Indian Sex Workers in Mass Marriage بھارتی جسم فروش خواتین کی اجتماعی شادی

India mass marriage بھارتی اجتماعی شادی

بھارتی ریاست گجرات کے ایک گاﺅں Vadia کوجسم فروش خواتین کا گاﺅں بھی کہا جاتا ہے۔ تاہم اب وہاں ایک انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے اجتماعی شادیوں کا انعقاد ہوا ہے، تاکہ خواتین کو ان کے بدترین پیشے سے باہر نکالا جاسکے

تین ہزار کے لگ بھگ افراد Vadiaگاﺅں میں ہونیوالی تقریب میں شریک ہیں، آٹھ دلہنیں رنگارنگ روایتی ساڑھیوں میں ملبوس ہیں، جبکہ سہرے پہنے مردوں نے روایتی لباس کے ساتھ ہاتھوں میں تلواریں اٹھا رکھی ہیں۔ 23 سالہ دولہن نے نام چھپاتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

دلہن(female)”میں شادی کرکے ایک پرامن اور اچھی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ میں نے اپنے ہونے والے شوہر کو اپنے ماضی کے بارے میں بتادیا ہے، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری زندگی کو خوشیوں سے بھر دے گا”۔

ایک بائیس سالہ دولہا بھی ایسی ہی ایک خاتون سے شادی کررہا ہے، اور اسے توقع ہے کہ شادی کے بعد اس کی بیوی اپنا کام چھوڑ دے گی۔

دولہا(male)”شادی بہت زبردست تجربہ ہے، میں آج بہت خوش ہوں اور مجھے اپنی بیوی کے ماضی کی پروا نہیں۔میں اسے ہر ممکن حد تک خوش رکھنے کی کوشش کروں گا”۔

اس گاﺅں میں جسم فروشی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک لڑکی Hemi Sarania نے اس روایت کیخلاف بغاوت کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کام کرنے کی بجائے شادی کرنا چاہتی ہے۔ جس کے بعد اس خیال نے برادری میں مقبولیت حاصل کرلی۔ وجے بھٹ مقامی سرکاری افسر ہیں۔

وجے(male)”یہاں کی خواتین صدیوں سے اس کام کو کررہی ہیں، تاہم ہمیں توقع ہے کہ اس طرح کی مداخلت سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ہم نے محسوس کیا ہے کہ جب ایک بار کسی لڑکی کی شادی ہوجاتی ہے تو وہ اپنے پیشے سے باہر نکل جاتی ہے”۔

بھارت میں جسم فروشی غیر قانونی ہے اور اس سے منسلک خواتین کو معاشرتی نفرت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد ایک این جی او Vicharta Samuday Samarthan Manch نے کیا۔ Mittal Patel اس این جی او کی سربراہ ہیں۔

Mittal Patel(female)”غربت وہ بڑی وجہ ہے کہ جس کے باعث دیہاتی اپنی لڑکیوں کو اس پیشے میں لے آتے ہیں۔ وہ اس پیشے سے منسلک افراد سے قرضہ لیتے ہیں جسے واپس نہیں کرپاتے، جس کے بعد وہ افراد ان کی بیٹیوں کو اس پیشے میں لانے کیلئے دباﺅ ڈالتے ہیں۔ ہم ان خواتین کی متعدد طریقوں سے مدد کررے ہیں، ہم انہیں گھروں میں متبادل روزگار فراہم کرتے ہیں، اس طرح ہم ان کا اعتماد جیت لیتے ہیں، اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اگر کسی لڑکی کی شادی ہوجائے تو اسے جسم فروشی میں نہ لانے کی روایت قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اس تقریب کا انعقاد کیا ہے”۔

رمیش پٹیل پوری تقریب میں مسکراتے نظر آئے، تقریب میں انکی بہن کی شادی اور بیٹی کی منگنی ہوئی، یہ دونوں جسم فروشی کا کام کررہی تھیں۔

رمیش(male)”میں بہت بہت زیادہ خوش ہوں، میری بہن اور بیٹی بھی خوش ہیں، Mittal نے ہم سب کو انتہائی شاندار موقع فراہم کیا ہے، اس نے ہمیں قائل کیا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ اب یہ لڑکیاں دوبارہ اپنے پیشے کی طرف لو ٹیں گی”۔

اب مقامی حکومت نے بھی اجتماعی شادیوں کی حمایت شروع کردی ہے۔ ضلع کے سربراہ JB Vora نے شادی کی تقریب میں تمام دولہنوں کو عروسی لباس بطور تحفہ دیا تھا۔

JB Vora(male)”یہ تقریب ریاستی حکومت، سماجی گروپس اور مقامی افراد کی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، یہ تمام دولہنیں اٹھارہ سال سے زائد عمر کی ہیں، جن کی شادیاں مقامی برادریوں کے نوجوانوں سے ہورہی ہیں، اس تقریب میں اٹھارہ سال سے کم عمر بارہ لڑکیوں کا رشتہ طے ہوگیا ہے اور جلد انکی شادیاں بھی ہوجائیں گی”۔

تاہم ہر شخص اس تبدیلی سے خوش نہیں، خصوصاً خواتین کے مرد رشتے دار، انہیں اپنی آمدنی کھونے کا ڈر ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے افراد نے Mittal Patel کو دھمکی آمیز فون بھی کئے۔

Mittal(female)”پانچ لڑکیاں شادی کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئیں، کیونکہ ان کے خاندانوں کو قرض دینے والے افراد نے دھمکیاں دیں اور اپنی رقم واپس مانگی۔ یہاں صورتحال کافی کشیدہ ہوگئی تھی، تاہم ہمیں اس وقت خوشی ہوئی جب چودہ دیگر خواتین نے اس تقریب میں شرکت کی”۔

کچھ لڑکیوں کے رشتے داروں نے دھمکیوں کیخلاف پولیس میں شکایت درج کرائی اور تقریب کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ گاﺅں کے سربراہ Sarju Patel اس نئی تبدیلی سے خوش ہیں۔

Sarju Patel (male)”یہ میرے گاﺅں کی تاریخ میں جسم فروش خواتین کی پہلی اجتماعی شادی ہے۔ گاﺅں کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے میں اس پیشے کے باعث لوگوں کے طعنوں سے بیزار آچکا تھا، مجھے خوشی ہے کہ اس شادی کے ذریعے ہم نوجوان لڑکیوں کا استحصال ختم کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے، میں اپنے تمام حمایتیوں کا شکرگزار ہوں”۔

تاہم بہت سی مشکلات اس راہ میں حائل ہیں، ان میں سے ایک مقامی گروپ Mukti Dhara Sanstha ہے۔جو خواتین کی شادیوں کی بجائے انہیں ملازمت دینے کا مطالبہ کررہا ہے۔ Ratan Karyani اس گروپ کے کو آرڈنینٹر ہیں۔

Ratan Karyani(male)”میں نے پہلے کئی لڑکیوں کی شادیاں کرائی ہیں، مگر وہ ناکام رہیں۔ ہمیں ان لڑکیوں کے لئے مکمل بحالی نو کے پروگرام کے بارے میں سوچنا ہوگا، انہیں ملازمت کے موقع دینے ہوں گے، شادیاں کرانا اس مسئلے کا حل نہیں”۔

اگرچہ حکومت کی جانب سے گاﺅں کے افراد کو ملازمتوں کی پیشکش نہیں کی گئی، تاہم بہت سے افراد کا ماننا ہے کہ یہ شادی لڑکیوں کے برسوں پرانے استحصال کو روکنے کا ذریعہ بنے گی۔ JB Vora کا کہنا ہے کہ اس سے خواتین کا وقار بحال ہوگا۔

JB Vora(male)”یہ لمحہ معاشرے میں آنیوالی تبدیلی پر خوشی منانے کا ہے۔ ہمیں تبدیلی کو خوش آمدید کہنا چاہئے جس سے بہت سی زندگیاں بدل جائیں گی”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *