سالہ ملالہ یوسف زئی پہلی پاکستانی بچی ہے جسے انٹرنیشنل چلڈرن پیش ایوارڈ کیلئے نامزد کیا گیا۔ یہ ایوارڈ ایسے بچوں کو دیا جاتا ہے جو مشکل حالات میں کوئی نمایاں کام کرتے ہیں۔ ملالہ کو پاکستانی قومی امنایوارڈ بھی دیا گیا۔
سوال”آپ کی زندگی کا سب سے مسرت بخش دن کون سا تھا؟
ملالہ(female)”میرے خیال میں اسکول میں واپسی اور وہاں سے گھر آنا میری زندگی کے ناقابل فراموش لمحات ہیں”۔
چودہ سالہ ملالہ یوسف زئی کو اب تک وہ مشکل وقت یاد ہے جب وادی سوات میں طالبان کا غیر اعلانیہ راج تھا۔
ملالہ(female)”وہ پورا منظرنامہ بہت خراب تھا، ہمیں اپنے گھر چھوڑنے پڑ رہے تھے اور ہم نہیں جانتے کہ واپسی کب ہوگی۔ اس وقت میں خود کو بے بس سمجھ کر رونے لگتی تھی کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ اب میں کبھی گھر واپس نہیں آسکوں گی۔ ایک اور دفعہ جب چودہ جنوری کو مجھے اپنا اسکول چھوڑنا پڑا تو میں بہت روئی، کیونکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اب میں کبھی اسکول آسکوں گی یا نہیں۔ یہ وقت تھا جب ہمارے اندر سے امید ختم ہوگئی تھی”۔
طالبان کے دور میں لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی تھی، جبکہ خواتین کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیا جاتا تھا۔2009ءسے 2011ءکے دوران وادی میں چار سو اسکول تباہ کئے گئے۔طالبان غیر قانونی ایف ایم ریڈیو اسٹیشنز استعمال کرکے جمہوریت، موسیقی اور دیگر شہری سہولیات کے بارے میں پروپگینڈہ کرتے تھے۔یہ وہ وقت تھا جب کوئی عسکریت پسندوں کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا مگر ملالہ سب سے منفرد ثابت ہوئی۔گیارہ سال کی عمر میں اس باہمت لڑکی نے بی بی سی اردو سروس کیلئے آن لائن ڈائری لکھنا شروع کی۔
ملالہ(female)”میرے خیال میں میرے دل، میری روح اور ماحول نے مجھے لکھنے کی طاقت دی، اور پھر میرے والد نے بھی میری حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ کوئی مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا، تم ایک آزاد انسان ہو اور یہ تمہارا حق ہے کہ اپنے خیالات کا پرچار کرو۔ اس طرح انھوں نے میری بہت مدد کی”۔
ضیاءالدین ملالہ کے والد ہیں۔
ضیاءالدین(male)”ملالہ بہت پراعتماد ہے۔ یہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتی ہے، کئی بار میں اس طرح خود سے رابطہ کرنے میں ناکام ہوجاتا تھا، جیسا یہ کرتی ہے۔ اعتماد اور ابلاغ رسانی میری بیٹی کی دو بڑی صلاحیتیں ہیں۔
یہ بہت ذہین اور دانشورانہ خیالات کی مالک ہے۔ یہ مختلف معاملات پر بحث کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے”۔
طالبان کو وادی سوات سے 2009ءمیں فوجی آپریشن کے ذریعے ماربھگایا گیا تھا، جس کے بعد سے اسکول کھلنا شروع ہوگئے اور خواتین کو گھروں سے باہر آنے کی آزادی مل گئی۔ ملالہ کو توقع ہے کہ وہ ایک دن سیاستدان بن کر پشتون خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کرسکے گی۔
ملالہ(female)”دہشتگردی کے عہد کے دوران میں ایک ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، مگر اب میں نےسیاستدان بننے کا فیصلہ کرکے لوگوں کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ میں سوات کے بچوں کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی ہوں اور میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے ہر ممکن کوشش کروں گی”۔
اسکول میں ملالہ کئی بار اپنے اساتذہ کی تقلید کرتے ہوئے اپنی سہلیوں کی مدد کرتی ہے۔ ملالہ کی ایک استانی انگریزی کے حروف ایف اور پی میں امتیاز نہیں کرپاتی، اس غلطی پر ہنس ہنس کو لوٹ پوٹ ہوجانے والی ملالہ اسکول واپس آکر بہت خوش ہے۔ اس کا نام اب کراچی کے ایک سیکنڈری اسکول میں درج کرلیا گیا ہے۔وہ سوات کے بچوں کیلئے ایک تعلیمی ادارہ تشکیل دینے کا خواب دیکھتی ہے۔
ملالہ(female)”ہم اپنی زندگیوں کیلئے جدوجہد کرتے رہے ہیں، ہم تعلیم کیلئے جدوجہد کرتے رہے ہیں، ہم نے یہ جدوجہد کسی انعام یا اعزاز کیلئے نہیں کی، ہم ہمیشہ اپنی زندگیوں اور اسکولوں کے بارے میں سوچتے رہے ۔تاہم اب مجھے اللہ تعالیٰ کے کرم سے انعام و اعزاز سے نوازا گیا ہے، اب میں وہ سب کچھ کرنا چاہتی ہوں جو میں کرسکتی ہوں۔ میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے جدوجہد کروں گی”۔
اسکول میں حرا سلمان ملالہ کی سہیلی ہیں۔
حرا(female)”اگر دوسری لڑکیوں کو بھی ملالہ کی طرح انعام ملے، تو وہ اپنے آپ پر فخر کرنے لگیں گی، مگر ملالہ کو متعدد اعزازات مل چکے ہیں، مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ملالہ پہلے جیسی ہی ہے”۔
سوال”کیا آپ ملالہ سے حسد کرتی ہیں؟
حرا(female)”جی ہاں، میں حاسد ہوں کیونکہ وہ نمبرون بن گئی ہے۔ مگر یہ اس کی جدوجہد کا ثمر ہے اور کھلے دل سے بغیر ڈرے حالات پر بات کرتی ہے۔ وہ اپنے خیالات کا اظہار ہر فرد سے کرتی ہے”۔
ملالہ کو اب طالبان کا ڈر نہیں، تاہم اسے قدامت پسند پشتون ثقافت سے ضرور تشویش لاحق ہے جس میں خواتین کیلئے مواقع محدود ہےں۔
ملالہ(female)”اگر ہم ماضی کا جائزہ لیں تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارا معاشرہ زیادہ سے زیادہ قدامت پسند اور جنسی امتیاز کا مظاہرہ کرنے لگا ہے، کئی بار تو لگتا ہے کہ جیسے اس میں تبدیلی لانا ناممکن ہے کیونکہ ہر آنیوالا دن زیادہ سے زیادہ مشکل ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس بارے میں زیادہ سوچنے کی بجائے بس سرجھکائے اسے بدلنے کی کوشش کررہی ہوں”۔
سوال”یعنی آپ کے پاس امید ہے مگر حقائق مختلف ہیں؟
ملالہ(female)”جی ہاں، زمینی حقائق مختلف ہیں، کیونکہ سوات میں پہلے مخلوط طرز تعلیم رائج تھی، مگر اب وہاں لڑکوں اور لڑکیوں کو علیحدہ علیحدہ پڑھایا جاتا ہے، جبکہ متعدد والدین لڑکیوں کیلئے مرد اساتذہ کو قبول نہیں کرتے”۔
تاہم ملالہ ان تمام مشکلات کے باوجود پشتون خواتین اور بچوں کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کیلئے تیار ہیں۔
ملالہ(female)”میں نے تبدیلی دیکھی ہے، اب ماضی جیسی صورتحال نہیں رہی، ہم اب اپنے اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ ہم آزاد ہیں ہم بازار جاسکتے ہیں اور ہمیں اب کوئی ڈر نہیں۔ دہشتگردی ختم ہوگئی ہے اور اب یہاں ماضی کی سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں”۔
سوال”آپ نے شال اوڑھ رکھی ہے، کیا اس وقت آپ برقعہ استعمال کرتی تھیں؟
ملالہ(female)”جی ہاں طالبان دور میں ہم برقعہ پہنتے تھے، شال اوڑھنا ہماری روایات کا حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اب میں شال اوڑھتی ہوں، اب ہم 2007ءسے پہلے کے دور میں واپس آگئے ہیں”۔
