قانون کے مطابق تمام بھارتی اسکولوں میں چودہ سال کی عمر تک کے طالبعلموں کو مفت کھانا فراہم کیا جانا چاہئے، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہی نہیں، جبکہ بیشتر کو اسکولوں کے معیار تعلیم پر اعتراض ہے، مگر نئی دہلی کے ایک دکاندار نے اس رجحان کو تبدیل کرنا کابیڑہ اٹھایا ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
یہ راجیش کمار کے کام کا وقت ہے، جو اپنی دکان پر عام گھریلو اشیاءفروخت کرتے ہیں، تاہم انکا حقیقی جنون بچوں کو پڑھانا ہے۔
انھوں نے نئی دہلی کے ایک ریلوے پل کے نیچے اسکول قائم رکھا ہے، جہاں چار سے چودہ سال کی عمر کے بچوں کو بنیادی تعلیم دی جاتی ہے، یہ سب کچرے چننے والے، مزدوروں اور سائیکل رکشے چلانے والوں افراد کے بچے ہیں۔
ان بچوں کا کہنا ہے کہ وہ لکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ ڈاکٹر یا فوج کا حصہ بننا چاہتے ہیں، راجیش کا کہنا ہے کہ وہ پیشہ وار استاد نہیں، انھوں نے گریجویشن کا آخری سال بھی مالی مشکلات کے باعث پورا کرنے کا موقع نہیں ملا۔
راجیش”یہ بنیادی طور پر کوئی اسکول نہیں اور نہ ہی اس کی رجسٹریشن ہوئی ہے، یہاں طالبعلم صرف دو گھنٹے کیلئے آتے ہیں، ہم ایک اور اسکول بھی چلارہے تھے، مگر اب اس زمین پر ایک شاپنگ سینٹر بن رہا ہے، ریلوے پل کے نیچے والا اسکول بچوں کیلئے زیادہ محفوظ ہے”۔
اس اسکول کا تمام سامان ایک بڑے ڈبے میں آجاتا ہے اور یہاں کوئی کرسی یا میزبھی نہیں،ریلوے پل اسکول کی چھت کا کام کررہا ہے، یہاں کے فرش پر چٹائیاں بچھی ہوئی ہیں۔
راجیش”یہ اسکول کچی بستیوں کے بہت قریب ہیں، جہاں غریب بچے رہائش پزیر ہیں، ہمارا مقصد انہیں خودمختار، پراعتماد اور مشتاق بنانا ہے، تاکہ وہ اپنے مستقبل کو بہتر بناسکیں۔ یہ بچے کلاس کے بعد اپنے گھر یا کام پر چلے جاتے ہیں”۔
اس وقت اسکول میں ساٹھ کے قریب بچے زیرتعلیم ہیں، بارہ سالہ بابر علی بھی ان میں شامل ہے۔
اسکول کے بعد بابر ایک قریبی ریسٹورنٹ میں کام کرتا ہے، وہ چھ گھنٹے تک چلنے والے عام اسکول میں جا نہیں سکتا، مگر دو گھنٹے کی کلاس نے اسے تعلیم کے حصول کا موقع فراہم کردیا ہے۔
بابر”میں ایک دن ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں، کیونکہ مجھے نمبرز پسند ہے اور مجھے انگریزی بولتے ہوئے بہت اچھا لگتا ہے”۔
اجے منڈال بھی اس اسکول میں پڑھتا رہا ہے، یہاں سے پڑھ کر اس نے امتحانات میں اچھے نمبر لیکر سرکاری اسکول میں داخلہ لیا، اب وہ ایک گورنمنٹ اسکول میں 8 ویں کلاس میں پڑھ رہا ہے۔
اجے”اس اسکول کی بدولت مجھے اپنے شہر کے بڑے سرکاری اسکول میں داخلے کا موقع ملا، ہمارے استاد نے ہمیں اخلاقی اقدار سمیت متعدد چیزیں سیکھائیں،اب ہم بہتر مستقبل کے راستے پر رواں دواں ہیں”۔
آج کے دن اسکول کا وقت پورا ہوگیا ہے، بچے اپنے گھروں یا کام کی جگہوں پر جارہے ہیں، جے پرکاش یادو ایک سائیکل رکشہ ڈرائیور ہے، وہ اپنے چار سالہ بیٹے شیو کو لینے آیا ہوا ہے۔
جے”بچوں کو مفت تعلیم اور کتابیں مل رہی ہیں، اس طرح وہ مصروف رہتے ہیں اور انہیں نئی چیزیں سیکھنے کا بھی موقع ملتا ہے”۔
راجیش اب اپنی دکان پر جارہے ہیں۔
راجیش”اپنی برادریی کی خدمت کے بعد اب میں کام پر واپس جارہا ہوں تاکہ اپنے خاندان کیلئے کچھ کما سکوں”۔