ملک بھر کے شہروں اور دیہاتوں میں بے شمار گھر ایسے ہیں جہاں گھریلو جھگڑے روز مرہ روٹین کا حصہ ہیں،نند بھاوج کی چپقلش، میاں بیوی کی تکرار اور ساس بہو کے بیچ سرد جنگ ، کبھی تو محض زبانی جمع خرچ تک محدود رہتی ہے اور کبھی نوبت مار پیٹ تک جا پہنچتی ہے، تشویش ناک صورت حال اُس وقت جنم لیتی ہے جب گھریلو جھگڑوں کاذمے دار خاتون خانہ کو ٹھہرا کر اُسے شدید نوعیت کے جسمانی اور نفسیاتی تشدّد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، زیادہ تر واقعات میں وہ عورت کسی خاندان کی بہو ، بھابھی یا بیوی ہوتی ہے جو کبھی تو چولہا پھٹنے کی زد میں آ جاتی ہے اور کبھی بری طرح جھلس کر مر جاتی ہے اور سسرال والوں کی جانب سے اِسے حادثے کا نام دے دیا جاتا ہے۔
سانگھڑ کا ایسا ہی ایک گھر تھا جس میںصباءمسیح عرف صوبو رہتی تھی، صبا کا کہناہے کہ اسکی شادی کو 5سال ہوئے ہیں لیکن ساس اول روز سے اُسے ناپسند کرتی تھی، نوبت تکرار اور پھرلڑائی جھگڑوں تک جاپہنچی اور ایک صبح صباءکی ساس نے اُس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی، صباءاس وقت برنس سینٹر، سوِل اسپتال، کراچی میں زیر علاج ہے، اُسکا جسم بری طرح جھلس چکا ہے،بہت دقّت سے اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کی تفصیل بتاتے ہوئے صبا ءنے کہا:
ایسا ہی ایک بھیانک حادثہ ضلع نوابشاہ کے گاﺅں جمال شاہ سے تعلق رکھنے والی سیما کے ساتھ پیش آیا:
سیما کا کہنا ہے کہ اُ س کے شوہر نے اُس کے ساتھ جو کیا وہ سفاکی کی انتہا ہے:
صبا اور سیما کا علاج کرنے والے کنسلٹنٹ پلاسٹک سرجن ڈاکٹر عاصم ظہیر کا کہنا ہے :
خواتین کو جلائے جانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اندرون سندھ سے جھلسے ہوئے جسم کے ساتھ کراچی کے برنس سینٹرمیں لائی جانے والی خواتین انتہائی اذیت ناک کیفیت سے دوچار ہوتی ہیں اور کم ہی زندگی کی بازی جیت پاتی ہیں اور اگر زندگی مہربان ہو بھی جائے تو زیادہ تر خواتین پلاسٹک سرجری یا دیگرمہنگے ٹریٹمنٹس سے استفادہ حاصل نہیں کر پاتی ہیں، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جن لوگوں کی وجہ سے خواتین اس حال تک پہنچتی ہیں بعض اوقات وہ اُن لوگوں کا نام بھی واضح طور پر نہیں لے پاتی ہیں یا پھر انھیں بیان بدلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
برنس سینٹر ،سوِل اسپتال ،کراچی صوبہ سندھ کا واحد اسپتال ہے جہاں مختلف حادثات میں جھلس کر زخمی ہونے والی خواتین کو مفت طبی امداد فراہم کی جاتی ہے، برنس سینٹر کے ڈائریکٹر دبیر الرّحمٰن کا اِس بارے میں کہنا ہے:
آگ سے جھلس کر زخمی ہونے والی خواتین کے ٹریٹمنٹ کیلئے برنس سینٹرز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہئیے اور اِس نوعیت کے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سزا ملنی چاہئیے ۔کسی کے گھر کا چولہا پھٹے یا ایک جیتے جاگتے وجود پرپیٹرول چھڑک کر تیلی دکھا دی جائے،ایک عورت اپنی جان سے جائے تو ایک گھر اُجڑتا ہے اور بچے بن ماں کے ہو جاتے ہیں، معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کیلئے ہمیں رشتوں میں توازن قائم رکھنا ہو گا۔
