افغانستان میں اگلے برس بغیر کسی غیرمعاونت کے پہلے آزادانہ صدارتی انتخابات کا انعقاد ہورہا ہے، اب تک بیس سے زائد امیدوار اپنے نام رجسٹر کراچکے ہیں، تاہم اگلے برس غیرملکی افواج کے انخلاءکے بعد متعدد افغانی اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
تینتیس سالہ ہدایت اللہ مجاہدی کابل کے ایک دکاندار ہیں، وہ آئندہ برس شیڈول انتخابات کے بعد افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔
ہدایت”صدر کرزئی معتدل مزاج ہونے کے ساتھ متعدد قبائل میں مصالحت کار کا کردار ادا کرتے تھے، مگر اب مجھے نہیں کہ معلوم کہ اگلا صدر ان جیسا ہوگا یا نہیں؟ کچھ لوگوں کو خود کو اقتدار اور پیسوں کیلئے امیدوار بنایا ہے، جبکہ کچھ مجرم یا خانہ جنگی میں ملوث رہے ہیں۔ غیرملکی افواج بھی 2014ءمیں افغانستان سے چل جائیں گی، اس سے ہمارے ملک کی مجموعی صورتحال متاثر ہوگی”۔
صدارتی انتخابات اگلے برس اپریل میں شیڈول ہیں، یہ افغانستان کے پہلے انتخابات ہیں جو کسی غیرملکی معاونت کے بغیر ہوں گے۔اب تک 27 امیدوار کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔
ان امیدواروں میں سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ بھی شامل ہیں، وہ معروف گوریلا کمانڈر احمد شاہ مسعود کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں، یہ کمانڈر دو ہزار ایک میں قتل ہوگئے تھے۔محمد خان عبداللہ عبداللہ کی مہم چلانے میں پیش پیش ہیں۔
محمد خان”ہمارے پاس اپنے ملک میں صحت، امن، تعلیم، دیگر ممالک سے تعلقات اور دیگر شعبوں کو ترقی دینے کا موثر منصوبہ موجود ہے، ہم اپنی توجہ کرپشن اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی مرکوز کریں گے، میں یقین دلاتا ہوں کہ کرپٹ افراد کو سزا دی جائے گی اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے گا”۔
ایک اور امیدوار جہادی رہنماءریسول سیاف ہیں، ان پر ہیومین رائٹس واچ نے 90ءکی دہائی میں جنگی جرائم میں ملوث رہنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم ریسول سیاف کا کہنا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
ریسول سیاف”ہم اپنے ملک کیلئے کام کرنا اور مختلف قبائل کو متحد کرنا چاہتے ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ میں سب سے بہترین ہوں، مگر اپنے لوگوں کیلئے کام کرنا اور ان سے ووٹ کی درخواست کرنا میرا حق ہے۔ ہم نے ملک کو مزیدنقصانات سے بچانے کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے، مجھے توقع ہے کہ لوگ مجھے ووٹ دیں، اور میں ان کی خدمت اور سیکیورٹی بہتر بنانے کی پوری کوشش کروں گا”۔
انتخابی مبصر گروپ فری اینڈ فیئر الیکشنز فاونڈیشن تمام عمل کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے،جنداد اسپنگھر اس کے سربراہ ہیں۔
جنداد”اگر انتخابات شفاف اور اچھے طریقے سے ہوئے، تو بیشتر افراد نتائج کا احترام کریں گے اور منتخب صدر کو عوامی اعتماد بھی حاصل ہوگا۔اس کے بعد ہی حکومت مسائل کو حل کرسکے گی، ورنہ یہ انتخابات ملک کو ایک بڑے بحران میں مبتلا کردیں گے، ہم انتخابی عمل میں لوگوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کی ذمہ داری اٹھاسکیں”۔
ہم لوگ اس وقت کابل یونیورسٹی کے سامنے کھڑے ہیں، طالبان کے عہد میں افغانستان میں لڑکیوں کو پڑھنے کی اجازت نہیں تھی، تاہم عالمی برادری تعاون سے اب تک یہاں سے چالیس لاکھ لڑکیاں تعلیم حاصل کرچکی ہیں۔23 سالہ دینا مہیبی بھی ان میں سے ایک ہیں، وہ اس وقت کابل یونیورسٹی میں فارسی ادب کی ڈگری حاصل کررہی ہیں۔
دینا”اب لڑکیاں اسکول یا یونیورسٹی جاسکتی ہیں اور گھروں کے باہر کام بھی کرسکتی ہیں۔ اب ماضی کے مقابلے میں صورتحال کافی مختلف ہے، ہمیں توقع ہے کہ اگلے صدر موجودہ حالات کو برقرار رکھیں گے بلکہ اسے مزید بہتر بنائیں گے”۔