بھارت میں سیاسی موضوع پر بننے والی فلم شنگھائی نے بھارتی عوام کی توجہ حاصل کرلی ہے، مگر اس کی وجہ فلم کی جاندار کہانی نہیں، بلکہ ایک متنازعہ گیت کی شمولیت ہے۔اس گانے پر پابندی کی درخواست کو عدالت نے مسترد کردیا، مگر اس سے تنازعے کی شدت میں کمی نہیں آسکی۔
فلم شنگھائی ایک سیاسی تھرلر فلم ہے جو جون کے شروع میں بھارت بھر میں ریلیز ہوئی۔
اور یہ گیت بھارت ماتا کی جے ہو میں ملک کو ایسا سنہری پرندہ قرار دیا گیا جو بیماریوں کا شکار ہے۔ گیت میں کہا گیا ہے کہ بھارتی عوام کو جتنی بھی مشکلات کا سامنا ہو مگر وہ اپنے ملک کو سراہتے ہیں۔
Saveera Juneja ایک گھریلو خاتون ہیں، جب بھی ان کا بیٹا یہ گیت گاتا ہے وہ ناگواری کا اظہار کرتی ہیں۔
(female) Saveera Juneja “آخر کوئی اتنے توہین آمیز اور برے الفاظ کسی گیت کو مقبول کرنے کیلئے کیسے استعمال کرسکتا ہے۔ میرا بیٹا گاتے ہوئے کہتا ہے کہ ڈینگی اور ملیرا کی وجہ ہمارا ملک بھارت ہے، اور یہ بات ہم لوگوں کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ اس گیت کو نہ صرف فلم سے نکالا جانا چاہئے بلکہ ہر ریڈیو اسٹیشن کو اسے چلانا چھوڑنا چاہئے۔ جب بھی یہ گانا کہیں چلتا ہے، میں فوری طور پر اپنے ریڈیو کو بند کردیتی ہوں”۔
Saveera کے بارہ سالہ بیٹے Harshit Juneja کو ماں کی ناگواری کی پروا نہیں، اسے یہ گانا بہت پسند ہے۔
(male) Harshit Juneja “یہ بہت خوبصورت گیت ہے کیونکہ اس کی شاعری بہت زبردست ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میرے والدین کو یہ پسند کیوں نہیں آیا۔ اس گیت کی ہر چیز بہت اچھی ہے، اگر اس میں یہ کہا جارہا ہے کہ بھارت ماتا ہمارے خراب حالات کے باوجود ہمیشہ زندہ رہے تو اس میں برا کیا ہے؟”
فلم کے ڈائریکٹر اور گانے کے بول لکھنے والے Dibakar Banerjee کا کہنا ہے کہ ان کا یہ گیت لکھنے کا مقصد بھارتی عوام کے اشتعال یا مایوسی کو بڑھانا نہیں تھا۔
(male) Dibakar Banerjee “درحقیقت اس گیت کو لکھنے کا مقصد بھارت سے اپنی محبت اور جذبات کا اظہار کرنا تھا۔ جب آپ کسی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور وہ آپ کی توقعات پر پورا نہیں اترتا تو آپ اس پر غصے سے چیخنے لگتے ہیں یا طنز کرتے ہیں؟ اگر آپ کے خاندان میں کوئی برا کام کرے تو کیا آپ اس کی تعریف کریں گے؟”
مگر Tejinder Pal Singh Bagga کے خیال میں یہ گانا ان کے ملک کی توہین ہے۔ وہ ایک ہندو انتہا پسند گروپ Bhagat Singh Kranti Sena کے صدر ہیں، انھوں نے اس گیت پر پابندی لگانے کیلئے دہلی ہائیکورٹ سے رجوع بھی کیا تھا۔ ان کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کانگریس کی ممبئی شاخ نے بھی گانے پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ Tejinder Pal Singh کی درخواست کو گزشتہ دنوں دہلی ہائیکورٹ نے مسترد کردیا۔جج کا کہنا تھا کہ اس گانے میں کوئی بھی قابل اعتراض بات نہیں، انھوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملک میں ہر شخص کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ تاہم Tejinder Pal Singh کا کہنا ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
(male) Tejinder Pal Singh “اب ہم سپریم کورٹ میں ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ ہمارے ملک میں قانون ہے کہ اگر کوئی شخص رکن پارلیمنٹ کیخلاف بات کرے تو اسے پارلیمنٹ کی توہین کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کسی جج کیخلاف بات کرتے ہیں تو آپ کو توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر جب ملک کیخلاف بات ہو تو اس کے لئے کوئی قانون نہیں۔ ہم ڈینگی یا ملیریا کو بھارت کی شناخت کے طور پر قبول نہیں کرسکتے”۔
ان کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی محدود ہونی چاہئے۔
(male) Tejinder Pal Singh “اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنے ملک کا مذاق اڑائیں۔ ہمارا ملک ہمارے لئے بھگوان سے کم نہیں، آپ ریاستی امور پر تنقید کریں، سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کیخلاف بات کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں”۔
مگر شنگھائی میں مرکزی کردار نبھانے والے ابھے دیول کے مطابق جمہوری ملک ہونے کے ناطے اظہار رائے کی آزادی سب کا بنیادی حق ہے۔
ابھے(male) “میں سمجھ نہیں پارہا کہ احتجاج کرنے والے افراد کا مقصد کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ شہرت حاصل کرنے کیلئے یہ سب کچھ کررہے ہوں۔ ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں مگر ہمیں اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی نہیں۔ اگر ہم اس طرح کے گانے نہیں لکھ سکتے تو ہمیں جمہوری ریاست کہلانے کا بھی حق حاصل نہیں”۔
ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ہی ایک اور گیت سامنے آگیا جو کسی اور فلم میں شامل کیا گیا ہے۔ Tejinder Pal Singh اس گیت کیخلاف بھی عدالت سے رجوع کرنے کیلئے تیار ہیں۔
(male) Tejinder Pal Singh “ہم اس گیت کیخلاف بھی درخواست دائر کریں گے، اور عدالت سے استدعا کریں گے کہ اس طرح کے خراب الفاظ ملک کے بارے میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے”۔