بھارتی شہر ممبئی میں اس کے معروف ڈانس بارز جلد واپس آنے والے ہیں، کیونکہ سپریم کورٹ نے آٹھ سال بعد ریاستی حکومت کی جانب سے بند کرائے گئے ان بارز کو کھولنے کا حکم دیدیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
بتیس سالہ ریشمی ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس کی حیثیت سے کام کرتی ہے، ڈانس بار میں رقص کرکے روزگار کمانے والی ریشمی کیلئے یہ کام کافی مشکل ثابت ہوا۔
ریشمی”جب میں ڈانس بار میں تھی تو ہمارا اپنا گھر تھا، ہمارے بچے اچھے اسکولوں میں پڑھ رہے تھے اور ہمارے خاندان اچھی زندگی گزار رہا تھا۔ ہم محنت سے کام کرکے اپنے پیشے سے اچھی آمدنی حاصل کررہے تھے، اور ہمیں کسی قسم کے جبر کا احساس نہیں ہوتا تھا اور ہم خود بھی ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے، مگر آج ہمارے پاس گھر نہیں، ہمارے بچے اسکولوں سے باہر ہین اور پورا خاندان بکھر چکا ہے”۔
ممبئی کی نائٹ لائف میں ڈانس بار کو تاج کے ہیروں سے تشبیہ دی جاتی تھی، ریشمی جیسا رقاصائیں معروف گانوں پر رقص کرکے پیسے کماتی تھیں، اور اکثر لوگ ان پر نوٹوں کی بارش بھی کردیتے تھے۔تاہم آٹھ سال قبل حکومت نے ڈانس بارز بند کرنے کی ہدایت کردی، اسکا کہنا تھا کہ یہ بارز معاشرے کو خراب کررہے ہیں۔ آر،آر پاٹیل ریاست مہاراشٹر کے وزیر داخلہ ہیں۔
پاٹیل”یہ بارز لائسنس کی شرائط کی کھلی خلاف ورزی کررہے تھے، اس کے علاوہ ہمارے خیال میں ان ڈانس بارز میں خواتین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہورہا تھا، انہیں بے وقار کیا جارہا تھا، یہی وجہ ہے کہ کافی بحث کے بعد ریاستی اسمبلی نے متفقہ طور پر ان بارز پر پابندی کی منظوری دی”۔
اس پابندی سے قبل ستر ہزار سے زائد خواتین ریاست بھر کے چودہ سو ڈانس بارز میں کام کررہی تھیں، ورشا کالے، بار گرلز ایسوسی ایشن کی سربراہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس پابندی نے ان کی حالت قابل رحم بنادی ہے۔
کالے”کچھ نے تو خودکشیاں کرلیں، جبکہ متعدد کا خاندان ٹوٹ گیا۔ پہلے تو ہمیں لگ رہا تھا کہ صرف ڈانسرز کو ہی مشکالت کا سامنا ہے، مگر ویٹرز اور گلوکار وغیرہ بھی اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے اور وہ بھی غریب ہوگئے ہیں”۔
ریشمی کا کہنا ہے کہ کچھ ڈانسرز تو جسم فروشی پر بھی مجبور ہوگئیں۔
ریشمی”اس سے قبل کوئی بھی کسی ڈانسر کو کسی چیز پر مجبور نہیں کرسکتا تھا، مگر بارز کی بندش کے بعد خواتین جسم فروشی پر مجبور ہوگئیں، وہ اپنا آفروخت کرنے لگیں اور اس کام میں وہی لوگ آگے نطر آئے جنھوں نے پابندی کی حمایت کی تھی”۔
بار ڈانسرز اور مالکان نے اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، حکومت کا الزام تھا کہ یہ بارز فحاشی اور غیراخلاقی سرگرمیوں کا مرکز ہیں، تاہم ایک بار کے مالک پروین اگروال کا کہنا ہے کہ ان الزامات کو ثابت نہیں کیا جاسکا۔
پروین”بار پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے وہ کچھ بھی غلط ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، انھوں نے پولیس کے ذریعے اپنی طاقت دکھاتے ہوئے ان لڑکیوں کو قربانی کی بکریوں کی طرح استعمال کیا اور ان پر دھڑا دھڑ مقدمات قائم کئے گئے”۔
پہلے بمبئی ہائیکورٹ اور پھر اب چھ سال بعد سپریم کورٹ نے ڈانس بارز پر سے پابندی ختم کرنے کا حکم سنایا ہے، ایڈووکیٹ آنند گروور نے سپریم کورٹ میں بار ڈانسرز کی پیروی کی۔
آنند”اس حکم میں خواتین کے اس حقوق کا خیال رکھا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کا کام کرنے کیلئے آزاد ہیں، وہ لوگ جو معاشرتی اخلاق کے نام پر اپنی مرضی دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں اور وہ جو سوچتے ہیں کہ پروپگینڈا کرکے لوگوں سے اپنی مرضی کے کام کرائے جاسکتے ہیں، انہیں سپریم کورٹ نے سختی سے مسترد کردیا ہے”۔
تاہم اس فیصلے کے بعد متعدد حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آرہی ہیں، جن میں کچھ خواتین گروپس بھی شامل ہیں۔ رانجھنا کماری نئی دہلی کے ایک گروپ سینٹر فار سوشل ریسرچ کی ڈائریکٹر ہیں۔
رانجھنا کماری”عالمی ادارہ محنت کے کنونشن جس پر بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں، میں کہا گیا ہے کہ ہر ورکرز کو معقول و شائستہ کام کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ بار ڈانسرز کے کام کو کوئی اچھا کہنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ آخر یہ خواتین کیوں رقص کرتی ہٰں؟ چند شرابی مردوں کے مزے کیلئے وہ یہ کام کرتی ہیں، اگر خواتین کو اس طرح استعمال کیا جانا باوقار زندگی اور مناسب کام دونوں حقوق کے خلاف ہے”۔
ریاست کا حکمران اتحاد بھی اس فیصلے پر خوش نہیں، وزیر داخلہ پٹیل کا کہنا ہے کہ حکومت اس فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیل دائر کرے گی۔
پٹیل”سب مطالبہ کررہے ہیں کہ ڈانس بارز کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہ دی جائے، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پابندی برقرار رکھنے کیلئے ضرورت پڑنے نیا قانون بنانا چاہئے”۔
ڈانس بارز دوبارہ لائسنس حاصل کرنے کے بعد ہی کھل سکیں گے، بار ڈانسرز جیسے ریشمی اس فیصلے پر خوشیاں منارہی ہیں۔
ریشمی”ہمیں توقع ہے کہ حکومت ہمیں وہ آزادی اور زندگی دے گی جو آٹھ برس قبل ہمیں میسر تھی”۔