Water Problems آلو دہ پا نی کا استعما ل

پانی زندگی ہے اوراگر یہی پانی آلودہ ہو کر ہما رے استعمال میں آئے تو اِسکے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔آبادی میں تیزی سے ہوتا اضافہ ،کارخانوں فیکٹریوں سے نکلنے والا فضلہ اور زہریلہ اخراج ہمارے ماحول کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کو بھی آلودہ کر رہا ہے، جسکی وجہ سے معدے اور آنتوں کی کئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں،پاکستان ہیلپ لائن میڈیکل سینٹر سے منسلک ڈاکٹرسِلوت عسکری کا کہنا ہے کہ پینے کیلئے صاف پانی کا حصول عام آدمی کیلئے بے حددُشوارہے :
سمندروں میں صنعتی فضلے کا اخراج اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں صاف پانی کی دستیابی تقریبا ً ناممکن ہو چکی ہے۔ایسے میں منرل واٹر کے استعمال کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ، لیکن اس حوالے سے بھی کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں منرل واٹر یا سپلائی کئے جانے والے پانی کے کین کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہیں ڈاکٹرسِلوت عسکری کا اس بارے میں کہنا ہے:
سیوریج لائنز کی لیکیج اور پینے کے پانی میں سیوریج کی ملاوٹ صحت کے سنگین مسائل کو جنم دے رہی ہے خصوصاً بڑے شہروں میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔اسکے علاوہ پائپ لائنز میں لیڈ کے استعمال سے بھی صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ڈاکٹرسِلوت عسکری کا کہنا ہے کہ پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کیلئے خاص طور پرصاف پانی کا حصول خاصا دشوار ہے اور ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ منرل واٹر بھی افورڈ نہیں کر سکتا ایسے میں کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے معدے اور آنتوں کی بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے:
صحت کے مسائل پر قابو پانے کیلئے صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا نا چاہئیے۔اسکے علاوہ کارخانوں اور فیکٹریوںسے نکلنے والے فضلے کا اخراج مناسب طریقے سے ہونا چاہئیے تاکہ ماحول کی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔جبکہ ماحولیاتی آلودگی سمندری حیات کیلئے بھی شدید ترین خطرہ ہے۔اسکے علاوہ آلودہ پانی میں کاشت کی جانی والی سبزیاںاور آلودہ پانی میں رہنے والی سمندری حیات کے استعمال سے بھی صحت کے مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔اسکے علا وہ سب سے اہم بات ،واٹر پائپس اور اِنکی لیکیج کی مناسب چیکنگ بے حد ضروری ہے تاکہ پینے کے پانی میں آلودہ پانی کی ملاوٹ پر قابو پایا جا سکے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *