(Indian politicians’ cartoon crackdown)بھارتی سیاستدانوں کے کارٹونوں پر تنازعہ

 

بھارتی حکومت نے علم سیاسیات کی تدریسی کتب میں سے متنازعہ سیاسی کارٹون ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی آئین، بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور دیگر کے یہ کارٹون مختلف سیاستدان ملکی توہین کے مترادف سمجھتے ہیں۔

سینکڑوں صحافی، کارٹونسٹ، طالبعلم، اساتذہ، سماجی کارکن اور این جی اوز کے عہدیداران اس مباحثے میں شریک ہیں، اور وہ حکومت کی جانب سے تدریسی کتب میں سے کارٹون ہٹانے کے فیصلے پر تنقید کررہے ہیں۔

Rabina Sen اس مباحثے میں شامل ہیں، وہ ریاست راجھستان کے شہر جے پور کے ایک نجی اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ کارٹون بھارتی آئین کی تیاری کے مراحل کی عکاسی کرتے ہیں۔

 (female) Rabina Sen “ہم ان کارٹونوں میں Ambedkar یا نہرو پر توجہ دینے کی بجائے صرف آئین کی تیاری کے مراحل کو دیکھتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئین سازی کا عمل کتنا سست تھا۔ ہم بچوں کو بتاتے ہیں کہ بھارت میں بہت سے گروپس ہیں اور یہاں ان کے باہمی تضادات بہت زیادہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ آئین سازی کے عمل میں وقت لگا۔ ان کارٹونوں سے یہ مواد دلچسپ ہوجاتا ہے، کیونکہ بچے کارٹونوں کو پسند کرتے ہیں۔ ان کو کتابوں سے ہٹانے کا فیصلہ درست نہیں”۔

ان کارٹونوں میں دکھایا گیا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو ہاتھ میں چابک اٹھا کر وزیر قانون B.R. Ambedkar کا پیچھا کررہے ہیں، جن کے ہاتھ میں بھی چابک ہے۔ ایک جگہ دکھایا گیا ہے کہ B.R. Ambedkar ایک گھونگے پر بیٹھے ہیں، جسے بھارتی آئین قرار دیا گیا ہے۔ ان کارٹونوں کو1949ءمیں اس وقت کے معروف کارٹونسٹ شنکر نے تیار کیا تھا،جو ایک ہفت روزہ جریدے میں چھپے تھے۔ان کارٹونوں کو 2006ءمیں ہائی اسکولوں میں پڑھائی جانے والے سیاسیات کی کتب کا حصہ بنایا گیا تھا۔ Mandeep Saluja یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کررہے ہیں، وہ چار سو میل دور سے اس مباحثے میں شرکت کیلئے آئے ہیں۔Mandeep Saluja کا سوال ہے کہ آخر 63 سال پرانے یہ کارٹون اچانک متنازعہ کیوں قرار دیدیئے گئے ہیں۔

 (male) Mandeep Saluja “میرے خیال میں ان کارٹونوں کو کتابوں سے نہیں ہٹایا جانا چاہئے، ان کے ذریعے

ہمیں مختلف چیزیں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ان سے کتابیں زیادہ دلچسپ اور پرکشش ہوجاتی ہیں۔ سیاسی رہنماءآج کل اس معاملے کو اچھال کر لوگوں کی توجہ اہم مسائل جیسے کرپشن اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے وغیرہ سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں زیربحث نہیں آنا چاہئے”۔

یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطفال نے National Council for Educational Research and Training کے وفد سے ملاقات کی۔ یہ کونسل سیاسیات کی تدریسی کتب تیار کرنے کی ذمہ دار ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے اس ملاقات کے دوران 9ویں سے 12 ویںجما عت کی کتابوں میں موجود کارٹونوں پر اعتراضات اٹھائے۔ Harsimrat Kaur Badal ایک چھوٹی جماعت Shiromani Akali Dal سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انھوں نے وزیر تعلیم کو تدریسی کتب میں متنازعہ کارٹون شامل کرنے کی اجازت دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

 (female) Harsimrat Kaur “آخر وزیر تعلیم یہ کیوں نہیں دیکھ رہے کہ تدریسی کتب میں کیا پڑھایا جارہا ہے؟ آخر ان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سخت اقدام کیوں نہیں کیا جارہا”۔

پارلیمنٹ میں اس معاملے پر شدید تنقید کے بعد حکومت نے کارٹونوں پر معذرت کرتے ہوئے اسے کتابوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔وزیرتعلیم Kapil Sibbal کا کہنا ہے کہ سیاسیات کی تمام کتابوں میں موجود دیگر کارٹونوں پر بھی نظرثانی کی جائے گی۔

 (male) Kapil Sibbal “میں نے دیکھا ہے کہ تدریسی کتب میں زیادہ تر کارٹون نامناسب اور متنازعہ ہیں۔ حکومت مناسب طریقہ کار کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات دوبارہ نہ ہوں”۔

National Council for Educational Research and Training کے دو مشیر اس تنازعے پر مستعفی ہوچکے ہیں۔ Yogendra Yadav ان میں سے ایک ہیں۔

 (male) Yogendra Yadav “ہم کتابوں کو زندگی دینا چاہتے ہیں، ہم انہیں مفید بنانا چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ بچے اپنی رائے خود قائم کریں اور ہم انہیں ہنسانا، غصہ کرنا اور کسی عمل میں شامل ہونے کی تربیت بھی دینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے 9 ویں سے لیکر 12 ویںجما عت تک تمام کتابوں میں سینکڑوں کارٹون شامل کئے”۔

یہ بھارت میں آزادی اظہار رائے پر عدم برداشت کی تازہ مثال ہے، متعدد ہندو انتہا پسند اس سے قبل بھارت کے پکاسو مرحوم ایم ایف حسین کو ہندو دیوی اوردیوتاﺅں کی تصاویر بنانے پرہدف بناچکے ہیں۔ہندو گروپس نے ایم ایف حسین کے گھر پر حملہ کرکے تمام تصاویر نذرآتش کردی تھیں۔معروف کارٹونسٹ Sudheer Tailang کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی پر پابندیاں نہیں ہونی چاہئے۔

 (male) Sudheer Tailang “ابتداءمیں انتہاپسندوں کو انٹرنیٹ سے مسئلہ تھا، اب وہ ٹیوئیٹر، فیس بک اور ہر اس فورم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جہاں لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے۔ آج Ambedkar کے کارٹون پر اعتراض ہورہے ہیں تو جلد وہ تمام کتب میں موجود سیاستدانوں کے کارٹونوں کو بھی ناقابل برداشت قرار دیدیں گے۔ اس صورتحال میں آپ مستقبل سے کیا توقعات رکھ سکتے ہیں؟ مجھے تو لگتا ہے کہ تدریسی کتب کے بعد ان کا ہدف اخبارات میں چھپنے والے کارٹون ہوں گے”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *