Families of Murdered Filipino Journalists Left Traumatized – فلپائنی صحافی

فلپائن کو صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے، صرف ایک دہائی کے دوران پچاس سے زائد صحافی قتل ہوئے اور ان کے مقدمات حل نہیں ہوسکے۔اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ہم ایک چھوٹے سے تاریک اپارٹمنٹ کی تنگ راہداری میں داخل ہورہے ہیں، یہاں 43 سالہ ادیتا بیکو اپنے تین بچوں کے ساتھ مقیم ہیں، جو اپنے باپ کی  شفقت سے محروم ہیں۔

ادیتا بیکو”اس وقت باہر بارش ہورہی تھی مگر میں ہر ممکن حد تک تیز دڑ رہی تھی، کیونکہ میں نے اپنے شوہر کی لاش کے بارے میں سنا تھا، جس کے بعد مجھے ہر چیز سے ڈر لگنے لگا تھا”۔

ادیتا بیکوکے شوہر ورگل بیکو کو دو مسلح افراد نے اس کے گھر سے چند میٹر دور فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

ادیتا”ہم اب تک خوفزدہ ہیں، ہر بار جب بھی ہم موٹرسائیکل کی آواز سنتے ہیں تو ہمیں وہ قتل یاد آجاتا ہے۔ میرے بچوں کو اب تک یقین نہیں کہ ان کے والد ہمیشہ کیلئے چلے گئے ہیں، انھوں نے باہر کھیلنا چھوڑ دیا ہے، ہمارا گھر اداسی میں ڈوبا رہتا ہے، کئی بار تو وہ رات کو ڈراﺅنے خواب بھی دیکھتے ہیں”۔

ور گل بیکو فلپائنی شہر کالاپن کے ایک مقامی اخبار میں کام کرتے تھے، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ انہیں جوئے کے بارے میں مضمون لکھنے پر قتل کیا گیا، وہ ایک ہفتے کے دوران قتل ہونے والے دوسرے صھافی تھے، اس سے پہلے ایک ریڈیو میزبان فرنینڈو سولی جن قتل ہوئے، جو اپنے شو میں مقامی سیاستدانوں پر شدید تنقید کرتے تھے۔ ادیتاکو اب بھی یقین نہیں آتا کہ ان کے شوہر ان سے دور جاچکے ہیں۔

ادیتا”وہ موت کے خطرے کی بات تو کرتے تھے، مگر جب بھی میں پوچھتی تو وہ تفصیلات بتانے سے انکار کردیتے، وہ اپنے کام میں مداخلت پسند نہیں کرتے تھے، کئی بار تو میں خود کو الزام دیتی ہوں، کہ جب وہ زندہ تھے تو مجھے ان کے کام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہئے تھا”۔

سنیرءصحافی ورگل بیکو،جو آنچھو ماہو سے کے دوست ہیں، انکا کہنا ہے کہ صحافت بہت خطرناک کام ہے اور صحافیوں کے خاندانوں کو اس بارے میں سمجھنا چاہئے۔

جوان چھو”صحافیوں کو اپنی سرگرمیوں کے دوران مختلف قسم کی دھمکیاں ملتی ہیں، موت، قانونی دعوے وغیرہ، تو اگر اس صورتحال سے ان کے بچے اور بیوی پری طرح آگاہ ہوں تو وہ ہوسکتا ہے کہ کسی قسم کے ذہنی بیماری کا شکار ہوجائے، جہاں تک میری بات ہے یہ بہت مشکل کام ہے، موت کی دھمکیوں سے لیکر ہرجانے دعوﺅں وغیرہ نے مقامی صحافیوں کی زندگیوں کو قابل رحم بنارکھا ہے”۔

نیشنل آف جرنلسٹس کے مطابق 1986ءکے بعد سے اب تک فلپائن میں ایک سو ساٹھ کے قریب صحافی قتل ہوچکے ہیں،جبکہ انکے قاتل کبھی نہیں پکڑے گئے۔ ان صحافیوں کی بیویاں اور بچوں کو شدید مشکلت کا سامنا کرنا پڑا۔ مرات العروس صحافتی یونین کی چیئرپرسن ہیں، جو بیکو خاندان کی معاونت کررہی ہے۔

روینا”ہم ان متاثرہ خاندانوں کی سماجی و نفسیاتی سطح پر مدد کررہے ہیں، ہم نے محسوس کیا ہے کہ بیشتر خواتین اپنے شوہر کے کاموں سے واقفیت نہیں رکھتیں، یہی وجہ ہے جب وہ قتل ہوتے ہیں تو ان پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے، کیونکہ انہیں بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ ان کا شوہر آخر اس ظالمانہ طریقہ سے کیوں قتل کردیا گیا”۔

پولیس نے ورگل بیکو کیس کی تفتیش کیلئے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے، مگر معمہ قتلوں کی تعداد بڑھنے کے باعث صحافیوں کیلئے انصاف کا حصول اتنا بھی آسان نہیں رہا۔ روینا کو توقع ہے کہ اب صحافیوں کے خاندانوں کو ان خطرات کے حوالے سے آگاہ کیا جاسکے گا، تاہم ادیتا بیکو اور ان کے تین بچوں کیلئے اب بہت دیر ہوچکی ہے۔

ادیتا بیکو”بچوں کی واحد کفیل بننا بہت مشکل کام ہے، مجھے نہیں جانتی کہ یہ تکلیف دہ اور بے خواب راتوں کا سلسلہ کتنا طویل چلے گا، میں بچوں کو مضبوطی سے لپٹا کر انہیں اچھے مستقبل کی نوید سناتی رہتی ہوں، اس طرح دن ختم ہوجاتا ہے، میں ان بچوں کیلئے زیادہ مضبوط بننا چاہتی ہوں”۔