(India and Pakistan playing better neighbors) پاکستان اور بھارت بہتر پڑوسی بننے کی راہ پر

پاکستان اور بھارت کے دوطرفہ تعلقات میں بہتری آرہی ہے اور دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کرلیا ہے۔ تاہم کچھ اختلافات بھی سر اٹھا رہے ہیں۔

نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر تجارت آنند شرما اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ہونیوالی پیشرفت پر اظہار اطمینان کررہے ہیں۔

شرما(male)”دونوں ممالک کا سیاسی عزم واضح ہے۔پاکستان اور بھارت اپنے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں”۔

آنند شرما کا یہ دورہ تاریخی تھا کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی بھارتی وزیر تجارت نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ڈیڑھ سو رکنی تجارتی وفد کی قیادت کے دوران شرما نے اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ تجارتی حجم اور سرمایہ میں اضافے کے مواقع پر بات چیت کی۔ ملاقاتوں کے سلسلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں دوگنا اضافے اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے حوالے سے تین معاہدوں پر دستخط ہوئے۔دونوں ممالک نے اپنے تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

شرما(male)”ہم ویزے کا حصول آسان بنانا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں دونوں ممالک نے مفاہمتی یاداشت کا تبادلہ کیا ہے۔ ویزے کے حصول کے طریقہ کار کو آسان بنانے کا کام جلد ہوگا۔ اس کے علاوہ ہم اپنے تجارتی لیڈرز کو طویل المعیاد ویزا فراہم کریں گے”۔

دونوں ممالک کے تاجروں نے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر اقتصادی تعلقات سے دیگر تنازعات کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ کشمیر ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ دلیپ مودی Associated Chambers of Commerce and Industry of India کے صدر ہیں۔

دلیپ مودی(male)”تاجر برادی کے مفاد میں ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے درمیان کاروباری اعتماد میں اضافہ کریں، کاروباری سرگرمیوں سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔ میرے خیال میں اگر دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی پل تعمیر ہوجائے تو اس سے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا، جس سے آگے بڑھنے میں مدد ملے گی اور دونوں حکومتیں دیگر

سیاسی معاملات پر بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں گی”۔

پاکستان رواں سال دسمبر سے بیشتر بھارتی مصنوعات کی درآمد پر عائد پابندیوں کو ختم کرے گا۔ پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ تجارتی ملک قرار دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ شرط ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی رکنیت کیلئے بھی لازمی ہے۔ بھارت نے پاکستان کو طویل عرصے سے یہ درجہ دے رکھا ہے، تاہم پاکستانی حکومت مقامی دبا? کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر رہی۔شجاع قریشی ایک پاکستانی صحافی ہیں۔

 

قریشی(male)” Most Favored Nation کی اصطلاح کو اس کے اردو ترجمے کے باعث پاکستان میں منفی شکل میں لیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ایسا ملک جسے آپ سب سے زیادہ پسند کرتے ہوں، بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے پاکستانی عوام کی اکثریت حیران ہوتی ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہے”۔

تاہم بہت سے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے باہمی تجارت میں بہتری آئے گی، جبکہ پاک بھارت معیشتوں کو غیر قانونی تجارت سے ہونیوالے نقصانات سے نجات ملے گی۔ گزشتہ برس پاک بھارت غیرقانونی تجارتی حجم قانونی تجارت کے مقابلے میں دوگنا زیادہ تھا۔ امتیاز مرزا پاک بھارت تجارت کے حوالے سے تشکیل دئیے جانیوالے کور گروپ کے رکن ہیں۔

مرزا(male)” ایم ایف این اسٹیٹس کے تحت ہم بھارت کے ساتھ دیگر ممالک کی طرح تجارت کرسکتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ اس وقت ہماری باضابطہ تجارت کا حجم دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر ہے، مگر بلاواسطہ طور پر یعنی دیگر ممالک کے راستے جیسے دبئی یا سنگاپور کے ذریعے ہونیوالی تجارت کا حجم دس ارب ڈالرز سے زائد ہے۔ اس کے باعث قومی خزانے کو ٹیکسوں کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ ہماری مصنوعات کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر ہمارے صارفین پر ہی پڑتا ہے”۔

بھارتی وزیر تجارت کے فوراً بعد بھارتی پارلیمنٹ کی اسپیکر میرا کمار نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔میرا کمار اور ان کی پاکستانی ہم منصب ڈاکٹرفہمیدہ مرزا برصغیر کی پہلی دو خواتین اسپیکرز ہیں۔ ان دونوں نے ملاقات کے دوران دوستانہ تعلقات کے فروغ ،پاک بھارت پارلیمنٹس کے ملکر کام کرنے اور دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے کا عزم ظاہر کیا۔

میراکمار(female)”ہم نے آگے بڑھنے کیلئے آغاز کردیا ہے اور ہمیں کوئی روک نہیں سکتا۔ ہم میں سے بیشتر افراد امن اور اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں، جو ایسا نہیں چاہتے ان کی تعداد بہت کم ہے”۔

پاک بھارت دوستی کے امکانات نظر ضرور آرہے ہیں مگر متعدد افراد کا کہنا ہے کہ اہم تنازعات حل کئے بغیر یہ مثبت پیشرفت جلد دم توڑ جائے گی۔ مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان پانی کا تنازعہ بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا

ہے۔ شکیب شیرانی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر معیشت ہیں۔

شیرانی(male)”آئندہ چند برسوں بعد پانی کے تنازعے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ اور اگر بھارت نے پاکستانی آبی وسائل سے دستبرداری کا رویہ اختیار کیا تو یہ خطے میں امن اور استحکام کیلئے تجارتی تعلقات سے زیادہ بڑا اقدام ثابت ہوگا”۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان دریا?ں کی ملکیت کے حوالے سے کافی تنازعات موجود ہیں، پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت اس کے دریا?ں پر ڈیم تعمیر کرکے پانی کا رخ موڑ رہا ہے،جس کے باعث اسے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *