(India’s Billion-Citizen Data Base) بھارتی شہریوں کا ڈیٹا بیس

 

سب کو معلوم ہے کہ دنیا کا ہر شخص منفرد ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت نے ملک کے ہر شخص کو الگ الگ منفرد شناختی نمبر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں Aadhaar نامی ڈیٹا بیس پر دو سال سے کام جاری ہے، جس کا مقصد ہر شخص کی جسمانی اور بائیومیٹرک تفصیلات جمع کی جاسکیں۔تاہم اس کے باعث ایک تنازعہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

مرد، خواتین اور بچے نئی دہلی کی Jehangirpuri نامی کچی بستی کے باہر اپنے منفرد شناختی کارڈ جسے یو آئی ڈی کا نام دیا گیا ہے، کی رجسٹریشن کیلئے قطار لگائے کھڑے ہیں۔ ظہیر احمد نیا کارڈ ملنے پر خوش نظر آرہے ہیں۔

ظہیر(male) “لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کارڈ سے مجھے متعدد مراعات ملیں گی، مگر سب سے اہم امر یہ ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میں دہلی کا شہری ہوں”۔

اس کارڈ کو بارہ ہندسوں پر مشتمل منفرد نمبر دیا گیا ہے، جبکہ اسکے ساتھ ساتھ چند بنیادی معلومات جیسے نام، تصویر، جنس اور تاریخ وغیرہ بھی اس پر درج ہے۔ اس میں ایک مائیکرو چپ بھی موجود ہے جو نیشنل بائیومیٹرک ڈیٹابیس سے منسلک ہے۔ اس ڈیٹابیس میں کارڈ کے حامل شخص کی انگلیوں کے نشانات، آنکھوں کی پتلیوں کا ریکارڈ اور چہرے کی تصویر موجود ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کی شناخت کا قابل اعتبار ثبوت فراہم کیا جاسکے گا، جس سے عوام کو بہتر سرکاری خدمات اور ترقیاتی پروگرامز جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔Nandan Nelekani، Unique Identification Authority کے چیئرمین ہیں۔

 (male) Nandan Nelekani “اس چیز سے ایسے کروڑوں بھارتی شہری جنھیں ابھی ریاستی سطح پر ملک کا حصہ نہیں سمجھا جاتا، کو اپنی شناخت مل سکے گی۔ انہیں منفرد شناختی کارڈ اور آن لائن تصدیقی سروس فراہم کی جائے گی ، اس طرح انہیں بینک اکاﺅنٹ کھلوانے یا کسی بھی کام کے لئے اپنی شناخت کرانے میں آسانی ہوگی۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس منصوبے کا مقصد معاشرے سے کٹے افراد کو مرکزی دھارے میں واپس لانا ہے”۔

تاہم متعدد افراد کا کہنا ہے کہ یہ شناختی نمبر شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کا سبب بن سکتے ہیں۔ Usha Ramanathan ایک آزاد قانونی محقق ہیں۔

 (female) Usha Ramanathan “یہ منصوبہ درحقیقت ایسا نہیں جیسا بیان کیا جارہا ہے، یہ ملک کی تمام آبادی پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش ہے۔اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرایا جارہا ہے کہ اگر انھوں نے اپنی معلومات سے حکومت کو آگاہ نہیں کیا تو انہیں سماجی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ ناقابل برداشت تصور ہے جسے کسی بھی معاشرے میں قبول نہیں کیا جاسکتا”۔

متعدد افراد کا کہنا ہے کہ بائیومیٹرک ڈیٹا مکمل طور پر قابل اعتبار نہیں، فرانزک ماہر راجیش ماتھر کا کہنا ہے کہ انگلیوں کے نشانات انتہائی آسانی سے جعلی بنائے جاسکتے ہیں، جبکہ ان کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔

راجیش ماتھر(male) “رجسٹریشن کے عمل کے دوران یو آئی اے نے انتہائی بلند و بانگ دعوے کئے تھے، مگر تصدیقی عمل کے دوران انھوں نے بہت کم ڈیٹا حاصل کیا، اس ادارے نے صرف ایک انگلی کے نشانات حاصل کئے اور انہیں تیس data points میں تبدیل کردیا۔ اگر میں اپنی انگلیوں کے نشانات کسی جگہ چھوڑدوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں شرپسند عناصر کو ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کررہا ہوں”۔

یہاں تک کہ حکومتی اراکین کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ جنوری میں وزیر داخلہ پی چدم برم نے اس پروگرام پر شدید اعتراضات کئے تھے۔انھوں نے کہا کہ یہ ڈیٹا قابل اعتبار نہیں، کیونکہ کوئی بھی شخص کسی بھی نام اور پتے کے ساتھ اس میں رجسٹر ہوسکتا ہے۔ اس اعتراض پر حکومت نے مسئلے کا حل یہ نکالا کہ اس منصوبے کو نئی شکل دیدی گئی۔ اب اس منصوبے کے تحت ڈیجیٹل ڈیٹابیس تیار کیا جائے گا، تاکہ دو افراد کو ایک ہی نمبر کا شناختی کارڈ جاری نہ ہوسکے۔یہ منصوبہ پارلیمنٹ سے منظور نہیں کرایا گیا، تاہم اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس طرح کے منصوبے چلانے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم عوامی تحفظات کو دیکھتے ہوئے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اس خیال کو مسترد کردیا، جس کے باعث منصوبے کو شدید دھچکا لگا ہے۔ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں نے بھی ڈیٹا پر خدشات کا اظہار کیا ہے، Gopal Krishna، ایک این جی او Citizen’s Forum for Civil Liberties کے رکن ہیں۔ جو اس منصوبے کے خلاف جارحانہ مہم چلارہے ہیں۔

گوپال کرشنا(male) “تین کمپنیوں کو بائیومیٹرک ڈیٹا میں موجود غلطیوں کو درست کرنے کا کام سونپا گیا ہے، مگر درحقیقت یہ کمپنیاں اس ڈیٹا کو امریکی ادارے سی آئی اے کے ریکارڈ کا حصہ بنارہے ہیں۔یہاں تک کہ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹرز بھی اس عمل کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔یہ لوگ ایک ایسا دروازہ بنارہے ہیں، جس کے ذریعے یہ جاسوس ان ڈیٹا کمپنیوں میں کام کرسکیں۔ اپنی ویب سائٹس پر کمپنیوں نے خود کو امریکی قومی سلامتی کا نجی نگہبان قرار دیا ہے۔جو کمپنیاں امریکی مفادات کیلئے کام کررہی ہوں وہ کس طرح ہمارے مفادات کا تحفظ کرسکتی ہیں؟”

تاہم حکومت پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔ یشونت سنہا اپوزیشن پارٹی بی جے پی کے رہنماءہیں۔

سنہا(male) “یہ ایک اچھا منصوبہ ہے مگر حکومت کو چاہئے کہ سب کو ساتھ لیکر اس پر کام کرے۔ تمام حکومتی اداروں کو اس عمل کا حصہ بننا چاہئے، جبکہ ڈیٹا کی سیکیورٹی کو ہر صورت میں یقینی بنایا جانا چاہئے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *