India’s Anti-Corruption Helpline Gets Thousands of Callsبھارتی انسداد بدعنوانی ہیلپ لائن

بھارتی دارالحکومت کی نئی حکومت نے کرپشن کیخلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیا ہے، اس سلسلے میں ایک نئی ہیلپ لائن متعارف کرائی گئی جس پر عوام سے رشوت خوروں کے بارے میں اطلاع دینے کی درخواست کی گئی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

علی الصبح انتہائی سردی کے باوجود دہلی سیکرٹریٹ کے باہر انتہائی سرگرمی دیکھنے میں آرہی ہے، یہاں ہزاروں مرد و خواتین دہلی حکومت کی عوامی عدالت میں شریک ہیں، یہ عام آدمی پارٹی کا تازہ ترین اقدام ہے جس کا مقصد عوام سے رابطے کو یقینی بنانا ہے۔وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ یہاں آکر لوگوں کے مسائل سن رہے ہیں، متعدد افراد کی طرح 28 اٹھائیس سالہ آنشو مان بھی یہاں موجود ہیں۔

آنشو مان”اروند کجروال اچھے شخص ہیں اور میں صرف ان سے ایک بار ملنا چاہتا ہوں، میں ان سے ملکر ملازمت چاہتا ہوں، مجھے ملازمت کی بہت زیادہ ضرورت ہے، مگر مجھے اب وہ نہیں مل سکی، مجھے یقین ہے کہ وہ میرے لئے ضرور کچھ کریں گے”۔

حکمران جماعت نے گزشتہ ماہ کانگریس کے پندرہ سالہ دور اقتدار کا خاتمہ کرکے دہلی کا تخت سنبھالا تھا، عام آدمی پارٹی نے عوامی زندگی سے کرپشن کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا اور اس حوالے سے اقتدار میں آنے کے بعد کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔

ان اقدامات میں انسداد بدعنوانی ہیلپ لائن بھی شامل ہے جسے گزشتہ دنوں متعارف کرایا گیا اور یہ بہت مقبول ثابت ہورہی ہے۔ اس ہیلپ لائن کے ذریعے کالرز کو ایسے عہدیداران کیخلاف اسٹنگ آپریشن کیلئے حوصلہ دیا جاتا ہے جو رشوت مانگتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کجروال اس بارے میں بتارہے ہیں۔

کجروال”لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ کرپٹ حکام کیساتھ اپنی گفتگو اس کام کی تفصیلی کیساتھ ریکارڈ کرلیں جس پر رشوت مانگی جارہی ہے، اور رقم دینے کے مقام سے بھی آگاہ کریں، اس ریکارڈنگ کو سننے کے بعد انسداد بدعنوانی محکمہ کے افسران ایک ٹریپ کے ذریعے رشوت خور عہدیداران کو رنگے ہاتھوں پکڑیں گے”۔

انکا کہنا ہے کہ کرپشن بہت زیادہ پھیل چکی ہے اور اس کی جڑیں بہت گہری ہیں، اور اس کا خاتمہ عام عوام کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

کجروال”اس اقدام کے ذریعے ہم نے دہلی کے ہر شہری کو کرپشن کے خلاف سپاہی بنادیا ہے، اور اس جنگ کیلئے ان ہتھیار ان کے اپنے فون ہیں، اس آئیڈئیے کا مقصد کرپٹ افراد کے دلوں میں خوف پیدا کرنا ہے، وہ ہمیشہ اس خوف کیساتھ زندگی گزاریں گے کہ کوئی شخص ان کی گفتگو ریکارڈ نہ کرلیں، ہمارا پیغام واضح ہے کہ اپنا راستہ تبدیل کرلو یا پھر جیل جانے کیلئے تیار ہوجاﺅ، اس کے لئے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں”۔

اس ہیلپ لائن پر عوامی ردعمل مثالی ہے اور پہلے ہی روز چار ہزار سے زائد کالز آئیں، 72 سالہ مہندر پال سنگھ اس سہولت کو استعمال کرنے والے اولین افراد میں شامل ہیں، انھوں نے ایک کامیاب اسٹنگ آپریشن کے ذریعے ایک فراڈ کوآپریٹو سوسائٹی کو بے نقاب کیا۔

سنگھ”میں گزشتہ چار سال سے اس مسئلے کو اٹھا رہا تھا، میں نے متعدد بار شکایات بھی درج کرائیں، اور سابقہ حکومت کے ہر افسر سے رابطفہ کیا، مگر میں ایک کیس بھی رجسٹر کرانے میں ناکام رہا۔ حکام نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا اور اب میں انہیں ایک ہی روز میں گرفتار کرانے میں کامیاب ہوگیا ہوں، اس سے میرا نظام پر اعتماد پھر بحال ہوگیا ہے”۔

اب واپس عوامی عدالت جسے جنتا دربار کا نام دیا گیا ہے، چلتے ہیں، جہاں ہزاروں افراد موجود ہیں، وزیرعلیٰ چند عہدیداران کیساتھ براہ راست ہجوم میں آگئے اور خود شکایات لینے لگے۔ دیگر سیاسی جماعتیں عام آدمی پارٹی کی بڑھتی مقبولیت پر خود کو پریشان محسوس کررہی ہیں، وہ اس ایونٹ کو فلاپ شو قرار دے رہی ہیں۔وجے گوئل اپوزیشن جماعت بی جے پی کے سنیئر رہنماءہیں۔

وجے گوئل “آپ متوازی نظام قائم نہیں کرسکتے، اگر آپ قابل ہوں اور باضابطہ طریقے سے کام کرسکیں تو موجودہ نظام بہت اچھا ہے، اس طرح کے ایونٹ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے ہتھکنڈے اور عام انتخابات میں زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ تاہم اگر ان کے ارادے ٹھیک نہ ہو تو وہ زیادہ عرصے تک کام نہیں کرسکیں گے”۔

تاہم وزیراعلیٰ کجریوال سے ملنے میں ناکامی کے باوجود متعدد افراد کے کسی قسم کے منفی جذبات دیکھنے میں نہیں آرہے، سماجی کارکن انکت گپتاکا کہنا ہے کہ وہ ایک انقلاب کے شاہد ہیں۔

انکت گپتا”مہاتما گاندھی نے ایسے راج کا خواب دیکھا تھا جس میں عام شہری کسی بھی رہنماءسے کہیں بھی مل سکتے ہوں، اور وہ فیصلہ سازی میں یکساں طا
قت رکھتے ہوں، اور یہ اس عہد کا آغاز ہے، ہم آج ایک اور گاندھی کو دیکھ رہے ہیں جو ایک اور تحریک آزادی کی جدوجہد چلا رہا ہے، اور وہ یہ جنگ جیتے گا کیونکہ عوام اس کے ساتھ ہیں۔ وہ ہر چیز کو ٹھیک کردے گا”۔