نیپال میں نئے آئین کی تیاری کی ڈیڈلائن اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم سیاسی جماعتیں ابھی تک ملک میں نظام حکومت کا تعین کرنے میں ناکام رہی ہیں۔کچھ حلقوں کی جانب سے لسانی وفاق کی تجویز دی جاری ہے تو کچھ جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملکی اتحاد کمزور ہوسکتاہے
نیپال کی Federation of Indigenous Nationalities کی جانب سے دارالحکومت کھٹمنڈو میں تین روزہ ہڑتال کی جارہی ہے، اس موقع پر تمام دکانیں، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند ہیں۔چالیس کے لگ بھگ افراد اس وقت ایک معروف سیاحتی مقام Ratnapark پر موجود ہیں، یہ لوگ خودمختار ریاست Newar کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں۔ Newar نیپال کا چھٹا بڑا لسانی گروپ ہے۔ 26 سالہ Bikkil Sthapit ہاتھوں میں سرخ جھنڈا اٹھائے نعرے لگارہے ہیں۔
(male) Bikkil Sthapit “ریاست Newar سے ہم لوگ اپنے حقوق کا تحفظ کرسکیں گے، اس سے ہمیں ترقی کا موقع ملے گا۔ ہمارے لوگ بہت زیادہ پسماندہ ہیں، انہیں موجودہ نظام میں کسی قسم کے مواقع میسر نہیں،سابقہ تمام حکومتیں ہماری برادری کا استحصال کرتی رہی ہیں”۔
Nepal Federation of Indigenous Nationalities حکومت پر لسانی وفاق کے قیام کیلئے دباﺅ ڈال رہی ہے، اس فیڈریشن میں سو سے زائد لسانی و قبائلی گروپس شامل ہیں، تاہم حال ہی میں کئے جانے والے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 70 فیصد نیپالی شہری ملک میں لسانی وفاق کے قیام کے مخالف ہیں۔ ان میں سے ایک 33 سالہ راجو نیپال بھی ہیں، جن کا تعلق ہندوﺅں کی برہمن برادری سے ہے۔اس برادری کو ملک کی حکمران برادری بھی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بیشتر سیاستدان اور حکومتی افسران اسی سے تعلق رکھتے ہیں۔
راجو(male) “ہم سب ایک ہیں، ذات پات کے مسائل 16 ویں صدی سے چلے آرہے ہیں، اگر ہم نے لسانی گروپس کے کہنے پر ریاست کو تقسیم کیا تو عوام ہم سے نفرت کرنے لگیں گے۔ اس وقت ملک بھر میں اس حوالے سے بحث جاری ہے، سوچیں اس وقت کیا ہوگا جب آئین میں اس نظام کا اطلاق کردیا جائے گا، ایسا ہوا تو دیگر برادریاں کہاں جائیں گی؟ ہم ایسا ملک چاہتے ہیں جہاں ہر شہری کہیں بھی جانے کیلئے آزاد ہو۔ میں لسانی وفاق کی مکمل مخالفت کرتا ہوں”۔
سیاسی جماعتیں اس حوالے سے تقسیم نظر آتی ہیں۔ نیپال کی سب سے بڑی سیاسی جماعت Unified Maoist یا ماﺅ نواز اور چند دیگر جماعتیں لسانی بنیادوں پر صوبے قائم کرنے کے حق میں ہیں، ان جماعتوں کو پارلیمنٹ میں برتری بھی حاصل ہے۔ نیپالی اسمبلی آئندہ چند روز میں نئے آئین کی تیاری کا کام مکمل کرے گی، اگر وہ مقررہ مدت تک آئین کا مسودہ تیار کرنے میں ناکام رہی تو وہ خودکار طور پر تحلیل ہوجائے گی۔سنیئر صحافی Yubraj Ghimire کا کہنا ہے کہ اس ڈیڈ لائن میں ناکامی سے ملک کو انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے۔وہ عوام کو اس معاملے میں شامل کرنے کے خواہشمند ہیں۔
(male) Yubraj Ghimire “میرے خیال میں نظام حکومت کے تعین کیلئے عوام کی رائے انتہائی ضروری ہے۔ایسا نہ ہوا تو بہت کچھ غلط ہوجائے گا، جس سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے۔ عوام کو اس عمل میں شامل نہ کیا گیا تو کوئی بھی نئے آئین کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوگا”۔
Binda Pandey اسمبلی کی رکن ہیں۔انکا کہنا ہے کہ ملکی وفاق کے حوالے سے متضاد آراءنے ملک کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، اس مسئلے کو حل کیا جانا چاہئے۔
(female) Binda Pandey “بہترین حل سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنا ہے، جبکہ دوسرا حل یہ ہے کہ کم ازکم آئین کے مسودے کو تو تیار کرلیا جائے، جسے بعد ازاں آئندہ پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے۔ اگر ان میں سے کسی طریقہ کار پر عمل نہ ہوا تو یہ ملک کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا”۔
کھٹمنڈو میں ایک طرف لسانی وفاق کے حق میں احتجاج ہورہا تھا تو دوسری جانب ہزاروں افراد اس کے خلاف بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کاروباری حلقے، وکلائ، فنکار اور طالعلموں پر مشتمل ہزاروں افراد نے لسانی وفاق کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔ انکا نعرہ تھا کہ ذات پات کی تقسیم ہمیں قبول نہیں۔Bhaskar Raj Karnikar، Federation of Nepalese Chambers of Commerce and Industry کے سنیئر نائب صدر ہیں۔
(male) Bhaskar “روزانہ ہڑتالوں کی وجہ سے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ ہم کسی سیاسی جماعت کے مخالف نہیں، ہمارا مقصد نیپال اور یہاں کے شہریوں کی ترقی ہے۔ ہم ملک میں مقررہ مدت کے اندر آئین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں کام کرنے دیا جائے اور ہڑتالوں کا سلسلہ ختم کیا جائے”۔