134 پاکستانی فوجی اور شہری اپریل کے مہینے سے سیاچن گلیشئیر کے گیاری سیکٹر میں برفاتی تودے تلے دبے ہوئے ہیں۔ سیاچن کو دنیا کا سب سے بلند محاذ جنگ کہا جاتا ہے، جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان کافی برسوں سے جنگ جاری ہے، تاہم یہاں زیادہ تر ہلاکتیں جھڑپوں سے نہیں بلکہ موسم کی شدت کے باعث ہوتی ہے۔
لاہور کے سینٹ انتھونی گرجا گھر میں خصوصی دعائیہ تقریب کا انعقاد ہورہا ہے۔سیاچن گلیشئیر کے گیاری سیکٹر میں رواں سال اپریل میں 134 پاکستانی فوجیوں و شہریوں کے زندہ دفن ہوجانے پر پوری قوم افسردہ ہے۔ ان افراد کی بازیابی کیلئے امدادی آپریشن ڈیڑھ ماہ سے جاری ہے، تاہم اب تک کسی شخص یا لاش کو دھونڈا نہیں جاسکا۔
سطح سمندر سے چھ ہزار فٹ سے زائد بلندی پر واقع سیاچن گلیشیئر دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ ہے۔بھارت کی جانب سے اس گلیشیئر پر قبضہ کرنے کی کوشش کے خلاف یہاںگزشتہ 28 برسوں سے پاک بھارت جنگ جاری ہے۔اس وقت دونوں ممالک کے دس سے بیس ہزار کے لگ بھگ فوجی یہاں تعینات ہیں، تاہم متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ بے مقصد ہے۔میاں نواز شریف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر ہیں، وہ بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
نواز شریف(male) “دونوں ممالک کی افواج کیلئے چھ ہزار میٹر سے زائد بلند ی پر رہنا مشکل ہے، دونوں ممالک کی حکومتوں کو اس معاملے کو اولین ترجیح کی صورت میں حل کرنا چاہئے، جیسا انھوں تجارت کے معاملے میں کیا ہے۔ اس تنازعے کا باعزت حل نکالا جانا چاہئے، جو دونوں اطراف کیلئے قابل قبول ہو”۔
سیاچن دنیا کا سب سے مہنگا محاذ جنگ بھی ہے، بھارت یہاں روزانہ آٹھ لاکھ ڈالر اپنے فوجیوں پر خرچ کررہا ہے، جبکہ پاکستانی خرچہ چھ لاکھ ڈالر کے قریب ہے، مگر یہاں متعین زیادہ تر فوجی گولیوں سے نہیں بلکہ موسم کے ہاتھوں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ منفی ساٹھ ڈگری درجہ حرارت کے باعث یہاں دو ہزار سے زائد افراد شدید موسمیاتی صورتحال کی نذر ہوگئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ پاگل پن ہے۔
عمران خان(male) “آخر یہ دونوں ممالک یہ تنازعہ مذاکرات کے ذریعے حل کیوں نہیں کرلیتے؟ بھارت کو اس وقت غربت کا سامنا ہے تو پاکستان میں بھی بھوک بڑھ رہی ہے۔چھ ہزار فٹ پر ہونیوالی اس جنگ پر روزانہ کا خرچہ بہت زیادہ ہے، اور یہ بھی تصور کریں کہ یہاں نوے فیصد ہلاکتیں فائرنگ سے نہیں بلکہ موسم کی وجہ سے ہورہی ہیں”۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی اس علاقے کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
اشفاق پرویز کیانی(male) “میرے خیال میں تو اس علاقے میں فوج کی عدم موجودگی کی متعدد وجوہات موجود ہیں، آپ گلشیئر کے علاقوں میں فائرنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے، مگر اس کے باوجود ہم یہاں 1984ءسے موجود ہیں، اس لئے نہیں کہ ہم ایسا چاہتے تھے، بلکہ اس کی وجہ یہاں بھارتی فوجیوں کی آمد تھی۔ ہم اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، مگر اس کا طریقہ کار طے کرنا ہوگا۔ ہمیں اس بارے میں بات کرنی چاہئے۔ ہم پرامید ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرلیں گے، اور میرے خیال میں اسے حل ہونا بھی چاہئے”۔
آرمی چیف کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے قیام کے باعث یہ گلیشیئر تیزی سے پگھل رہا ہے، اور خدشہ ہے کہ اس سے پاکستانی دریاﺅں میں تباہ کن سیلاب نہ آجائے۔
کیانی(male) “یہ گلیشیئر ہمارے دریاﺅں خصوصاً دریائے سندھ کیلئے پانی کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ یہاں فوجیوں کی موجودگی سے گلشیئر کا ماحول متاثر ہورہا ہے۔ ہم اس بات کو سمجھتے ہیں کہ پانی کا انتظام کتنا اہم ہے، اس تنازعے سے صرف خطے کا ماحولیاتی نظام ہی متاثر نہیں ہورہا بلکہ پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام پر اس کے اثرات مرتب ہورہے ہیں”۔
وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے یکطرفہ طور پر علاقے سے فوجی انخلاءکے امکان کو مسترد کردیا ہے۔
قمر زمان کائرہ(male)“کشمیر اور گلگت بلتستان متنازعہ علاقے ہیں،سیاچن بھی اسی کا حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ آئینی طور پر یہ علاقے پاکستان کا حصہ نہیں۔ اگر ہم عالمی دعویٰ پر قائم رہتے ہیں تو پاکستان اپنے موقف پیچھے سے نہیں ہٹے گا، ہماری افواج اور حکومت اپنے موقف پر برقرار ہیں۔ہم اپنی سرزمین کے دفاع کے لئے ہر قیمت چکانے کے لئے تیار ہیں”۔
گزشتہ دنوں پاکستان اور بھارت کے میڈیا گروپس کے اشتراک سے لاہور میں ایک عالمی امن کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کے افتتاحی اجلاس سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے خطاب کیا۔
یوسف رضا گیلانی(male) “میں یہ بات اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ دونوں حکومتیں حالات معمول پر لانے کیلئے پرعزم ہیں۔ ہم اپنا بہت قیمتی وقت تنازعات میں ضائع کرچکے ہیں اور اب ہم ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے”۔