India struggles to deal with slowing growth, plunging rupee – بھارتی معاشی سست روی

بھارت کو توقع ہے کہ اس کے مرکزی بینک کے نئے گورنر ملک کو درپیش اقتصادی بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکیں گے، چند برس قبل بھارت آٹھ فیصد سالانہ کی رفتار سے ترقی کررہا تھا، مگر اب حالات تبدیل ہوگئے ہیں اور بحران بڑھتا جارہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

بھارتی معیشت میں سست روی کا عمل کئی برس سے جاری تھا مگر گزشتہ ہفتے اس میں شدت اس وقت آئی جب بھارتی روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی۔گزشتہ چار ماہ کے دوران روپے کی قدر میں پندرہ فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے، چدم برم بھارت کے وزیر خزانہ ہیں۔

چدم برم”عالمی سست روی اور کچھ مقامی عناصر کے باعث بھارتی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، گزشتہ بارہ ماہ کے دوران حکومت نے مہنگائی کو روکنے جبکہ سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں، جس کے کچھ نتائج تو سب کے سامنے ہیں تاہم اب بھی متعدد مسائل پر قابو پانا باقی ہے”۔

ڈاکٹر ناتا راج گیتھن جالی ماہر معیشت ہیں، انکا کہنا ہے کہ ایشیاءکی تیسری سب سے بڑی معیشت کو ہر شعبے میں مسائل کا سامنا ہے۔

ناتاراج”صنعتی شعبے کی پیداوار کم ہورہی ہے، کرنٹ اکا?نٹ خسارہ بڑھ رہا ہے، جبکہ شرح بیروزگاری بھی اوپر جارہی ہے اور جی ڈی پی کی شرح نمو کم ہوگئی ہے، مجموعی طور پر پوری معیشت کی کارکردگی بہت بری جارہی ہے”۔

تاہم بھارتی روپے کی قدر میں کمی کی ایک بڑی وجہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ ہے، جس کی وجہ خام تیل اور سونے کی درآمد ہے۔ ڈاکٹر ناتا راج کا کہنا ہے کہ اتحادی حکومت مسائل سے نمٹنے میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہورہی۔

ناتا راج”حکومت کرپشن اسکینڈلز میں پھنسی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے معیشت کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا ہے”۔

حکومت اقتصادی مسائل سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے، مرکزی بینک نے مداخلت کرتے ہوئے زیادہ حکومتی بونڈز خرید لئے ہیں، جبکہ بیرون ملک رقم لیکر جانے کی حد مقرر کردی گئی ہے، تاہم ماہر معاشیات بھٹیا سینٹینڈر کا کہان ہے کہ یہ پالیسیاں زیادہ کارآمد نہیں۔

بھتیا”جب تک معیشت مضبوطی نہیں دکھاتی، مانیٹری اقدامات موثر ثابت نہیں ہوسکیں گے، تو صرف مانیٹری اقدامات مددگار نہیں ہوسکتے،چاہے آپ شرح سود، ڈیوٹیز وغیرہ بڑھا بھی دیں تو بھی کچھ نہیں ہوگا بلکہ اس سے بحران میں مزید اضافہ ہوگا”۔

تاہم اس مسائل کو نمٹنے کیلئے مقرر کئے گئے راجن رگھورن کیلئے کچھ اچھی خبریں بھی ہیں، وہ عالمی مالیاتی فنڈ میں چیف اکنامکسٹ کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں اور بھارتی حکومت کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، تاہم اب انہیں مرکزی بینک کا گورنر مقرر کیا گیا ہے اور ان سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔

تاہم ڈاکٹر ناتا راج زیادہ پرامید نہیں۔

ڈاکٹر ناتا راج”اگرچہ وہ بہت پرعزم، ذہن اور معاشی معاملات کو سمجھتے ہیں، تاہم انہیں بیوروکریسی کی متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں حکومت کو پالیسی اصلاحات کیلئے قائل کرنے میں کافی مشکل کا سامنا ہوگا”۔

انکا کہنا ہے کہ بھارتی معیشت کے تازہ آغاز کیلئے نیا موقع آئندہ سال شیڈول انتخابات کے بعد ملے گا۔

ناتا راج”میرے خیال میں ہر شخص مہنگائی سے تنگ ہے، قیمتیں بہت اوپر چلی گئی ہیں اور معاشی بڑھوتری نہ ہونے کے برابر ہے، یہاں بیروزگاری موجود ہے، جرائم کی شرح بہت زیادہ ہوگئی ہے اور اگر آپ نئی دہلی میں جرائم کی شرح کو دیکھیں تو اس میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، ڈکیتیوں، جنسی اور دیگر جرائم میں خوفناک اضافہ ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ لوگوں کا غصہ ہے، انہیں ملازمتوں کی ضرورت ہے، ان کے پاس رقم نہیں اور میرے خیال میں مجموعی معاشی صورتحال عام عوام کیلئے بہت خراب ہے”۔