بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت بی جے پی نے وزارت عطمیٰ کیلئے نریندر مودی کو اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے، ریاست گجرات میں ان کی اقتصادی کامیابی کو سراہا جاتا ہے مگر ان پر ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کا الزام بھی ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ
بی جے پی کے کارکن ملک بھر میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے نام کے اعلان پر جشن منارہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ نریندر مودی ہی بھارت کو مسائل سے نکالنے والے رہنماءہیں۔
آرون”حالیہ تمام تخمینوں، عوامی آراءپر ہمارے تجزئیوں اور سروے وغیرہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نریندر مودی کو ہی بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے رہنماﺅں کے مقابلے میں سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے”۔
مودی اس وقت ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ ہیں اور متعدد حلقے گزشتہ بارہ سال کے دوران اس ریاست کی اقتصادی پیشرفت کو سراہتے ہیں، کاروباری افراد جیسے سنیل الغا کا کہنا ہے کہ مودی نے گجرات کو سرمایہ کاری کیلئے مثالی مقام بنادیا ہے۔
سنیل”جب ہم مودی کا دیگر افراد یا گجرات حکومت کا دیگر ریاستوں سے موازنہ کرتے ہیں تو سب کی رائے گجرات کی حمایت میں ہی جاتی ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران وہاں کی شرح ترقی سب سے اوپر رہی ہے اور گجرات سب ریاستوں کی قیادت کررہی ہے”۔
مگر اس کے باوجود نریندر مودی 2002ءکے فرقہ وارانہ فسادات کے سائے سے اب تک جان نہیں چھڑاسکیں ہیں، ان فسادات میں دو ہزار کے قریب مسلمان قتل ہوئے تھے اور مودی پر ان فسادات کو بھڑکانے کا بنیادی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ شوما چوہدری ہفت روزہ جریدے تہلکہ کی سیاسی ایڈیٹر ہیں۔
شوما”یہ وہی رہنماءہے جس نے فسادات کو پھیلایا، میرا ماننا ہے کہ اس کی مدد سے کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں تھا، اس نے ہی فسادیوں کی حوصلہ افزائی کی، جنھیں اس کے وزیر داخلہ نے گرفتار کرلیا تھا”۔
امریکی حکومت نے مودی کو ان فسادات میں ملوث ہونے کے الزامات کے بعد سے اپنے ملک آنے کی اجازت نہیں دی، مودی کو کسی عدالت سے سزا نہیں ہوئی اور نہ ہی انھوں نے کبھی معافی مانگی ہے۔ عامر رضا حسین ایک مسلمان تھیٹر ڈائریکٹر ہیں۔
عامررضا”ہم مودی سے معافی نہیں چاہتے، ہم چاہتے کہ ان فسادات میں جو کچھ غلط ہوا ہے اسے درست کیا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ ان فسادات کے متاثر کو انصاف ملے اور ان کی بحالی نو ہو، ہم چاہتے ہیں کہ 2002ءکے فسادات میں ملوث عناصر کو سزا ملے”۔
بی جے پی کی جانب سے مودی کو منتخب کئے جانے کے فیصلے نے متعدد حلقوں کو حیران کردیا، یہاں کے پارٹی کے سنیئر ترین رہنماءبھی ان میں شامل ہیں، بی جے پی کے بانی رکن ایل کے ایڈوانی نے عوامی سطح پر اس فیصلے کی مخالفت کی، سدھندرا کُلکرنی ایڈوانی کے قریبی ساتھی ہیں۔
سدھندرا”ہر ایک پارٹی کے اندر موجود جوش و خروش کو سمجھ سکتا ہے، اس کی وجہ دس سال سے اقتدار سے پارٹی کی دوری ہے، اور پارٹی قدرتی طور پر کارکنوں میں مقبول شخص کو وزیراعظم کیلئے نامزد کرنے پر پرجوش ہے، مگر اس حوالے سے کافی حلقے مطمئن نہیں، تاریخ بتائے گی کہ یہ انتخاب بالکل غلط تھا”۔
مگر سنیئر صحافی سواپن داس گپتا کا نظریہ مختلف ہے۔
گپتا”یہ کہنا تو ظالمانہ ہوگا مگر حقیقت یہی ہے کہ ایڈوانی کی مقبولیت اب زوال پذیر ہے، میرے خیال میں لوگ اب ماضی کو نہیں دیکھنا چاہتے، بلکہ ان کی نظریں مستقبل پر مرکوز ہیں”۔
