شدید گرمی کے موسم میں ٹھنڈے ٹھنڈے مشروب کا تصور ہی روح کو سکون و بخشتا ہے اور پھر جب گر می اورکام کی زیادتی سے جسم تھکن کا شکارہو تب ایسے مشروب کے استعمال کی طلب بڑھ جاتی ہے جو جسم کو طاقت و توانائی بخشے ۔فی زمانہ ہمارے معاشرے میں انرجی ڈرنکس کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے، مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین خصوصا نوجوان لڑکوں میں انرجی ڈرنکس کے استعمال میں اضافہ ہو گیا ہے۔ نوجوان لڑکےان انرجی ڈرنکس کا استعمال صرف توانائی کے حصول کے لیے نہیں بلکہ بطور فیشن بھی کرتی ہیں، امبرین ایک کالج اسٹوڈنٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انرجی ڈرنکس گرمی کے موسم میں توانائی اور طاقت کا احساس دلاتے ہیں۔
خواتین خصوصا نوجوان لڑکیاں بنا سوچے سمجھے انرجی ڈرنکس کا استعمال محض شوق پورا کرنے اور گرمی مٹا نے کے لیے کرتی ہیں، اس سے ان کی صحت کو کتنا نقصان پہنچتا ہے اس بات سے وہ بے خبر رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے بھی انرجی ڈرنکس نہایت مضر ہیںجبکہ نوجوان لڑکوں کی جسامت،اعصابی اور ذہنی نشوونما پر بھی اس کا بہت منفی اثر پڑتا ہے۔ ڈاکٹر سلوت عسکری، ماہر ڈائیٹیشن اینڈ نیوٹریشن ہیں، انرجی ڈرنکس کے باعث خواتین اور نوجوان لڑکوں کی صحت کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میںخبردار کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں :
ڈاکٹر سلوت عسکری کے مطابق تازہ پھل اور ان کا جوس انرجی ڈرنکس کا بہترین متبادل ہیں۔
قدرت نے جسم کو ہر طرح کے موسم کا مقابلہ کرنے کی طاقت عطا کی ہے، لیکن حضرت انسان مصنوعی زندگی کا سہارا لے کر قدرت کے اس نظام میں خلل ڈالتا ہے۔ انرجی جوس کبھی بھی تازہ پھلوں کے جوس کا متبادل نہیں ہو سکتے، چند لمحوں کی عارضی اور مصنوعی طاقت حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری زندگی اور صحت کو داﺅ پر لگا نا غیر حقیقت پسندانہ اقدام ہے۔ انرجی ڈرنکس کے استعمال کی حوصلہ شکنی نہایت ضروری ہے کیوں کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کی منازل طے کر کے آگے بڑھ پاتی ہے،اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمیں اس کا شعور ہوگا۔