Eid Ul Adha’s First Day – عید الضحی کا پہلا دن

پاکستان بھر میں آج عید الاضحیٰ منائی جارہی ہے اور جگہ جگہ لوگ جانوروں کی قربانی دیکر سنت ابراہیمی کی پیروی کررہے ہیں۔

ایک رات حضرت ابراہیم نے خواب دیکھا کہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواب حضرت ابراہیم کو تین روز متواتردکھایا گیا اور انھوں نے اللہ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔

حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو سیدھا زمین پر لٹایا اور گلے پر چھری چلانے لگے لیکن اللہ کو تو بس ان کا امتحان لینا مقصود تھا، جس میں وہ پوری طرح کامیاب ہو چکے تھے اور حضرت جبرئیل ایک مینڈھا لیکر وہاں آئے اور حضرت ابراہیم نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے کو چھوڑ کر اس مینڈھے کو قربان کیا۔

آج تمام مسلمان حضرت ابراہیم کی اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے عید الاضحی کے دن جانور قربان کرتے ہیں۔اور حجاجِ کرام تین جمرات کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں۔ اور حضرتِ ہاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروٰی پر سعی کرتے ہیں۔

پاکستان بھر میں پاکستان بھر میںعید الاضحی نہایت جوش و خروش اور مذہبی رواداری کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نماز عید کے اجتماعات ہوتے ہیں۔جس کے بعد سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کی گئی۔

عید سے قبل جگہ جگہ مویشی منڈیوں کی رونقیں دیکھنے والی ہوتی ہیں جہاں جانوروں کی خریداری کیلئے لوگوں کا رش نظر آتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں مہنگائی میں اضافے کے باعث لوگوں کی قوت خرید کم ہوئی ہے اور اجتماعی قربانی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

قربانی کے گوشت سے مزے مزے کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں جن میں باربی کیو تکے، بہاری بوٹی، بہاری کباب، گولہ کباب، چانپ روسٹ سرفہرست ہیں۔