(India rebel girls) بھارت کی باغی لڑکیاں
(Shaikh Azizur Rahman) شیخ عزیزالرحمان
بھارتی قوانین کے تحت کم عمری کی شادیوں پر سختی سے پابندی عائد ہے، تاہم یونیسیف کا کہنا ہے کہ دنیا میں بچوں کی شادیوں کے حوالے سے بھارت سب سے آگے ہے، خاص طور پر مغربی بنگال میں کم عمر بچوں کی شادیوں کا رجحان بہت زیادہ ہے، تاہم اب وہاں لڑکیوں نے اس کے خلاف بغاوت کا فیصلہ کرلیا ہے۔
پندرہ سالہ Bithika Das مغربی بنگال میں لڑکیوں کیلئے اس وقت ایک مثالی شخصیت بن گئی جب اس نے کم عمری میں شادی کرنے سے انکار کردیا۔
Bithika Das(female)”میرے والدین نے گزشتہ برس میری شادی کی تیاریاں مکمل کرلی تھیں، اس وقت میری عمر چودہ سال اور میں نہم جماعت کی طالبہ تھی۔ میرا اس وقت ماننا تھا کہ شادی کیلئے میری عمر بہت کم ہے اور میں اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے والدین سے کہا کہ میں جلدی شادی نہیں کرنا چاہتی”۔
Bithika Das کے والدین یہ بات سن کر خوفزدہ ہوگئے تھے، کیونکہ اس ریاست میں لڑکیوں کی شادی کو غربت سے نجات کا موقع مانا جاتا ہے۔
Bithika Das(female)”میں نے اپنے اندر ہمت جمع کی اور چائلڈ ہیلپ لائن سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد ہیلپ لائن کے حکام ہمارے گھر آئے اور میرے والدین سے بات کی اور میری شادی رکوا دی۔ اب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہوں اور خودانحصار بننا چاہتی ہوں”۔
مغربی بنگال میں بچوں کے تحفظ کیلئے کام کرنیوالی ایک این جی او ہے، اسی نے Bithika کی مدد کی تھی۔ Debika Ghoshal اس این جی او کی قانونی مشیر ہیں۔
Debika Ghoshal(female)”جب ہم بچوں کی شادی روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر والدین کہتے ہیں کہ چھوٹی عمر میں بیٹیوں کی شادیوں پر زیادہ جہیز نہیں دینا پڑتا جبکہ بڑی عمر کی بیٹیوں کی شادیوں پر دولہا کو زیادہ پیسے دینا پڑتے ہیں۔ والدین کہتے ہیں کہ مرد زیادہ نوجوان دولہنوں کو ترجیح دیتے ہیں”۔
Debika Ghoshal اس طرح کے معاملات پر وہ والدین کو تاخیر سے ہونیوالی شادیوں کے فوائد بتاتی ہیں۔
Debika Ghoshal(female)”ہم والدین کو بتاتے ہیں کہ اگر وہ اپنی بیٹیوں کی شادیاں کم عمری میں بھی کریں جہیز تو دینا ہی ہوگا، تاہم اگر ان کی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیںتو وہ مستقبل میں ایک تعلیم یافتہ مرد ہی ان سے شادی کرے گا۔ اور پھر زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ شخص جہیز کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ انہیں بتاتے ہیں کہ ایک چھوٹی بچی پر اس کے شوہر کی جانب سے تشدد کئے جانیکا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس طرح کے مظالم کیخلاف جدوجہد نہیں کرسکتی، تاہم اگر وہ صحیح عمر کی اور تعلیم یافتہ ہو تو وہ بے خوفی سے اس طرح کے تشدد کیخلاف کھڑی ہوسکتی ہے”۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران مغربی بنگال کے دیہاتی علاقوں میں اٹھارہ سال سے کم عمر پچاس لڑکیوں نے اپنی شادیوں کو چائلڈ ہیلپ لائن کے تعاون سے رکوایا ہے۔ان میں پندرہ سالہ Adori Pradhan بھی شامل ہیں۔
Adori Pradhan(female)”دیہات میں لوگوں کا ماننا ہے کہ خواتین کی زندگی کا واحد مقصد ہی شادی ہے۔ان علاقوں میں خواتین کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ نسل آگے بڑھائے گی، خاندان کی دیکھ بھال اور گھر کے کام وغیرہ کرے گی، جیسے کوئی جبری مزدور، میں اس سوچ کو مکمل طور پر تبدیل کرنا چاہتی ہوں”۔
Adori Pradhan اب اٹھارہ سال کی ہوچکی ہیں اور وہ اپنا مستقبل روشن بنانے کیلئے جدوجہد کرنے کیلئے تیار ہیں۔
Adori Pradhan(female)”میں دکھانا چاہتی ہوں کہ لڑکیاں صرف گھریلو کاموں ہی کی ماہر نہیں، بلکہ وہ تعلیم حاصل کرسکتی ہےںاور زندگی میں کامیابیاں حاصل کرسکتی ہیں۔ میں ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ خواتین کمزور یا ناکارہ نہیں۔ میں دنیا کو دکھانا چاہتی ہوں کہ خواتین بھی مردوں کی طرح زندگی کے ہر شعبے میں کام کرسکتی ہیں”۔
جنوری میں مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد سے تعلق رکھنے والی Adori، Bithika اور دیگر تین لڑکیوں کو بھارتی صدر Prathibha Patil نے اپنی رہائش گاہ میں مدعو کیا۔ صدر نے ان لڑکیوں کو تبدیلی کی علامت قرار دیا۔
Prathibha Patil(female)”آپ لوگ ہمارے لئے امید کی کرن ہیں، آپ ہمارے ملک کے مستقبل کی مشعل ہو، جب ہماری لڑکیاں اس طرح اپنی ہمت اور دانشمندی کا اظہار کریں گے تو ہم جلد ہی بڑی سماجی تبدیلیوں کو رونما ہوتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ ہمارا ملک اس وقت ترقی کرے گا جب ہر لڑکا اور لڑکی آگے بڑھے، تعلیم حاصل کرے اور سماجی طور پر باشعور ہو”۔
Adori کی والدہ Pushpa Pradhan کو اب اپنی بیٹی پر فخر ہے۔
پشپا(female)”ہمارے ملک کی صدر نے اسے سراہا ہے، ہر جگہ سے لوگ آکر میری بیٹی کو دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ عظیم ہے۔ میری بیٹی اچھی تعلیم حاصل کررہی ہے اس لئے لوگ اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہیں۔ جب اسے مستقبل میں اچھی ملازمت مل جائے گی تو وہ مزید مشہور ہوجائے گی۔ میں بہت خوش اور اس پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ اب میں اسے شادی کرنے کا نہیں کہوں گی، اب وہ یہ فیصلہ خود اپنی مرضی سے کرے گی”۔
Adori اس وقت یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔
Adori(female)”میں اس وقت شادی کروں گی جب میں ایک مکمل عورت بن جاﺅں گی۔ اس وقت میں زیرتعلیم ہوں، اور مجھے اچھی ملازمت ملنے کا پورا یقین ہے۔ اس کے بعد مجھے اپنی اعلیٰ سماجی حیثیت کی بناءپر یقیناً بہت اچھا شوہر مل سکے گا، اگر میرے پاس بہت اچھی تنخواہ والی ملازمت ہوگی، تو میری سسرال یقیناً بہت اچھا محسوس کرے گی اور ہماری زندگیاں خوش و خرم گرے گی”۔
2007ءمیں بھارتی حکومت نے کم عمری کی شادیوں کے خلاف انتہائی سخت ترین قوانین نافذ کئے تھے، مگر 2009ءمیں کئے گئے حکومتی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ مغربی بنگال میں 50 فیصد دلہنیں کم عمر ہوتی ہیں۔ حکومت نے اس کے بعد درجنوں این جی اوز کے ہمراہ ملکر ان لڑکیوں کی مدد اور حقوق کے تحفظ کا کام شروع کیا۔ Anindya Chaudhury مرشد آباد میں محکمہ سماجی بہبود کے سربراہ ہیں۔
Anindya Chaudhury(male)”ابتدا میں ہمیں لوگوں کی جانب سے اچھا ردعمل نہیں ملا، مگر جب ہم نے این جی اوز اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کراقدامات کرنا شروع کئے، تو آہستہ آہستہ لوگوں کا رویہ تبدیل ہونے لگا، اب ہمیں لڑکیوں کی جانب سے فون آتے ہیں، جو کم عمری کی شادیوں کا شکار ہوتی ہیں، ہمارا سوچنا ہے کہ آہستہ آہستہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر اس پروگرام کو ختم کردیں گے”۔
Child In Need Institute سے تعلق رکھنے والی Debika Ghoshal کا ماننا ہے کہ یہ ہیلپ لائن سروس بچوں کی شادیوں کی روک تھام کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہے۔
Debika Ghoshal(female)”جب ہم والدین کو سمجھاتے ہیں تو اکثر واقعات میں وہ قائل ہوجاتے ہیں اور انہیں کم عمر بچی کو شادی کے بعد درپیش مشکلات کا احساس ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اچھی تعلیم لڑکیوں کی شادی سے قبل بہت ضروری ہے، اس طرح اکثر وہ اپنی بچیوں کی شادیاں کرانے کا منصوبہ ختم کردیتے ہیں”۔
Bithika اس وقت میٹرک کے امتحانات کی تیاری کررہی ہے، وہ ایک استاد بنا چاہتی ہے اور مستقبل میں بچوں کی شادیاں رکوانے کیلئے کام کرنا چاہتی ہے۔
Bithika(female)”میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ایک اچھی استاد بننا چاہتی ہوں۔ میں ایسی لڑکیوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں جو پیچھے رہ گئی ہیں اور تاریکی میں پوشیدہ ہیں۔میں ان کیلئے کھڑا ہونا چاہتی ہوں، میں انہیں پڑھانا چاہتی ہوں، کیونکہ تعلیم ذاتی خود انحصاری کیلئے سب سے بڑا اثاثہ ہے”۔
ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی Bithika کی والدہ رینکی داس کا اب ماننا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کی شادی روک کر اچھا فیصلہ کیا ہے۔
رینکی(female)”غربت کے باعث پہلے میں سوچتی تھی کہ اس کی شادی کردینا زیادہ بہتر ہوگا، مگر جب وہ تعلیم حاصل کررہی ہے اور اچھی زندگی کا خواب دیکھ رہی ہے تو مجھے بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے۔ اب میں نے بھی خواب دیکھنا شروع کردیا ہے کہ وہ انتہائی کامیاب عورت بن گئی ہے، مجھے اس پر فخر ہے، میں چاہتی ہوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرے۔مجھے یہ سوچ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ میری بیٹی اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرتی جارہی ہے”۔
