Feeding Cambodian Children One Meal at a Timeکمبوڈین اسکول پروگرام

کمبوڈیا میں چالیس فیصد کے قریب بچے کم خوراکی کا شکار ہیں، غربت کی بلند شرح کے باعث بیشتر خاندان مناسب خوراک تک رسائی سے محروم ہیں، مگر کچھ اسکولوں کے طالبعلم خوش قسمت ہیں جنھیں اسکول انتظامیہ کی جانب سے مفت ناشتہ فراہم کیا جاتا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

رن ٹیک کمیوںکے واٹ رن پرائمری اسکول میں اس وقت صبح کے چھ بجے ہیں، طالبعلموں کی طویل قطار ہاتھوں میں خالی برتن اٹھائے کھڑی ہے۔

تاہم انہیں کچھ دیر انتطار کرنا پڑے گا کیونکہ ناشتہ تیار ہورہا ہے، اسے تیار کرنے والے پیشہ ور باورچی نہیں بلکہ مقامی کاشتکار ہیں، جنھیں اسکول والوں نے صحت بخش خوراک کی تیاری کی تربیت دی ہے۔باورچی ہا ہ ہیو بتارہے ہیں کہ وہ آج کیا پکار رہے ہیں۔

ہا ہ ہیو”ہم سوپ کیلئے پانی ابال رہے ہیں، جس میں مٹر اور مچھلی کو شامل کیا جائے گا”۔

ایک باورچی کی حیثیت سے ہا ہ ہیوکو اس کام پر ہر ماہ پندرہ کلو چاول دیئے جاتے ہیں۔

ناشتہ اب تیار ہے، بڑی جماعتوں کے طالبعلم ہر ایک تک ناشتے کی فراہمی ممکن بنارہے ہیں۔

پہلی جماعت کی طالبہ چھ سالہ روم شرے تھیب ناشتہ کررہی ہے، گھر پر اسے اکثر ناشتہ نہیں ملتا، کیونکہ اس کا خاندان بہت غریب ہے۔

روم شرے تھیب”مجھے ناشتہ کرنا پسند ہے، میں اپنا ناشتہ اسکول میں کرتی ہوں، میرا پسندیدہ ناشتہ چاول ہیں”۔

کمبوڈیا بھر میں ایک ہزار سے زائد اسکولوں میں اس طرح کے ناشتہ پروگرام چل رہا ہے، یہ عالمی ادارہ خوراک کے زیرتحت دس برس سے کام کررہا ہے۔عالمی ادارے کی نمائندہ کنیتا کھونگ کا کہنا ہے کہ مخصوص اسکولوں کو ہی اس پروگرام کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔

کنیتا کھونگ”ہم اسکولوں کا انتخاب غربت کے اشاریوں اور تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر رکتے ہیں، کمبوڈیا میں اسکولوں میں داخلے کی شرح بہت کم جبکہ دوران تعلیم اسکول چھوڑ جانے والے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس وقت یہاں اسکولوں سے باہر بچے بہت زیادہ ہیں، تو اس طرح کے پروگرامز کے ذریعے بچوں کو واپس اسکولوں میں لایا جاسکتا ہے”۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد خوراک تک رسائی کے مسئلے کو حل کرنا اور طالبعلموں کی سیکھنے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ ہر صبح عالمی ادارہ خوراک ان طالبعلموں کیلئے چاول، مچھلی، نمک اور کھانے کا تیل فراہم کرتا ہے۔

پانچویں جماعت کی طالبہ سویام نگیون کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے متعدد فوائد ہیں۔

سویام نگیون”اس پروگرام کی وجہ سے طالبعلم ناشتہ کرنے بہت جلد اسکول پہنچ جاتے ہیں، اور اس کے بعد ہماری تعلیم کا سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے خاندانوں پر سے ناشتے کے اخراجات کا بوجھ بھی کم ہوجاتا ہے”۔

اسکول پرنسپل سیک ووتھی بتارہے ہیں کہ اس مفت ناشتے پروگرام کو پانچ سال ہوچکے ہیں اور اب وہ اپنے اسکول میں ہی مختلف اجناس کاشت کررہے ہیں۔

سیک ووتھی”ڈبلیو ایف پی کے مدد کے بغیر اس پروگرام کو چلانا بہت مشکل ہے، ہمیں مقامی برادری کی جانب سے بھی کچھ ا مداد ملتی ہے، مگر یہ زیادہ موثر نہیں، مگر اس تعاون کیساتھ ہم ان بچوں کیلئے روزانہ کچھ نہ کچھ ضرور کرسکتے ہیں”۔

حکومت نے مستقبل میں اس پروگرام کی نگرانی اپنے ذمے لینے کیساتھ ساتھ اسے قومی سطح پر توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے، مگر سیم ریپ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن او ساوان کا کہنا ہے کہ ایسا بہت جلد ہونے کا امکان نہیں۔

او ساوان”یہ تو یقینی ہے کہ اس پروگرام کو اب حکومت سنبھالے گی، مگر اس میں کچھ وقت سکتا ہے، یہی کوئی پانچ سال تک کا عرصہ”۔