بھارت میں مسلم برادری نے حال ہی میں مسلمان نوجوانوں کو دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس سے قبل بھارتی عدالتوں نے دہشتگردی کے شبہے میں گرفتار کئے گئے درجنوں مسلمانوں کو رہا کرنے کے احکامت دیئے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ستائیس سالہ اعجاز مرزا ان پندرہ مسلم نوجوانوں میں شامل تھا جنھیں چھ ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا، پولیس نے ان نوجوانوں پر ایک دہشتگرد تنظیم سے تعلق کا الزام عائد کیا تھا، تاہم اعجاز مرزا نے اسے مسترد کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیا۔
مرزا”میں اس وقت اپنے کمرے میں تھا جب سادہ لباس میں لوگوں کا ایک گروپ آیا اور مجھے گھسیٹ کر لے گیا۔ انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا اور بس مجھے مارتے رہے اور پھر مجھے اپنے ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ پولیس اہلکار ہیں، میری میز پر ایک ٹوپی پڑی تھی انھوں وہ مجھے پہننے کا حکم دیا، میں نے انکار کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ کون ہیں اور مجھے کیوں لے جانا چاہتے ہیں؟ جس پر انھوں نے مجھے مارنا شروع کردیا اور زبردستی مجھے اپنے ساتھ لے گئے”۔
اعجاز مرزا کو گزشتہ ماہ اس وقت ضمانت پر رہائی ملی جب پولیس اس کے خلاف مقدمہ درج کرانے میں ناکام ہوگئی، تاہم اس گرفتاری کی وجہ سے وہ وزارت دفاع کے تحت چلنے والے ایک مرکز کی ملازمت سے فارغ ہوگیا۔اعجاز مرزا کی رہائی کے دو ہفتے بعد دہلی پولیس نے چالیس سالہ کشمیری مسلمان لیاقت شاہ کو میڈیا کے سامنے پیش کیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سنجیو یادو نے بتایا کہ لیاقت کو کیوں گرفتار کیا گیا۔
یادو”یہ شخص بھارتی دارالحکومت میں اس لئے آیا تھا تاکہ یہاں ایک خودکش حملہ کرانے میں مدد فراہم کرسکے”۔
پولیس کا کہنا تھا کہ اس ملزم سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمدک یا گیا ہے، تاہم لیاقت شاہ کی اہلیہ اخترالنساءکا کہنا ہے کہ انکا شوہر بے گناہ ہے اور اس کے خلاف درج مقدمہ مکمل طور پر من گھڑت ہے۔
نسا”پولیس مکمل طور پر جھوٹ بول رہی ہے، میں اس وقت اپنے شوہر کے ساتھ تھی جب اسے گرفتار کیا گیا۔ ہمارے پاس اس وقت کپڑوں کے سوا کچھ نہیں تھا، اب یہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے جھوٹ بول رہے ہیں، یہ میرے شوہر کے خلاف سازش ہے”۔
متعدد مسلم نوجوانوں کو حالیہ ہفتوں کے دوران دہشتگردی کے الزامات لگا کر گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بعد بھارتی مسلمانوں
میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ مشرف حسین آل انڈیا ملی کونسل کے سیکرٹری ہیں۔
مشرف حسین”بیشتر مقدمات میں تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کا نشانہ بنایا گیا اور یہ مقدمات اکثر ان علاقوں میں سامنے آئے ہیں جہاں مسلم برادری معاشی طور پر ترقی کررہی ہے۔ جب ایسا کچھ ہوجاتا ہے تو اس سے نہ صرف گرفتارشدہ شخص اور اس کا خاندان متاثر ہوتا ہے، بلکہ اس سے پوری برادری کی حوصلہ شکنی اور اس میں خوف بڑھتا ہے۔ جس کے بعد معاشی سرگرمیاں اور ان مسائل کے حل کیلئے کی جانی کوششیں تھم کر رہ جاتی ہیں”۔
مسلم برادری نے اس بات پر تشویش ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس کے تعلیمی اداروں پر بہت زیادہ شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں۔
چند ہفتے قبل پولیس کا ایک داخلی میمو غلطی سے میڈیا کے ہاتھ لگ گیا، اس میمو میں پولیس کو ایک مسلم گرلز اسکول پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی، کیونکہ شبہ تھا کہ یہاں سے عسکریت پسندوں خواتین کو بھرتی کررہے ہیں۔ اس وقت مسلم مدرسے بھارتی سیکیورٹی اداروں کی نظر میں ہے، مگر مسلم علماءانتہائی سختی سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ مرزا ذکی بیگ نئی دہلی کے ایک مدرسے کے سربراہ ہیں۔
ذکی بیگ”ہم یہاں قرآن مجید اور حضور پاک ﷺ کی سنت کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو بطور مسلمان اور انسان ان کے فرائض اور احساس ذمہ داری سے آگاہ کررہے ہیں۔ اگر ہم ریکارڈ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ کوئی بھی مدرسہ اب تک مشتبہ سرگرمیوں کی وجہ سے بند نہیں کیا گیا، نہ ہی کسی مدرسے سے متعلق افراد کو کسی بھی بھارتی عدالت میں کسی جرم پر سزا ملی ہے، تاہم اگر ایجنسیوں کو پھر بھی لگتا ہے کہ یہ مدرسے دہشتگردوں کے گڑھ ہیں، تو یہ ان کے متعصبانہ ذہینت کی علامت ہے”۔
مسلم ادارے اور ان کے رہنماﺅں نے ملکر نئی دہلی میں انصاف کیلئے تحریک شروع کی ہے۔وزیر اقلیتی امور کے رحمان خان اس موقع کو مسلم برادری تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے استعمال کررہے ہیں۔
خان”حکومت چند بدقسمت واقعات کے بار بار دوہرائے جانے سے اقلیتوں خصوصاً مسلم برادری میں پیدا ہونے والے احساس عدم تحفظ سے پوری طرح آگاہ ہے، مگر میں انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس سے ہم سب کو بھی پریشانی
ہورہی ہے اور ہم اس کے حل کیلئے پوری سنجیدگی سے غور کررہے ہیں”۔
تاہم زمینی حقیقیت یہ ہے کہ مسلم برادری کے حوالے سے ایک حکومتی کمیشن کی جانب سے پانچ سال قبل پیش کی گئی سفارشات پر اب تک مکمل طور پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے۔یہ کمیشن بھارت میں مسلم برادری کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا گیا تھا، اس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی مسلمانوں کی حالت و زار ہندو اچھوت برادری سے بھی بدتر ہے، دہلی ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندرا سچر اس کمیشن کے سربراہ تھے۔ انکا کہنا ہے کہ اس بات کی ضروری ضرورت ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو انکی کارروائیوں پر حاصل استثنیٰ کو ختم کیا جائے۔
راجندرا”متعدد مقدمات میں عدالتوں نے ان ملزمان کو بے گناہ پایا اور ان کے خلاف پیش کئے گئے شواہد جھوٹے ثابت ہوئے، مگر پھر بھی انہیں برسوں تک جیلوں میں رہنا پڑا۔ کچھ مقدمات میں عدالتوں نے اپنی سفارشات اور حکم میں متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی، مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ حکومت نے ان متاثرہ افراد سے معذرت یا زرتلافی دینے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اگر حکومت کچھ نہیں کرے گی تو پھر اقلیتیوں کے معاملے پر اس پر اعتماد کون کرے گا؟”
اس کمیشن کی رپورٹ میں مسلم برادری کی سماجی، معاشی اور سیاسی حالت بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات کی سفارشات پیش کی گئی تھیں مگر اب تک ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ منظور عالم اس کمیشن کے ایک رکن تھے، انکا کہنا ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کمیشن کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔
منظور عالم”جب تک ذہنیت تبدیل نہیں کی جاتی اس وقت تک ہم علاج کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، مگر ذہینیت تبدیل کرنے کے درکار وقت کے دوران ہمیں کمیشن کی سفارشات پر عمل کرنا چاہئے۔ ہمیں پولیس کا ڈھانچہ تبدیل کرکے اس میں مسلمانوں کو شامل کرنا چاہئے، جن کی تعداد ان کی برادری کی آبادی کے برابر ہو۔ یہ برادری مرکزی ہدف ہے اور پولیس میں اس کی موجودگی سے ناانصافی کا سلسلہ ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ جب تک ہم اس سوچ پر عمل نہیں کرتے اس وقت تک ہمیں ناانصافی ختم ہوتے دکھائی نہیں دے گی”۔