میں اپنے گھروں کو زیادہ محفوظ بنانا چاہتی ہوں”۔