بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے رہائشیوں کا الزام ہے کہ حکومت انکی مرضی کے بغیر انہیں بانجھ بنا رہی ہے۔ اس ریاست کی شرح آبادی بھارت میں سب سے زیادہ ہے، بھارت میں قومی خاندانی منصوبہ بندی کا ہدف ہے کہ ایک جوڑے کو دو ہی بچے ہوں، مگر یہاں شرح پیدائش قومی ہدف سے دوگنا زائد ہے۔
ضلع Rewa سے تعلق رکھنے والے سولہ سالہ Ram Adivasi بخار کی وجہ سے ہسپتال میں موجود ہے، جہاں اس نے ادویات کا کہا تو طبی امداد کی بجائے اس کی نس بندی یا اولاد کے لئے درکار تولیدی قوت ختم کردی گئی۔
male) Ram Adivasi ) “مجھے بتایا گیا تھا کہ اس وقت تک مجھے ادویات نہیں مل سکتی جب تک میں نس بندی نہیں کروالیتا، جس کے بعد انھوں نے آپریشن کیا۔ میں نے انہیں بتایا بھی کہ میری شادی نہیں ہوئی ہے، مگر ان لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ کام وہ اعلیٰ حکام کے احکامات کے باعث کررہے ہیں”۔
اس ضلع کی ایک خاتون کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ پریشر ککر، ٹیلی ویژن اور فریج دینے کے وعدے کے ساتھ ہوا، حالانکہ اس خاتون کے گھر میں بجلی ہی موجود نہیں، یہی وجہ ہے کہ اسے اب تک کچھ بھی نہیں مل سکا ہے۔ ایک اور ضلع میں Rajesh Yadav بتارہے ہیں کہ انھوں نے کس طرح مجبور ہوکر اپنے بیٹے کو کتے کے کاٹے کے انجیکشن لگانے کےلئے بانجھ بنانے کی اجازت دی۔
راجیش(male)“میں ایک غریب مزدور ہوں اور میری روزانہ کی آمدنی سو روپے کے لگ بھگ ہے۔ پھر میں کس طرح دو ہزار روپے کی ویکسین خرید سکتا تھا؟ میرے پاس اپنے بچے کی زندگی بچانے کے لئے اسے بانجھ بنانے کی اجازت دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”۔
جبری نس بندی بھارت میں کوئی نئی چیز نہیں،1970ءکی دہائی میں بھی وزیراعظم اندرا گاندھی نے شرح پیدائش میں کمی لانے کے لئے جبری نس بندی کا پروگرام شروع کیا تھا، تاہم وہ ناکام ثابت ہوا تھا۔2008ءمیں مدھیہ پردیش کے ضلع Shivpuri میں نس بندی کراﺅ ہتھیار پاﺅ کے نام سے منصوبہ متعارف کرایا گیا۔ جس کے تحت ایک سو مردوں کو یہ آپریشن کرانے پر اسلحے کا پرمٹ مفت دینے کا وعدہ کیا گیا، تاہم متعدد افراد کا کہنا ہے کہ یہ پرمٹ کبھی جاری نہیں ہوئے۔ اس ریاست میں حکومتی خاندانی منصوبہ بندی کاپروگرام جس کا گزشتہ ماہ اختتام ہوا، نس بندی کا ہدف مکمل کرنے کیلئے ہر حربہ اختیار کیا گیا۔ ضلع Khandwa میں محکمہ صحت کے پانچ افسران کی ترقی محض ہدف پورا نہ کرپانے پر روک دی گئی۔مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ Shivraj Singh Chouhan اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔
male) Shivraj Singh Chouhan) “میں جبری نس بندی کے حق میں نہیں، یہاں کسی کے ساتھ نس بندی کے ہدف کے نام پر زیادتی نہیں ہورہی۔ محکمہ صحت کے عملے کو اہداف مکمل کرنے جیسے نوٹس جاری کرنے سے گریز کرنا چاہئے”۔
تاہم اس تردید کے باوجود وزیراعلیٰ 1970ءکی دہائی کی جبری نس بندی کی مہم کو سراہتے ہیں۔ انکا ماننا ہے کہ اقتصادی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آبادی کی شرح کو کنٹرول نہیں کرلیا جاتا۔ گزشتہ سال فروری میں ریاستی وزیر صحت Sudip Banerjee نے جبری نس بندی کے واقعات کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ایک ستر سالہ شخص Ramchandra Namdeo نے ایک شکایت بھی درج کرائی جس پر اب تک کچھ نہیں ہوسکا۔ انھوں نے اپنی شکایت میں بتایا تھا کہ مقامی دیہی افسران نے انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے نس بندی نہ کرائی تو ان کا نام غریب ترین افراد کی فہرست سے خارج کردیا جائیگا، جس کے باعث وہ مفت طبی سہولیات اور ہر ماہ ملنے والے حکومتی راشن سے محروم ہوجاتے۔
male) Ramchandra Namdeo) “اس وجہ سے میرے پاس نس بندی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ اب میں نے ضلعی کلکٹر کے پاس شکایت درج کرادی ہے اور انھوں نے کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔ مجھ پر ایک سرکاری خط کے ذریعے دباﺅ ڈالا گیا تھا۔ میرے خیال میں انتظامیہ کی جانب سے ایک غریب اور بوڑھے شخص کے خلاف اس طرح کے حربے اختیار کرنا غلط ہے”۔