Hunt Continues to Track Down Surviving Sabah Rebels – ملائیشیاءمیں فلپائنی عسکریت پسندوں کیخلاف آپریشن

ملائیشین فوج کی جانب سے ریاست سباح کے بورینو اسلینڈمیں فلپائنی عسکریت پسندوں کی تلاش کا کام جاری ہے، رواں برس کے وسط میں شیڈول انتخابات کے پیش نظر وزیراعظم نجیب رزاق کیلئے یہ آپریشن کافی بڑا دھچکہ قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ میں اب تک کم از کم 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اسی بارے میں ایک مقامی چینیل کِنِی ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو یُو آنگ کائی پنگ کا انٹرویو سنتے ہیں۔

یُو آنگ کائی پنگ” گزشتہ روز ہوائی حملے کے بعد پولیس نے چار کلومیٹر کا رقبہ گھیرے میں لے لیا، اس جگہ کے بارے شبہ تھا کہ یہاں فلپائنی سُلو درانداز تربیت کرتے تھے، پولیس نے وہاں انہیں پکڑنے کی کوشش کی، اس کے بعد وزیر دفاع نے پریس کانفرنس کے دوران تیرہ لاشوں کی تصاویر دکھائیں، جو ان کے بقول فلپائنی عسکریت پسند تھے”۔

سوال” کیا انتظامیہ نے بتایا کہ باقی فلپائنی عسکریت پسندوں کا کیا ہوا؟ کیا وہ سمندر کے راستے فرار ہوگئے یا وہ ابھی تک علاقے میں موجود ہیں؟

یُو آنگ “ جی ہاں میرے خیال میں پولیس نے ممنوعہ علاقے یا ریڈزون میں توسیع کی ہے، ملائیشیاءکے انسپکٹر جنرل پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ درانداز فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں، تاہم اس بارے میں وہ مزید معلومات فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمیں انتظامیہ کی جانب سے بہت کم معلومات ملی ہے”۔

اس آپریشن میں ملائیشین افراد بھی ہلاک ہوئے؟

یُو آنگ “ میرے خیال میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تو دو مختلف واقعات میں آٹھ ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا۔ لَھَد ڈاٹونامی علاقے میں کارروائی کے دوران فائرنگ سے دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ سیمپورنا  میں بھی چھ پولیس اہلکار مارے گئے”۔

آپ کے رپورٹرز تو ریاست سباح کے علاقے لَھَد ڈاٹومیں موجود ہوگے، وہاں کے مقامی رہائشیوں کا تین ہفتے سے جاری اس آپریشن کے بارے میں کیا کہنا ہے؟ کیا وہ لوگ اتنے طویل آپریشن سے تنگ نہیں ہوئے؟

یُو آنگ “ میرے خیال میں عوامی سطح پر خوف تو موجود ہے ہی، تاہم اس کے ساتھ غیرمصدقہ افواہوں کی بھی بھرمار ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انتظامیہ نے عوام کے سامنے واضح تصویر یا معلومات پیش نہیں کی کیں، اسی وجہ سے وہاں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ یہ خوف دیگر علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے اور لوگوں نے اشیائے خورونوش کا ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے۔ انتظامیہ نے اب تک اس صورتحال پر کچھ کرنے سے گریز کیا ہے”۔

یہ بات تو ٹھیک ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران فلپائنی مسلمان غیر قانونی طور پر سباح میں داخل ہوتے رہے ہیں، اور پھر واپس بھی چلے گئے، تاہم آپ بتائیں کہ یہ صورتحال ایک دم اتنی خراب پیچیدہ کیوں ہوگئی؟

یُوانگ “ جی ہاں بہت سے لوگ یہ الزام لگارہے ہیں یا ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ طویل عرصے سے موجود تھا۔ ہر شخص آئی سی پراجیکٹ کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے، یہ منصوبہ سباح میں تارکین وطن کیلئے شروع کیا گیا تھا”۔

کیا یہ آئی سی پراجیکٹ شناختی کارڈز پر مشتمل ہے؟

یُوانگ” شناختی کارڈز کے منصوبے کو پروجیکٹ ایم یا مہا تِرکے نام سے جانا جاتا ہے، تاہم یہ ریاست اب حکمران جماعت یُو یام این او کے ہاتھوں سے نکل کر ملائیشین اپوزیشن کے قبضے میں چلی گئی ہے۔ اس وقت سباح کی آبادی کے حوالے سے کافی سوالات سامنے آرہے ہیں، کیونکہ یہ بہت زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق چند دہائیوں کے دوران یہاں آبادی کی شرح میں تین سو فیصد اضافہ ہوا ہے”۔

سوال”  تو یہ الزامات کہ فلپائنی عسکریت پسندوں کو شناختی کارڈز دیئے گئے ہیں، کیا یہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش ہے؟

یُوانگ” جی ہاں یہ ووٹوں کے حصول کی کوشش کی تھی میرے خیال مقامی طور پر اکثریتی گروپس کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔ تو زمینی طور پر حکمران جماعت یُو یام این او پر لگائے جانے والے الزامات کے وہ ریاست میں فلپائنیوں کی آمد کی حوصلہ افزائی کررہی ہے، کافی حد تک درست ہیں، یہ تارکین وطن یُو یام این او کی حمایت کرتے ہیں، اس سیاسی غلطی نے مسئلے کو سنگین کیا ہے، اور سرحدوں کا کنٹرول قابو سے باہر ہوگیا ہے، اس کا حل فلپائنی تارکین وطن کو واپس بھیجنے میں ہی پوشیدہ ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *