Free School Offers Hope to Cambodian Rubbish Dump Children – کمبوڈین غریب بچوں کیلئے مفت اسکول

 

کمبوڈین دارالحکومت پینوم پین میں سینکڑوں غریب خاندان کوڑا تلف کرنے کی جگہ پر مقیم ہیں، ان میں سے بیشتر بچے اسکول جانے کی بجائے اپنے خاندان کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ مگر ایک مقامی این جی او کی جانب سے انہیں مفت تعلیم فراہم کئے جانے کے بعد صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔

بیالیس سالہ پیمیان نون، کے ضلع مینچے میں واقع کوڑا تلف کرنے کی جگہ دیکھ رہی ہیں، یہاں سینکڑوں خاندان مقیم ہیں اور ان کے بچے کوڑے کو چن کر کچھ پیسے کمانے کی کوشش کررہے ہیں۔

پیمیان” یہاں بہت بدبو پھیلی ہوئی ہے، ہزاروں مکھیاں یہاں موجود ہیں اور یہ بچے کچرے، کین اور پلاسٹک بیگز کیلئے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، لڑائی کے دوران یہ ایک دوسرے کو غلیظ گالیاں بھی دے رہے ہیں”۔

تاہم اب یہاں ایک چار منزلہ عمارت تعمیر کی گئی ہے جو کہ پیپلز ایمپرومینٹ آرگنائزیشن نامی این جی او کے تحت ان بچوں کیلئے قائم کیا مفت اسکول ہے۔ پیمیان نے دس سال قبل اس این جی او کی بنیاد رکھی تھی۔

پیمیان” ایک دن میں دوپہر کے کھانے کے لئے دریا کے کنارے پہنچی، میں اپنے ساتھ چکن باربی کیو لائی تھی، جب میں کھا رہی تھی تو ان آوارہ بچوں کا ایک گروپ آکر مجھ سے بھیک مانگنے لگا، میں نے کہا کہ میرے ہاتھ گندے ہیں، تم لوگ چلے جاﺅ، پھر وہ چلے گئے، جب میں نے کھانا کھالیا تو میں نے ہڈیاں کوڑے میں پھینک دیں، اس وقت میں نے دیکھا یہ بچے تیزی سے بھاگتے ہوئے آئے اور کوڑے سے ہڈیاں اٹھاکر کھانے لگے”۔

اس طرح دوپہر کے ایک کھانے نے پیمیان کی زندگی مکمل طور پر بدل کر رکھ دی۔

پیمیان “ میں اس رات سو نہیں سو سکی، میں پوری رات اسی بارے میں سوچتی رہی اور میں نے ان بچوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد میں نے اپنی ملازمت چھوڑی اور ایک ماہ بعد پیپلز ایمپرومینٹ آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی،میں نے اپنی تمام جمع پونجی خرچ کرکے اس اسکول کو شروع کیا”۔

کوڑے دان کے برابر میں اس اسکول کی تعمیر میں تیس ہزار ڈالرز خرچ ہوئے،شروع میں اس اسکول میں صرف پچاس بچے آئے مگر اب ان کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔

پیمیان “ بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں نے یہ اسکول یہاں کیوں تعمیر کرایا، یہ بچے یہاں کام کرتے ہیں اور آپ انہیں اسکول بھیجنا چاہتی ہیں، درحقیقت یہ بچے اسکول جانے کے خواہشمند ہیں مگر ان کے خاندان انہیں کام پر مجبور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنا اسکول یہاں تعمیر کیا تاکہ یہ یہاں پڑھے اور پھر آسانی سے اپنے کام پر واپس چلے جائیں”۔

پیمیان ا س وقت کوڑے کے درمیان کھڑی بچوں سے گفتگو کررہی ہیں اور انہیں اپنے اسکول میں پڑھنے کی پیشکش کررہی ہیں، وہ ان بچوں کے والدین کو قائل کرنے کے لئے بہت کافی محنت کرتی ہیں۔ والدین اسی صورت میں اپنے بچوں کو بھیجنے پر تیار ہوتے ہیں، جب اسکول کی جانب سے ان کے بچوں کو کھانا دیا جائے اور ہر ماہ پورے خاندان کے لئے بھی کچھ مقدار میں چاول فراہم کئے جائیں۔38 سالہ چُون پووکے دو بچے اس اسکول میں پڑھ رہے ہیں، وہ نہیں چاہتی کہ ان کے بچے بھی ان کی جیسی زندگی گزاریں۔

چُون پوو” یہ اسکول بہت اچھا ہے اور یہ والدین کی طرح ہمارے بچوں کا خیال رکھتا ہے۔ میرے پاس اپنے بچوں کو دینے کے لئے کچھ نہیں، اسی لئے میں نے انہیں اسکول بھیجا تاکہ وہ مستقبل میں صرف کچرا چننے کا کام نہ کریں۔ میں چاہتی ہوں وہ کھمیر اور انگریزی زبان میں پڑھ سکیں”۔

اس اسکول میں دن بھر میں پڑھایا جاتا ہے اور بچوں کو اجازت ہے کہ وہ اپنے کام سے فارغ ہوکر کسی بھی وقت آجائیں۔سولہ سالہ سن پینتھ جلد اسکول سے فارغ التحصیل ہونے والے ہیں۔

ان پیستھ” ایک دن میں نے ایک اسکول جانے والے لڑکے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہاں مفت تعلیم دی جاتی ہے، اس کے بعد میں نے اپنی بہن سے اسکول جانے کی اجازت طلب کی، اب میں اپنے فیصلے پر خوش ہوں، کیونکہ اگر میں یہاں نہیں آتا تو پھر میں پوری زندگی کچرا چننے کا ہی کام کرتا رہتا۔ میں مستقبل میں ایک استاد بن کر غریب بچوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں”۔

اس اسکول میں طالبعلموں کو انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے، پندرہ سالہ پین اپنی نئی صلاحیتوں کی مشق کررہے ہیں۔

پین” میرا خاندان بہت غریب ہے اور میرے بہت سارے بہن بھائی ہیں، میں امیر بن کر اس اسکول میں آنے والے غریب بچوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں، میرا خواب ہے کہ ایک دن میں ڈاکٹر بنوں”۔

ایک کونے میں سولہ سالہ پروس چین اپنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں۔

پروس چین” ہم بہت غریب ہیں اسی لئے میری ماں مجھے یہاں لیکر آئیں۔ اگر میں اس اسکول نہ آتا تو ہمارے لئے مستقبل میں زندگی بہت مشکل ہوجاتی۔ میں ایک استاد بن کر اپنے جیسے دیگر غریب بچوں کو تعلیم دینا چاہتا ہوں”۔

پیمیان کا کہنا ہے کہ ان کی این جی او ان بچوں کیلئے ایک اور اسکول تعمیر کرنے کے لئے تیار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *