India-EU Trade Agreement Under Fire -بھارت اور یورپی یونین کا آزاد تجارت کا معاہدہ تنقید کی زد پر

بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ یافری ٹریڈ ایگریمینٹ پر بات چیت حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہے، ایک طرف بھارت اپنی برآمدات بڑھانا چاہتا ہے، وہیں دوسری جانب یورپی یونین بھی بھارت کی ترقی کرتی مارکیٹ میں آزادانہ رسائی چاہتی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ایک ہزار سے زائد طبی رضاکار اور ایڈز، تپ دق اور کینسر کے مریض نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ یہ مظاہرین بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے یا ایف ٹی اے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان لوگوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے ہیں، جن پر لکھا ہے ہماری زندگیوں کی تجارت نہ کرو، اور ہماری ادویات سے ہاتھ دور رکھو۔

سیٹینڈر چوہدری ایچ آئی وی کے شکار ہیں، وہ بھی ان مظاہرین میں شامل ہیں۔

چوہدری”یہ ہماری زندگیوں اور موت کا معاملہ ہے، اگر یہ معاہدہ ہوگیا تو ہمیں اپنی تمام آمدنی ادویات پر خرچ کرنے پڑے گی، پھر میرے خاندان اور میرے بچوں کا کیا ہوگا؟ کیا ہم بھیک مانگیں گے یا اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے چور بن جائیں گے؟”

یورپی یونین اور بھارت کے درمیان ایف ٹی اے کیلئے بات چیت چھ برس سے جاری ہے، بھارت اپنی برآمدات کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری میں اضافہ چاہتا ہے، جبکہ یورپی یونین بھارتی مارکیٹ میں اپنے بینکنگ شعبے اور کنزیومر مصنوعات کی آزادانہ رسائی چاہتی ہے۔ یورپی یونین نے اس سلسلے میں بھارت سے کاپی رائٹس پر سخت کنٹرول اور کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی تیار کردہ ادویات کے حوالے سے ڈیٹا تیار کرنے کا مطالبہ کررکھا ہے۔ ایک وکیل اور طبی رضاکار کاجل بھردواج ا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو مارکیٹ سے سستی دیسی ادویات کا خاتمہ ہوجائے گا۔

کاجل”اگر ہم ادویات کا کلینکل ٹرائل کرائیں گے تو ہمیں اپنا ڈیٹا انڈین کے پاس جمع کرانا ہوگا، اور ایک یہ ڈیٹا مرتب ہوگیا تو ہم کوئی اور دیسی دوا رجسٹر نہیں کراسکیں گے”۔

انکا کہنا ہے کہ یورپی یونین اس ڈیٹا کو بھارت کی جانب سے ادویات کو رجسٹر کرنے عمل کو پس پشت ڈالنے کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

بھردواج “بھارتی قوانین کے تحت کسی دوا کو اس وقت تک پیٹینٹ نہیں کرایا جاتا جب تک وہ بالکل نئی نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں بیرون ملک ہوتا کچھ یوں ہے کہ ایک کمپنی دو ادویات کو ایک گولی کی شکل دیکر پیٹینٹ کیلئے درخواست دے دیتی ہے، اور پھر اس گولی کو شربت بناکر پھر پیٹیٹنت کی درخواست دیتی ہے۔ اور یہ عمل اسی طرح آگے بڑھتا جاتا ہے”۔

حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک سوئس کمپنی کی جانب سے کینسر کی ایک دوا کی پیٹینٹ درخواست مسترد کردی تھی، اس فیصلے کا بہت زیادہ خیرمقدم کیا گیا تھا۔ لون گونگٹ کا تعلق دہلی نیٹورک آف پوزیٹیو پیپلز سے ہے، وہ چاہتے ہیں کہ حکومت سپریم کورٹ کی عوام کے امور صحت سے متعلق حقوق کا تحفظ کرے۔

لون “ہم لوگوں کو اپنی زندگیوں کی تجارت کی اجازت نہیں دے سکتے، بھگوان نے ہمیں صرف ایک زندگی دی ہے اور یہ برائے فروخت نہیں۔ نو وارٹس نے مجھے مارنے کی کوشش کی، جسے سپریم کورٹ نے روک دیا، اب یہاں مزید پانچ سے چھ افراد مجھے ایف ٹی اے کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مجھے توقع ہے اور مجھے اپنی حکومت اور سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ انصاف کریں گے اور مجھ سمیت ایسے لاکھوں افراد جو بھارتی ادویات پر انحصار کرتے ہیں، کی زندگیاں بچائیں گے”۔

بھارت میں اسی فیصد سے زائد جینرک تیار کی جاتی ہیں، بیشتر ترقی پذیر ممالک اپنی طبی ضرورت پوری کرنے کیلئے بھارتی ادویات پر انحصار کرتے ہیں، خصوصاً ایڈز کے علاج کیلئے۔شیبا، ایڈز کے مریضوں کیلئے کام کرنے والے ادارے ایشیا ءپیسیفک نیٹورک سے تعلق رکھتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بھارت کو یورپی یونین کا دباﺅ مسترد کردینا چاہئے۔

شیبا”ترقی پذیر ممالک میں ساٹھ لاکھ سے زائد افراد ایچ آئی وی کے مریض ہیں، جن کی زندگی کی بقاءہی بھارت میں تیار ہونے والی سستی اور معیاری ادویات پر ہے۔تو اگر یہ آزاد تجارت کا معاہدہ یورپی کمیشن کی شرائط پر طے پاگیا تو ہمیں یہ سپلائی لائن بند کرنی پڑے گی”۔

حکومت کو بھی یورپی یونین سے مذاکرات خفیہ رکھنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایک پارلیمانی کمیٹی نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ اب اپوزیشن جماعت بی جے پی نے حکومت سے فوری طور پر یہ مذاکرات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مرلی منوہر جوشی بی جے پی کے سنیئر رہنماءہیں۔

جوشی”آخر حکومت کو اتنی جلدی کیوں ہے؟ اس معاہدے کے حوالے سے سنجیدہ معاملات کو تحمل مزاجی سے حل کئے جانے کی ضرورت ہے، مگر حکومت ملک پر ایک غیرمنصفانہ معاہدہ بغیر کسی مشاورت کے تھوپنا چاہتی ہے۔ اب تک اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی گئی، آخر ہمیں یورپی یونین کی معیشت اپنے کاشتکاروں، غریب مریضوں اور ڈیری مصنوعات بنانے والوں کی قیمت پر بہتر بنانے کی کیا ضرورت ہے؟”