HIV/Aids is Killing Young Papuans… – انڈونیشیاءمیں ایڈز کی بلند شرح

انڈونیشیاءکے صوبے پاپو وا میں ایڈز کی شرح بہت بلند ہے، حکومت کے مطابق ہر روز دس کے قریب افراد میں اس موذی مرض کی تصدیق ہوتی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

وانیما پبلک ہیلتھ سینٹر میں بیس کے قریب افراد انتظار گاہ میں بیٹھے ہیں، وہ یہاں ایچ آئی وی ٹیسٹ کے نتائج لینے کیلئے موجود ہیں، ڈاکٹر لوریا ایک بیس سالہ نوجوان کا نام پکارا۔

لورینا”یہ آپ کا ٹیسٹ ہے، مجھے بتاتے ہوئے تکلیف ہورہی ہے کہ آپ کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے”۔
وہ نوجوان یہ سن کر سکتے کا شکار ہوگیا۔

یہ تمام مریض وامیناکی وادی بالیم سے تعلق رکھتے ہیں، اور جن افراد کے ٹیسٹ مثبت آرہے ہیں ان کی عمریں بھی زیادہ نہیں۔

لورینا”ان میں سے بیشتر کی عمریں پندرہ سے تیس سال کے درمیان ہیں، یہ لوگ ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے پر شرمندہ ہوجاتے ہیں، جو کیسز ہمارے سامنے آئے ہیں وہ تو بہت کم ہیں، متعدد کیسز تو سامنے ہی نہیں آتے، ہم اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے محنت کررہے ہیں”۔

تیئیس سالہ یونیورسٹی کی طالبہ مینا ماتوان نے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد تعلیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مینا ماتوان”جب میں اس مرض کا شکار ہوئی تو میری عمر اٹھارہ سال تھی، مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے اس کا شکار ہوئی، کیا یہ میرے شوہر کی وجہ سے ہوا مجھے کچھ معلوم نہیں، میں نے شادی کی تھی مگر خاندانی مسائل کے باعث ہماری علیحدگی ہوگئی تھی، اس کے بعد میں نے دوبارہ شادی کی اور پھر جب ایچ آئی وی کا انکشاف ہوا تو میری دوسری بار بھی طلاق ہوچکی تھی”۔

وامینا پبلک ہیلتھ سینٹر،2007 میں کھلا تھا اور یہاں صرف ایڈز کے مریضوں کا ہی علاج ہوتا ہے، چھ سال گزر جانے کے بعد سالانہ ایچ آئی وی کے ایک ہزار نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

چوبیس سالہ ماریکے کیو ایک گھریلو خاتون ہیں، ان کے پہلے بچے کی پیدائش دو ماہ قبل اس وقت ہوئی جب ان کے شوہر کا ایڈز کے باعث انتقال ہوگیا۔ ماریکے بھی اپنے شوہر کی وجہ سے اس موذی مرض کا شکار ہوچکی ہیں۔

نرسماریونی،ماریکے کے گھر آکر اس کا چیک اپ کررہی ہیں۔

ماریونی”اس کی حالت کافی خراب ہے، یہ بہت کم ہمارے مرکز آتی ہے مگر میرے خیال میں اس کو جلد کا انفکیشن ہوگیا ہے جو بہت خراب تر درجے پر پہنچ گیا ہے”۔

مقامی ایڈز کمیشن نے مرض کی روک تھام کیلئے کافی اقدامات کررہا ہے، تاہم کمیشن کے سیکرٹری دولت سمانجنتک کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔

دولت”ہر شخص کو اس بارے میں درست معلومات حاصل نہیں، جس کی وجہ سے ہمیں چیلنجز کا سامنا ہے، طبی مراکز ہر ضلع میں موجود نہیں، جبکہ طبی عملے کی تعداد بھی محدود ہے، مگر ہم ایچ آئی وی کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کی کوشش کررہے ہیں”۔

مقامی مذہبی رہنماءپادری جوہن ڈیجونگا بھی اپنے ہفت روزہ خطاب میں ایچ آئی وی کے حوالے سے معلومات فراہم کرتے ہیں، وہ اپنے صوبے کے نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔

جون”ایچ آئی وی اور ایڈز نوجوانوں کو قتل کررہے ہیں، یہ صرف وامینا کا نہیں بلکہ پورے پاپووا کا مسئلہ ہے، وامینا میں ہی ایچ آئی وی کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، اگر ہم نے اس حوالے سے سنجیدگی سے اقدامات نہ کئے تو بیس سال بعد یہاں نوجوانوں کی نسل ہی ختم ہوجائے گی، بیشتر خاندان اس مرض کے باعث ختم ہوکر رہ جائیں گے”۔