Illegal loggers join elephant patrols to save Indonesians elephants from extinction – انڈونیشین ہاتھی

انڈونیشین جزیرے سماٹرا میں انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان تنازعہ سنگین اختیار کرگیا ہے، جیسے جیسے رہائشی علاقے سکڑ رہے ہیں، ہاتھی کھیتوں کو کھانے اور کچھ جگہ تو کاشتکاروں کو بھی ہلاک کرنے لگے ہیں، اس کے جواب میں ہاتھیوں کو زہر دیکر مارا جارہا ہے، جس سے ان کی بقاءکو خطرہ لاحق ہوگیا ہے، اگرچہ انڈونیشیاءمیں ہاتھیوں کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے، اب اس سلسلے میں ایک پٹرولنگ ٹٰم تشکیل دی گئی ہے، جس کو کچھ کامیابی بھی ملی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

اور رینجرز آتشبازی کے ذریعے ہاتھوں کو یہاں سے ڈرا کر نیشنل پارک کی جانب ہانکنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ چھ ہاتھی ہیں، جن میں سے ایک بچہ ہے جس کی کھال ابھی تک گلابی ہے، ان میں دو کا رخ کافی کی فصل کی جانب ہے، جبکہ دیگر یہاں وہاں گھوم رہے ہیں۔

پیمیری ہاں گاﺅں کے خوفزدہ کاشتکار نے اس ایلیفنٹ پٹرولنگ ٹیم کو اس وقت بلایا جب ہاتھیوں کو ان کے علاقے میں آئے ایک ہفتہ گزر گیا، ایک نوجوان ماں روتے ہوئے اپنے بچے کو دیکھ رہی ہے۔

ینگ مدر”میں بتانہیں سکتی کہ مجھے کیسا محسوس ہورہا ہے، ذرا تصور کریں گے ہمیں کیسا محسوس ہورہا ہے، ہمارابچے ابھی چھوٹے ہیں”۔

آپ خوفزدہ کیوں ہیں؟

مان”میں فکرمند ہوں، میں بتانہیں سکتی کہ میں کتنی خوفزدہ ہوں، وہ ہماری زمین کے بہت قریب ہیں”۔

موہونٹ ایفیان ایفیندی اس حوالے سے وضاحت کررہے ہیں۔

ایفیندی”ماضی میں یہ ہاتھی ایسے ہی یہاں وہاں گھومتے رہتے تھے،وہ یہاں سے گزر کر دوسری جانب جاتے تھے اور پھر واپس آجاتے تھےہیں، لیکن اب یہاں گھر بن چکے ہیں، تو اس لئے وہ رک گئے ہیں، ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ان کا قدرتی سفر رک گیا ہے، کیونکہ گھروں کی تعداد کافی زیادہ ہوچکی ہے”۔

سماٹرا کے ہاتھی اب تک اپنے رہائشی علاقوں کے ستر فیصد حصے سے محروم ہوچکے ہیں، ان کے جنگل تیزی سے زرعی زمین میں تبدیل ہورہے ہیں، ایک طرف گاﺅں والے ان ہاتھیوں سے خوفزدہ ہیں تو دوسری جانب ان ہاتھیوں کی نسل کے ہی خاتمے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ رینجر فلپس سم ون، باریسان نیشنل پارک سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اس بارے میں بتارہے ہیں۔

فل”اگر ہاتھیوں کیلئے قائم پٹرولنگ ٹیم نہ ہو تو یہاں کی مقامی برادری کو لگے گا کہ کوئی ان کا خیال رکھنے کیلئے تیار نہیں، اور پھر ان کیلئے ہاتھیوں کو مارنا زیادہ آسان ہوجائے گا، جس سے ہاتھیوں کی نسل کو مزید خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ مگر جب سب ہم نے اس پٹرولنگ ٹیم کو تشکیل دیا ہے، ہاتھوں کی نسل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے”۔

ایک چھوٹا سا دریا سوکیپٹو کی زمین کو بوکٹ باریسان نیشنل پارک سے الگ کرتا ہے،اسکو ئپٹو کا خاندان جاوا سے یہاں آیا ہے، ہر ہفتے ہاتھی یہاں آکر ان کی فصلوں کا صفایا کرجاتے ہیں، دو سال قبل ایک رات جب اسکو ئپٹو کے والد ہاتھیوں کو ہٹانے کی کوشش کررہے تھے وہ ہاتھی کی ٹکر سے ہلاک ہوگئے،اسکو ئپٹو اور اس کے بھائی بے بسی سے یہ منظر دیکھتے رہ گئے۔

اسکوئپٹو”میں نے وہ پورا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ دو ہاتھی تھے، انھوں نے میرے والد کو کچل ڈالا، ہم نے بہت شور مچایا مگر ہاتھیوں نے اس کی کوئی پروا نہیں کی، وہ اس وقت تک اپنا کام کرتے رہے جب تک میرے والد مر نہیں گئے”۔

اسکو ئپٹو کے کزن مسکون جینڈن کا کہنا ہے کہ کاشتکار نیشنل پارک اور ہاتھیوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔

مسکن”ہم نے نیشنل پارک انتظامیہ سے کہا تھا کہ آخر وہ ہاتھیوں کا خیال کیوں نہیں رکھتے؟ وہ اس نسل کو تحفظ دینا چاہتے ہیں مگر اس کیلئے وہ انہیں ہماری زمینوں کو تباہ کرنے کیلئے بھیچ دیتے ہیں، یہی وہ نکتہ ہے جس پر نیشنل پارک کے عملے اور مقامی برادری کے درمیان لڑائی جاری ہے”۔

اس تناﺅ کی صورتحال میں عالمی ماحولیاتی گروپ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے ایلیفنٹ پٹرولنگ ٹیم تشکیل دی گئی، اور اس کے بعد سے مسکن کا کوئی رشتے دار ہلاک نہیں ہوا اور وہ اس پٹرولنگ ٹیم میں شامل ہوکر مہاوت بن گئے ہیں۔

مسکن”میں نے کہا تھا کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا مگر انھوں نے کہا کہ وہ مجھے اس کی تربیت دیں گے، جس پر میں تیار ہوگیا”۔

سوال”پہلے آپ ہاتھیوں کے بارے میں کیا سوچتے تھے؟

جینڈن”میں ان سے ڈرتا تھا، میں انہیں کوئی آفت تو نہیں سمجھتا تھا مگر جب وہ یہاں آتے تھے تو ان سے ڈرتا ضرور تھا، اگر میں ان کے قدموں کی آواز بھی سن لیتا تو یہاں سے بھاگ جاتا”۔

مگر اب پٹرولنگ ٹیم روزانہ اس علاقے میں گشت کرتی ہے، اس کے ایک تجربہ کار مہاوت ہیرو سینتوسو ہاتھیوں کو پارک کی جانب لے جاتے ہیں، ایک ہاتھی پر سواری کے دوران وہ بتارہے ہیں کہ وہ آخر ان کا خیال کیوں رکھتے ہیں۔

سینتوسو”غیرقانونی طور پر کٹائی کرنے والے کافی سرگرم ہیں، ہم یہاں انہیں نیشنل پارک میں داخلے سے روکنے کیلئے موجود ہیں، جب وہ ہمیں ہاتھیوں کیساتھ دیکھتے ہیں تو وہ بھاگ جاتے ہیں، نوے فیصد کاشتکاروں نے غیرقانونی طریقے سے نیشنل پارک کی زمین پر قبضہ کرکے کاشت کی ہے، جنھیں اب یہاں سے نکالا جارہا ہے”۔

یہ لوگ چوبیس گھنٹے اپنے کام کیلئے تیار رہتے ہیں، اور سدھائے ہوئے ہاتھیوں کے ذریعے جنگلی ہاتھیوں کو زرعی زمین سے واپس نینشل پارک کی جانب لے جاتے ہیں، اگر وہ ہاتھیوں کے علاقے میں داخل نہ ہوسکے تو آتشبازی کو انہیں بھگانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

سومارانی کا خاندان ان غیرقانونی کاشتکاروں میں سے ایک تھا جو نیشنل پارک کے اندر کاشتکاری کا کام کرتے ہیں، وہ ہاتھیوں کو ایک خطرے کی نظر سے دیکھتے تھے۔مگر اب ان کا ان بڑے جانوروں سے قریبی تعلق قائم ہوگیا ہے۔

سومارانی کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنے خاندان کو بھی اس کی تربیت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

سومارانی”میں انہیں نیشنل پارک کے کردار اور ہاتھیوں سمیت اس پارک میں موجود دیگر جانوروں کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں، میں انہیں بتارہا ہوں کہ کس طرح یہ نیشنل پارک دنیا کیلئے اہم کردار ادا کررہا ہے، وہ میری معلومات کے ذریعے خود فیصلہ کریں گے کہ میں کس حد تک ٹھیک یا غلط ہوں”۔

انکا کہنا ہے کہ پارک کو نگرانی کے عمل کو زیادہ موثر کرنا چاہئے۔

سومارانی”میں کہنا تو نہیں چاہتا مگر ان کیلئے جانوروں کو کنٹرول کرنا انسانوں کے مقابلے زیادہ آسان ہے، انسان یہ تو کہتے ہیں کہ ہم بات مایں گے، مگر اپنے فائدے کیلئے وہ کچھ بھی کرگزرتے ہیں، جبکہ جانوروں کا معاملہ یہ نہیں، اگر جانوروں کو سختی یا نرمی سے سیکھایا جائے تو وہ منع کی جانے والی چیزوں سے دور رہتے ہیں، اگر ایسا کرلیا جائے تو حالات بالکل تبدیل ہوجائیں گے”۔

سماٹرا میں شرح آبادی انڈونیشیاءمیں سب سے زیادہ ہے، 60ءکی دہائی میں یہاں کی آبادی بیس لاکھ سے بھی کم تھی مگر آج یہ ساٹھ لاکھ سے زائد ہوچکی ہے، اس کے مقابلے میں ہاتھیوں کی آبادی 1930ءکی دہائی کے مقابلے میں اسی فیصد کم ہوچکی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے علی رضقی اراسی بتارہے ہیں کہ ہاتھیوں کو قتل کرنیوالے افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا مشکل ہے۔

علی”ہاتھیوں کو مارنے کے واقعات کافی عام ہیں، میں نے متعدد کیسز میں کام کیا ہے اور پوسٹمارٹم کیلئے پولیس کی مدد کی ہے،تاہم بہت کم تعداد میں ملزمان کو عدالت تک لایا جاسکا ہے، کیونکہ یہ بہت مشکل کام ہے، مشتبہ افراد کی تلاش آسان نہیں ہوتی، مگر ہمیں اچھی امید برقرار رکھنی چاہئے، ہم ہاتھیوں کے خاتمے کو روکنے کیلئے کافی محنت کررہے ہیں، ورنہ تو ہاتھیوں کے مرنے کی تعداد ہر سال بڑھ جائے”۔

سومارانی کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام اس لئے کررہا ہے تاکہ اس کی بچے اور ان کے بچے بھی ان ہاتھیوں کو دیکھ سکیں۔

سومارانی”تو یہ صرف ہمارے آباﺅاجداد نہیں جو ان ہاتھیوں کیساتھ کام کرتے تھے جس کی آپ تصاویر بھی دیکھ سکتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ میرے پوتے پوتیاں بھی ہاتھیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور جان سکیں کہ یہ جانور کیسے ہوتے ہیں، اگر ان کی نسل ختم ہوگئی تو وہ صرف ان ہاتھیوں کو میری تصاویر میں ہی دیکھ سکیں گے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *