India’s Election Commission to Monitor Social Media Campaigns – بھارتی انتخابات میں سوشل میڈیا کا کردار

بھارت کی پانچ ریاستوں میں ریاستی انتخابات رواں ماہ ہورہے ہیں، اس سلسلے میں انتخابی مہم کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس یا سوشل میڈیا کا استعمال عروج پر پہنچ چکا ہے، یہاں تک کہ الیکشن کمیشن نے بھی سوشل میڈیا پر مہم کے حوالے سے پہلی مرتبہ ہدایات جاری کی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

ریاست مدھیہ پردیش کی اسمبلی کے انتخابات 25 نومبر کو ہورہے ہیں، مگر اس بار انتخابی مہم بالکل مختلف انداز میں چلائی جارہی ہے۔

سیاسی جماعتیں ووٹرز کو توجہ حاصل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کررہی ہیں، حکمران اور اپوزیشن جماعتیں آن لائن اپنی موجودگی محسوس کرانے کیلئے بھرپور کوششیں کررہی ہیں، تانیما دتا اپوزیشن کی کانگریس پارٹی کی آئی ٹی کوآرڈنیٹر ہیں۔

تانیما”سوشل میڈیا شہری علاقوں میں مرکزی کردار ادا کرے گا، وہاں لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار آزادانہ موقع ملتا ہے، یہ سیاسی جماعتوں کیلئے بھی اہم ہے کہ وہ اپنے ووٹرز سے براہ راست رابطہ کرسکتی ہیں، تاکہ وہ پارٹی کے نظرئیے سے آگاہ ہوسکیں، میں اس بات سے اتفاق کرتی ہوں کہ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابات میں کامیابی ممکن نہیں مگر اس سے ہم اپنا اچھا تاثر تو پیدا کرسکتے ہیں”۔

حکمران جماعت بی جے پی بھی سوشل میڈیا سائٹس جیسے ٹیوئیٹر اور فیس بک پر جارحانہ مہم چلارہی ہے، اس نے فیس بک پر ایک اپلیکشن بھی متعارف کرائی ہے، وکاس بونڈریا بی جے پی کے آئی ٹی کوآرڈنیٹر ہیں۔

وکاس”ہم ان انتخابات میں سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ سے زیادہ فائدے کیلئے کررہے ہیں، ہم پارٹی کارکنوں، حامیوں اور عوام سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کررہے ہیں، ہم نے ایسا نطام تیار کیا ہے جسکے ذریعے پارٹی ورکرز اور سیاستدانوں کے ذریعے مہم چلائی جاسکے گی، ہمیں اپنے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا مہم کیلئے مدد مل رہی ہے”۔

آیہ آر آئی ایس نا لج فاونڈیشن کی حالیہ تحقیق کے مطابق رواں برس کے انتخابات میں نوجوانوں ووٹرز اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اس وقت ایک کروڑ چالیس لاکھ ووٹرز کی عمریں 20 سے 29 سال کے درمیان ہے، نوجوان ووٹرز جیسے بیس سالہ انپریت دیویدی پہلی دفعہ ووٹ ڈالیں گے، اور وہ اپنے ووٹ کے فیصلے کیلئے سوشل میڈیا پر انحصار کررہے ہیں۔

انوپریت”میں جانتا ہوں کہ بھارت میں انٹرنیٹ کا اثر ابھی بھی کافی کم ہے، مگر اب متعدد افراد اسمارٹ فونز یا دیگر ذرائع کے ذریعے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں، میرے خیال میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والی جماعتوں کو دیگر پارٹیز کے مقابلے میں زیادہ فائدہ ہوتا ہے”۔

بھارت میں انٹرنیٹ کی سہولت گیارہ فیصد افراد کو ہی حاصل ہے اور ایک سو بیس ملین سرگرم صارفین موجود ہیں، مگر سوشل میڈیا کے فروغ کے باعث بھارتی الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا پر مہم کے لئے تفصیلی ہدایات جاری کی ہیں، ایڈووکیٹ وراگ گپتا کی پٹیشن کے باعث الیکشن کمیشن نے یہ ہدایات جاری کیں۔

وراگ”ایک سیاستدان انتخابات کے دوران ہر چیز کا وعدہ نہیں کرسکتا، اگر وہ ٹیوئیٹر یا فیس بک پر کسی قسم کا وعدہ کرتا ہے تو اسے کنٹرول کیا جانا چاہئے، ایسا مناسب گائیڈلائنز کے ذریعے ہی ممکن ہے، سوشل میڈیا پر خرچ کی جانے والی تمام رقم انتخابی مہم کے اخراجات میں شامل کی جائے گی”۔

ان ہدایت کے مطابق امیدواروں کو اپنی تمام ای میلز اور سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کا اعلان کرنا ہوگا، اور الیکشن کمیٹی ہی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پر کسی سیاسی اشتہار کی منظوری دے گی۔تمام جماعتوں کو سوشل میڈیا پر دی گئی تمام رقم کا ریکارڈ بھی مرتب کرنا ہوگا، اور ہر امیدوار انتخابی مہم کے دوران 26 ہزار ڈالرز سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتا۔ اکشے روٹ، الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

اکشے”انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے مطابق سوشل میڈیا ، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا جیسا ہی ہے، اگر الیکٹرونک میڈیا کیلئے سرٹیفکیشن کی ضرورت ہے تو پھر ہمیں سوشل میڈیا کیلئے بھی وہی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔ اگر ہم انتخابی رقم کو کنٹرول کرکے انتخابات کیلئے ہر امیدوار کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہیں، تو ہمیں سوشل میڈیا کیلئے بھی گائیڈلائنز کی ضرورت پڑے گی”۔

حکمران اور اپوزیشن جماعتوں نے ان ہدایات کا خیرمقدم کیا ہے۔ وکاس بوندیااس بارے میں اپنا موقف بیان کررہے ہیں۔

وکاس”ہم یہ تمام چیزیں فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، ہم قوانین کے مطابق چلنے کیلئے تیار ہیں”۔