ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی کی شادی دھوم دھام سے ہو۔اسی طرح ہر لڑکی کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شادی میں ہر رسم دھوم دھام سے ادا کی جائے،اور اسکی سکھیاں ڈھولک بجا کر ہنسی خوشی اس کو رخصت کریں ۔بڑھتی ہوئی مہنگائی نے جہاں ہر شعبہءہائے زندگی پر اثر ڈالا ہے وہیں غریب گھرانوں میں بیٹیوں کی شادیاں بھی ایک مسئلہ بن چکاہے اور یہ مسئلہ کسی ایک خاندان کا نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے،جس کا حل مختلف فلاحی تنظیموں نے لڑکیوں کی اجتماعی شادیوں کی صورت میں نکالا ہے۔
اجتماعی شادیوں کے حوالے سے سرگرم عمل ایک تنظیم ویمن ڈولپمنٹ فاﺅنڈیشن کی چیئرپرسن صبیحہ شاہ کا کہنا ہے اجتماعی شادیوں کی وجہ سے وقت اور پیسے کی بچت ہوتی ہے۔
اجتماعی شادیوں کے حوالے سے الخدمت فاﺅنڈیشن کے ضلع تھرپارکر کے علاقے مٹھی کے رہنماءمیر محمد بلیدی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کی جانب سے پاکستان بھر میں اب تک 5000 لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں کرائی جا چکی ہیں جبکہ 24 جون 2012 کو ضلع تھرپارکر میں اجتماعی شادی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
بیٹی کی شادی کے موقع پر والدین کے لئے سب سے زےادہ پریشانی کا سبب جہیزکا انتظام ہے۔یہ فلاحی تنظیمیں نہ صرف اجتماعی شادیاں کراتی ہیں بلکہ مناسب جہیز بھی لڑکیوں کو فراہم کیا جاتا ہے۔غریب گھرانوں کی بچیوں کی اجتماعی شادیوں کے طریقہ کار کے حوالے سے ویمن ڈولپمنٹ فاﺅنڈیشن کی چیئرپرسن صبیحہ شاہ کا کہنا ہے ۔
شادی ایک مقدس فریضہ ہے ،اور اولاد کے حقوق میں سے ایک حق بھی ہے۔بیٹیوں کی شادی کے لئے پریشان غریب والدین کے لئے یہ فلاحی تنظیمیں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہیں اوراجتماعی شادیوں کی بدولت ہزاروںغریب گھرانوں کی لڑکیاں خوش و خرم شادی شدہ زندگی گزار رہی ہیں ۔