اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک خاتون کو اپنی زندگی کے دوران تشدد یا جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے دو سو سے زائد ممالک میں ایک مہم کا آغاز ہوا ہے۔
سینکڑوں خواتین جے پور کے علاقے سٹیٹ سرکل پر جمع ہیں،یہ خواتین نعرے لگاتے ہوئے صنف نازک پر تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کررہی ہیں۔
بھنوری دیوی بھی اس ہجوم میں شامل ہیں۔
بیس برس قبل بھنوری دیوی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس وقت وہ بچوں کی شادیوں کیخلاف احتجاج کررہی تھیں، چونکہ ان کا تعلق نچلی ذات سے تھا اس لئے عدالت نے زیادتی کا ذمے دار بھی بھنوری دیوی کو ہی قرار دیدیا تھا۔ تاہم ریاستی حکومت نے اس فیصلے کیخلاف اپیل دائر کی، جس کے بعد بھنوری دیوی کو انصاف دلانے کیلئے ملک گیر مہم شروع ہوگئی۔اس سانحے کو کئی برس گزر جانے کے باوجود راجھستان ہائیکورٹ میں یہ اپیل بدستور زیرالتوا ہے۔
بھنوری دیوی ” اتنے سال گزر جانے کے باوجود میری لڑائی ابھی تک ختم نہیں ہوئی، میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی چاہے فیصلہ جو مرضی سامنے آئے۔ انصاف کیلئے میری جدوجہد حکومتی نااہلی کی مثال ہے۔ میں اپنی ذات کیلئے نہیں لڑ رہی بلکہ معاشرے اور تمام خواتین کیلئے جدوجہد کررہی ہوں”۔
انہیں اب بھی دھمکیاں ملتی ہیں، جبکہ جسمانی حملے بھی ہوتے رہتے ہیں۔
بھنوری دیوی “ میں ہمت نہیں ہاروں گی، میں بھارتی خواتین کو ہراساں اور ہدف بنانے کے طریقے پر مشتعل ہوں، مجھے حکومت کی غفلت پر غصہ ہے جو کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ میرے خیال میں ملزمان کو فوری طور پر پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہئے”۔
متعدد سماجی کارکن بھی بھنوری دیوی کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں، ان میں ہی سے ایک آرون رائے بھی ہیں۔
آرون رائے“ وہ گزشتہ پچس یا تیس سال سے جدوجہد کررہی ہے، وہ دیہی پس منظر رکھتی ہے مگر اس کی انصاف کیلئے جدوجہد یہ بات غیراہم ہے کہ آپ کا تعلق دیہات سے ہے یا شہر سے، آپ ان پڑھ ہیں یا پڑھے لکھے، اہم امر یہ ہے کہ آپ کے اندر نظام کے خلاف لڑنے کی ہمت ہو۔ ہماری ریاستی حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے کیونکہ ایک ان پڑھ خاتون نے پوری قوم کو انصاف کیلئے اپنی جدوجہد سے چونکا دیا ہے۔ہمیں سماجی اور انتظامی سطح پر انصاف کی فراہمی کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے، ہمیں اس کی زندگی کے خاتمے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے، اسے قوم اور عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے مگر اس کے باوجود اس کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی”۔
بھارت نے حال ہی میں جنسی زیادتی کیخلاف سخت قوانین کی منظوری دی ہے، جس کے تحت اجتماعی زیادتی یا کسی نچلی ذات کی خاتون سے زیادتی کی سزا بیس سال کی کردی گئی ہے، جبکہ کچھ حالات میں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔ تاہم بھارتی خواتین گروپس کا کہنا ہے کہ اس قانون میں مسلح افواج کے اہلکاروں کے جنسی حملوں اور شوہر کے ہاتھوں زیادتی سے متعلق قوانین بھی شامل کئے جانے چاہئے۔
راجھستان کی گورنر ماگریٹ ایلوا خواتین کیخلاف تشدد کے خاتمے کیلئے مظاہرہ کرنے والے گروپ کی قیادت کررہی ہیں۔
ششما 12 ویں جماعت کی طالبہ ہیں، انکا کہان ہے کہ تمام لڑکیوں کو بھنوری دیوی کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہئے۔
ششما” ہم لڑکیوں کو بھی اسی بھگوان نے بنایا ہے جس نے ان درندوں کو تخلیق کیا، جو نہ صرف ہمارے جسموں کو روندتے ہیں بلکہ ہماری روحیں بھی ان کے ظلم سے کچل جاتی ہیں۔ لڑکیوں کو اپنے کام، بات یا انداز بدلنے کیلئے نہ کہا جائے، بلکہ اپنے بیٹوں کو ایک لڑکی کا احترام کرنا سیکھائے”۔