(India’s ‘national shame’) بھارتی قومی شرمندگی

 

بھارت دنیا میں کم خوراکی کا شکار سب سے بڑا ملک ہے۔ یہاں روزانہ پانچ ہزار سے زائد بچے خوراک نہ ملنے کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں

نئی دہلی کے نواح میں واقع Nutritional Rehabilitation Centre میں بیس بچوں کا وزن کیا جارہا ہے، ان میں سے اکثر بچے اپنی عمر کے مقابلے میں کم وزن کے حامل نکلے۔ ان میں سے ایک تین سالہ ببلو بھی ہے، جس کا وزن صرف نوکلو گرام ہے۔ ببلو کی والدہ سنتوش کا ایک بچہ دو برس قبل کم خوراکی کے باعث ہلاک ہوچکا ہے۔

سنتوش(Female) “ہم بہت غریب ہیں، اور میرے شوہر ہی پورے خاندان کیلئے کماتے ہیں۔ وہ سائیکل رکشہ کھینچنے کا کام کرتے ہیں، جس سے حاصل ہونیوالی رقم ہمارا پیٹ بھرنے کیلئے کافی نہیں ہوتی”۔

سنتوش کی بیٹی رانی سات سال کی ہوچکی ہے، وہ بھی انتہائی کمزور ہے، رانی اسکول جانا چاہتی ہے، تاہم اسے اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کیلئے قالین بانی کا کام کرنا پڑتا ہے۔

رانی(female) “ہمارے پاس پیسے نہیں، ہمارے پاس کھانے کیلئے مناسب خوراک نہیں، جبکہ ہمیں متعدد مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسکول نہیں جاپاتی”۔

دنیا میں بچوں کی فلاح کیلئے سب سے بڑا پروگرام بھارت میں چلایا جاتا ہے، جسے آئی سی ڈی ایس کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا آغاز تیس برس قبل ہوا تھا۔ اس کے تحت ملک بھر میں بچوں کیلئے طبی اور نگہداشت مراکز چلائے جارہے ہیں، جہاں بچوں کی غذائی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے، تاہم آئی سی ڈی ایس کے باوجود ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں کم خوراکی کی شرح انتہائی تشویشناک ہے۔ رواں برس کے شروع میں سامنے آنے والے ایک سروے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 160 ملین ہے، جن میں سے 42 فیصد انتہائی تشویشناک حد تک غذائی کمی کا شکار ہیں، تاہم حقیقی اعدادوشمار سروے سے زائد ہیں۔ اس سروے کو ایک این جی او Nandi Foundation نے کیا تھا، Rohini Mukherjee سروے ٹیم کی سربراہ ہیں۔

 (female) Rohini Mukherjee “ہمارا تخمینہ ہے کہ کم خوراکی کے شکار بچوں کی تعداد ساٹھ فیصد سے زائد ہے جو کہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ ان میں ماﺅں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہمیں طویل المعیاد حکمت عملی درکار ہے، جبکہ سرمائے کے ساتھ ساتھ حکومتی عزم کے ساتھ ہی ہم کم خوراکی پر قابو پاسکتے ہیں”۔

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اس سروے کے نتائج پر انتہائی پریشان ہوگئے تھے۔

من موہن سنگھ(male) “اتنی بڑی تعداد میں خوراک کے منتظر بچوں کے ہوتے ہوئے ہم ملک کے روشن مستقبل کی توقع نہیں کرسکتے۔ کم خوراکی کا یہ مسئلہ قومی شرمندگی کا سبب ہے،ملک کی شاندار اقتصادی ترقی کے باوجود ملک میں غذائی کمی کے شکار بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہم اس مسئلے پر قابو پانے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکے ہیں”۔

گزشتہ ماہ بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف نے بھی بھارت کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق ملک میں کم خوراکی کے شکار خاندانوں کی شرح 47 فیصد سے تجاوز کرچکی ہے، اور بھارت اس مسئلے سے نمٹنے میں پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور سری لنکا سے پیچھے رہ گیا ہے۔ Viraj Patnayak ایک فلاحی ادارے Right to Food campaign کے رکن ہیں۔

 (male) Viraj Patnayak “ہمارے بچوں میں کم خوراکی کی شرح غریب ترین افریقی ممالک سے بھی دوگنا زائد ہے۔ سب سے خوفناک حقیقت یہ ہے کہ ہم دنیا میں تیزی سے اقتصادی ترقی کرنے والے ملک کے باسی ہیں، بہت سے ممالک جو معاشی لحاظ سے بھارت کے مقابلے میں کمزور ہیں، وہ بچوں کی نگہداشت کے حوالے سے بھارت سے آگے ہیں۔جنوبی ایشیا بچوں میں کم خوراکی کے حوالے سے بدترین خطہ ہے، جو کہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے”

صرف بچے ہی نہیں بڑے بھی اس مشکل کا شکار ہیں۔ سماجی کارکن اور طبی ماہر ڈاکٹر Binayak Sen ریاست جھاڑکھنڈ کے قبائلی افراد کیلئے کام کرتے ہیں۔

 (male) Binayak Sen “بھارت کی 37 فیصد بالغ آبادی کم خوراکی کا شکار ہے، عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کسی ملک کے چالیس فیصد افراد کم خوراکی کا شکار ہوں تو اس ملک کو قحط زدہ قرار دیدیا جانا چاہئے۔ اگر اس پیمانے کا اطلاق کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ بھارتی عوام اس وقت شدید قحط سالی کا شکار ہیں”۔

اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے نئی کوششیں کی جارہی ہیں، بھارت کی مرکزی کابینہ نے ایک قانون کی منظوری دی ہے، جس کے تحت ملک کی دوتہائی آبادی کو سستے داموں خوراک فراہم کی جائے گی، اب اس قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے گا۔اس کے علاوہ بجٹ میں بھی کم خوراکی کے شکار دو سو اضلاع کے حوالے سے متعدد منصوبے تجویز کئے گئے ہیں۔ اس وقت بھارت میں کم خوراکی پر قابو پانے کیلئے سول سوسائٹی بھی متحرک ہوگئی ہے، جس نے Citizen’s Alliance Against Malnutrition کے نام سے تحریک شروع کی ہے۔ Jay Panda اس تحریک میں شامل رکن پارلیمنٹ ہیں۔

 (male) Jay Panda “ہم اس مسئلے پر عوامی شعور اجاگر کرنا چاہتے ہیں، اور اس مسئلے کے حل کو اپنی پہلی ترجیح بنانا چاہتے ہیں۔ہم سیاست کو پس پشت ڈال کر یہ کام کررہے ہیں، ہم اپنی نوجوان آبادی کو کم خوراکی سے بچانا چاہتے ہیں، تاکہ ملک کو کسی بدترین سانحے سے بچایا جاسکے”۔

اس تحریک نے تین مختلف ریاستوں کے تین اضلاع میں ایک منصوبہ شروع کیا ہے، تاکہ یہاں کم خوراکی کا مقابلہ کیا جاسکے۔Jay Panda اس بارے میں بتارہے ہیں۔

 (male) Jay Panda “مثال کے طور پر ہمارے ملک کی 92 فیصد ماﺅں کو غذائیت کی اہمیت ہی معلوم نہیں، حالانکہ بچوں کی صحت مندی کیلئے ماں کا دودھ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح ہماری کئی رسومات جیسے کم عمری کی شادیاں بھی کم خوراکی کے مسئلے کو بڑھا دیتی ہیں، جس پر ہم قابو پانا چاہتے ہیں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *