لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے باعث کئی پاکستانی فوجی اور عام شہری شہید ہوچکے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، مگر دوسری جانب بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سارا الزام پاکستان پر عائد کررہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
نئی دہلی کے ایک بس اسٹاپ پر ایک ہندو قوم پرست گروپ کے درجنوں اراکین لاہور جانے والی بس کو گھیرے کھڑے ہیں، یہ لوگ پاکستان کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دوستی بس سروس کی بندش کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہندو سینا نامی اس گروپ کا سربراہ وکی چوہدری ہے۔
چوہدری”پاکستان نے ہمارے فوجیوں کو مارا ہے، وہ ہم پر حملہ کررہا ہے ، اب بہت ہوگیا، پاکستان کیلئے کوئی بس یا ٹرین نہیں چلے گی، ہم کسی کو اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے”۔
پاک بھارت کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارت کی جانب سے پاکستانی فوج پر مقبوضہ کشمیر میں اس کے پانچ فوجیوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا گیا، بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے یہ الزام عائد کیا۔
انتھونی”یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اس حملے میں پاکستانی فوج ملوث ہے، جس نے لائن آف کنٹرول عبور کرکے یہ کام کیا، ہم سب جانتے ہیں یہ کام پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں”۔
تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کردیا، سلمان بشیر بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر ہیں۔
سلمان بشیر”حکومت پاکستان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاک فوج یا اس کا کوئی شعبہ اس واقعے میں ملوث نہیں، پاکستانی حکومت اس کی ذمہ دار نہیں اور نہ ہی پاکستانی مسلح افواج کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے”۔
کچھ دن بعد لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جارحیت میں دو پاکستانی فوجی اور ایک شہری شہید ہوگیا۔
پاکستانی پارلیمنٹ نے بھارتی جارحیت کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کی، جس کے جواب میں بھارت میں قرارداد منظور کی گئی، بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی آئندہ ماہ اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے نیویارک میں ملاقات متوقع ہے،تاہم سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بھارتی حکومت پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ دوطرفہ بات چیت کا عمل روک دے۔وکائیا نیدو بی جے پی کے سنیئر رہنماءہیں۔
نیدو”حکومت موجودہ خطرات سے نمٹنے کیلئے کیا کررہی ہے؟ وہ کس طرح پاکستان سے بات چیت کا سوچ سکتی ہے؟ پاکستان سے اس وقت تک مذاکرات نہیں کئے جاسکتے جب تک وہ بھارت کیخلاف دہشتگردی کی حوصلہ افزائی کاسلسلہ ختم نہیں کردیتا”۔
امن پسند حلقے جیسے حکمران جماعت کانگریس کے اہم رہنماءمانی شنکر ایئر کا اصرار ہے کہ بات چیت اور امن ہی جوہری صلاحیت رکھنے والے دونوں ممالک کیلئے واحد حل ہیں۔
مانی شنکر”اگر کسی وجہ سے ہم پاکستان سے بات چیت نہیں کرتے تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، میرا ماننا ہے کہ ہم آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ سکتے ہیں، یہی جنگ کا واحد متبادل ہے، یہی امن کا واحدحل ہے”۔