پاکستان میںحوا کی بیٹی کے ساتھ پہلی نا انصافی اس کی پیدائش پر غم منا کر کی جاتی ہے۔اس کے بعد مشکلات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے لیکن جنسی زےادتی کا شکار عورت کو تو انصاف اور بھی مشکل سے ملتا ہے ۔جنسی زےادتی کا ایسا ہی ایک شرمناک واقعہ چند روز قبل ڈیرہ غازی خان کے سیاحتی مقام فورٹ منرو میں پیش آیا،جس میں بارڈر ملٹری فورس کے پانچ اہلکاروں نے علاقے کی سیر کو آئیں پانچ معصوم لڑکیوں کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناےاجس میں سے 3 لڑکیاں ابھی نابالغ ہیں جن کی عمریں 15 سے16 تک کی ہیں ۔واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے متاثرہ لڑکیوں کی وکیل بہرام بزدار کا کہنا ہے:
لڑکیوں کے وکیل بہرام بزدارکے مطابق لڑکیوں کو نہ صرف ہر طرح سے ہراساں کیا گیابلکہ شدید تشدد کا نشانہ بھی بناےا گیا اور ان کی کردار کشی کی کوشش بھی کی گئی۔ لڑکیوں کے وکیل بہرام بزدار پولیس کی تفتیش سے بھی مطمئن نہیں۔
لڑکیوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے اس دلخراش واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتاےا۔
دوسری جانب کمانڈنٹ بارڈر ملٹری فورس طارق علی بسرا واقعے میں کی جانے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتا رہے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان میں پیش آنے والے اس واقعے کا کیس ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے جبکہ ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جاچکی ہے تاہم اجتماعی زےادتی کا یہ واقعہ ہمارے لئے لمحہءفکریہ اورہمارے ارباب اختےارکی عوام بلخصوص خواتین کے تحفظ کے لئے گئے اقدامات پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
ہمارے معاشرے میں عورت کو بھیڑ بکری کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اس کا ہر طرح سے جسمانی استحصال کیا جاتا ہے۔آج بھی عور ت کو محض دل بہلانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور ظلم و زےادتی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔حکومت ،این جی اوز اور سول سوسائٹی کے بلند بانگ دعووں کے باوجود عورت پر ظلم و بربریت اور مردوں کی جانب سے جسمانی استحصال میں کوئی کمی نہیں آئی ،اور وہ اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم نظر آتی ہے۔عورت کو اپنی جائداد سمجھنے کی بجائے اگربرابری کی بنیاد پر حقوق دئے جائیں اور اس کا معاشی اور جسمانی استحصال بند کر دیا جائے تو نہ صرف معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے بلکہ خواتین اس ملک کی ترقی میں بلا خوف و خطر اپنا حصہ بھی ڈال سکینگی ۔