ہانگ کانگ میں غیرملکی گھریلو ملازمین کو کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، یہاں تک کہ مقامی عدالت نے انہیں مستقل شہریت کیلئے بھی نااہل قرار دیا ہے، مگر اب ان ورکرز کا ایک گروپ اپنی حالت بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہانگ کانگ میں اس وقت تین لاکھ سے زائد غیرملکی گھریلو ملازمین کام کررہے ہیں، جن میں سے بیشتر انڈونیشیاءسے آئے ہیں۔
ہانگ کانگ کے بیشتر غیرملکی ملازمین اتوار کی چھٹی وکٹوریہ پارک میں گزارتے ہیں۔ایسے چند افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر یہاں آنے کی وجہ بتارہے ہیں۔
()”میں یہاں اپنے خاندان کی حالت بہتر بنانے کیلئے آیا/آئی ہوں”۔
()”میں یہاں سے پیسے کما کر انڈونیشیاءواپس جاکر کامیاب ہونے کی کوشش کروں گا/گی”۔
()”میں یہاں پیسہ کمانے آیا/آئی ہوں”۔
مگر انڈونیشیاءسے آنیوالی 29انتیس سالہ انداہ اپیانٹی کی یہاں آنے کی وجہ ٹی سی کے لرننگ سینٹر ہے، یہ ہانگ کانگ میں کام کرنیوالی ایک این جی او ہے جو اس شہر میں غیرملکی ملازمین کو مختلف تیکنیکی تربیت فراہم کرنے کا کام کررہی ہے۔
یہ انداہ کی ہفتہ وار تعطیل کا دن ہے مگر وہ سیکھنے کیلئے پرجوش ہے، آج کی کلاس میں انگریزی زبان کی تعلیم دی جارہی ہے۔
انداہ”انگریزی بہت اہم ہے، یہ میری روزمرہ کی زندگی کیلئے بہت اہمیت رکھتی ہے، میں اپنے بچوں اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی اس کے ذریعے تعلیم دے سکتی ہوں”۔
ہانگ کانگ میں موجود انڈونیشین گھریلو ملازمین کیلئے آٹھ افراد کے ایک گروپ نے گزشتہ سال ان کلاسز کا آغاز کیا ،کرس ڈریک ان گھریلو ملازمین کی مدد کیلئے کئی برسوں سے کام کررہے ہیں، اور اب وہ کافی عرصے سے اپنی ہفتہ وار تعطیل یہاں انگریزی پڑھا کر گزار رہے ہیں۔
کرس ڈریک”اس کی بنیاد خود گھریلو ملازمین نے رکھی ہے، تو ہمارا نعرہ ہے ہماری طرف سے ہمارے لئے، تو اس طرح ہم ان لوگوں کی مدد کررہے ہیں”۔
ٹی سی کے لرننگ سینٹر دس سال پہلے ہانگ کانگ میں انڈونیشین ورکرز کے گروپ نے قائم کیا تھا، اب یہ دیگر ممالک کے ملازمین کیلئے بھی کھول دیا گیا ہے۔ یہاں ان ورکرز کو صلاحیتیں بڑھانے کی تربیت دی جاتی ہے۔
کرس ڈریک انگریزی کلاسز کو شروع سے ہی چلارہے ہیں۔
“ان انڈونیشین ورکرز کو متعدد صلاحیتیں اور ثقافتی رنگ سیکھنے کے مواقع حاصل ہیں، جو وہ خود اپنے ساتھ ہانگ کانگ لیکر آئے ہیں۔ یہ صلاحیتیں صرف کھانا پکانے اور صفائی تک محدود نہیں، اگرچہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی مالی وجوہات بھی ہوتی ہیں، مگر اس کی دیگر وجوہات بھی ہوتی ہیں”۔
چھیا لیس 46 سالہ ناریادو سال سے گھریلو ملازمہ کا کام کررہی ہیں، ان کے کئی خواب ہیں۔
ناریا”میں اپنی انگریزی بہتر کررہی ہوں اور اب جب میں دوبارہ انڈونیشیاءجاﺅں گی تو میں بچوں کو پڑھانا پسند کروں گی”۔