انیس سو چوراسی کے بھوپال گیس سانحے کے متاچرین نے مسلسل ریلیاں نکلانے کا فیصلہ کیا ہے، اس مہم کا مقصد انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کو زرتلافی کا مطالبہ منوانا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
بھوپال گیس سانحے کے سو سے زائد متاثرین بینزر اٹھائے مارچ کررہے ہیں، جس پر لکھا ہے کہ زرتلافی پہلے اور ووٹ بعد میں، گیس سے متاثرہ علاقوں میں واقع گھروں پر بھی یہی نعرہ پینٹ کیا گیا ہے۔ تین دہائی قبل ایک امریکی کمپنی کے پلانٹ سے گیس خارج ہونے سے ہزاروں افراد ہلاک جبکہ پانی کی سپلائی آلودہ ہوگئی۔55 سالہ نواب خان کا کہنا ہے کہ انہیں اب بھی سانس کے مسائل کا سامنا ہے۔
نواب”لوگ ابھی تک متعدد امراض جیسے کینسر وغیرہ کا شکار ہورہے ہیں، مگر حکومت ہمیں متاثرین کے طور پر قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ان لوگوں کو نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے اور علاج کیلئے بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، حکومت ہمیں کسی قسم کی زرتلافی اور سہولیات دینے کیلئے تیار نہیں”۔
اس واقعے کو دنیا کے چند بڑے صنعتی سانحات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں درپیش مسائل کے مقابلے میں منصفانہ معاوضہ نہیں دیا گیا۔ مئی سے جاری اس احتجاج کے دوران یہ ساتویں ریلی ہے، بلکرشنا نمدیو ایک گروپ ، بھوبال گیس ایفیکٹڈ ڈیسٹیٹیوٹ پینشنرز فرنٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔
بلکرشنا”ہماری انصاف نہیں تو ووٹ نہیں، مہم گیس متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے چلائی جارہی ہے۔ہم چاہتے ہیں حکومت ان پچاس لاکھ سے زائد متاثرین کو معاوضہ دے جنھیں زرتلافی دینے سے انکار کردیا گیا ہے۔ ہم تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی طاقت دکھا کر ثابت کرنا چاہتے ہیں ہم صرف ان کی حمایت کریں گے جو گیس متاثرین کیلئے جدوجہد کریں گے۔ ہم پہلے انصاف چاہتے ہیں، اس کے بعد ہی ہم انہیں ووٹ دیں گے”۔
متاثرین کے کئی گروپس نے اپنی مہم کی حمایت کیلئے سیاسی جماعتوں کو خطوط لکھے ہیں، پنکج چاتُر ویدی حکمران جماعت کانگریس کے ترجمان ہیں۔
پنکج”ہم جانتے ہیں کہ بھوپال کے گیس متاثرین کی مشکلات ختم نہیں ہوسکی ہیں، ہم ان کی مشکلات کو سمجھتے ہیں، اگر کوئی ادارہ گیس متاثرین کے حوالے سے کوئی معاملہ ہمارے نوٹس میں لاتا ہے تو ہم ان کی ہرممکن طریقے سے مدد کیلئے تیار ہیں”۔
تاہم گزشتہ سال نیویارک کی ایک عدالت نے گیس سانحے کی ذمہ دار سمجھے جانے والی امریکی کمپنی یونین کابائڈ کے خلاف مقدمہ خارج کردیا تھا، جس سے انصاف کی تلاش کیلئے چلائی جانے والی مہم کو دھچکا لگا۔ اس فیصلے کے بعد متاثرین کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، اس کے بعد گزشتہ ماہ بھوپال کی ضلعی عدالت کے فیصلے سے متاثرین کے اندر امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی، جس نے انتطامیہ کو ہدایت کی کہ امریکی کمپنی کو سمن ارسال کیا جائے۔ عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے اہم قدم قرار دیا۔ بلکرشنا نمدیوکا کہنا ہے کہ متاثرین اس فیصلے سے خوش ہیں۔
بلکرشنا”ہمیں لگ رہا ہے کہ اب ڈاﺅ کیمیکل کیلئے اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانا آسان نہیں ہوگا، یہ کمپنی ضلعی عدالت کے حکم سے انکار کرنے کی ہمت نہیں کرسکتی”۔
گیس سانحے سے متاثرہ فیکٹری میں ابھی تک زہریلا فضلہ موجود ہے، چندرا بوشاننئی دہلی کے ادارے سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔
چندرا”گزشتہ برسوں کے دوران یہ فضلہ زمینی اور زیرزمین پانی میں آلودگی کا سبب بنتا رہا ہے، جس کی وجہ سے ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں میں سنگین اقسام کے طبی مسائل پیدا ہورہے ہیں۔اس فیکٹری کے گرد موجود زیرآب پانی معدنیات سے آلودہ ہوگیا ہے اور سرطان کا سبب بن رہا ہے”۔
ریلی میں واپس چلتے ہیں جہاں متاثرین وعدہ کررہے ہیں کہ وہ رواں برس نومبر یعنی انتخابات تک اپنی مہم جاری رکھیں گے۔