Written by prs.adminSeptember 29, 2012
(Does India hate cartoonists?)بھارتی کارٹونسٹ
Asia Calling | ایشیا کالنگ . Politics Article
بھارت میں کرپشن کے خلاف سرگرم کارٹونسٹ کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں شدید تنقید جاری ہے۔ پولیس نے ایک وکیل کی شکایت پر کارٹونسٹ کو غداری کے الزامات پر گرفتار کیا۔یہ کارٹونسٹ انا ہزارے تحریک کا رکن ہے۔
انسداد کرپشن مہم کے کارکن دارالحکومت نئی دہلی کی سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت کارٹونسٹ Aseem Trivedi کو رہا نہیں کردیتی۔ اپنی ویب سائٹ پر Aseem Trivedi نے ایک کارٹون شائع کیا تھا جس میں پارلیمنٹ اور دیگر قومی علامات کو ٹوائلٹ رول اور بھیڑیوں سے تشبیہ دی گئی تھی۔ جس کے بعد ممبئی کے ایک وکیل نے Aseem Trivedi کے خلاف پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے قومی علامات کی توہین کی ہے، جس پر پولیس نے 8 ستمبر کو کارٹونسٹ کو گرفتار کرلیا۔ Satya Pal Singh ممبئی کے پولیس کمشنر ہیں۔
(male) Satya Pal Singh “ہمارا پیغام بالکل واضح ہے، آپ فنکار یا کارٹونسٹ ہوسکتے ہیں، مگر آپ کو حد سے تجاوز کرنے کا کوئی اختیار نہیں”۔
تاہم سماجی کارکنوں، فنکاروں اور عام شہریوں کا ماننا ہے کہ کارٹونسٹ کو حکومت پر تنقید کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔ Markandeya Katju سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل کے صدر ہیں۔
(male) Markandeya Katju “آپ کسی شخص کو تنقید کرنے پر قید نہیں کرسکتے۔ سیاسی انتظامیہ کو اپنا رویہ بہتر بنانا چاہئے، ان کارٹونوں میں تو بس یہ کہا گیا تھا کہ انتظامیہ کرپٹ ہے، اس کو بنانے والے کی گرفتاری کسی طرح جائز نہیں، میرے خیال میں معاشرتی برائیوں کو اجاگر کرنیوالے کارٹونسٹ کی بجائے اسے غیرقانونی طور پر گرفتار کرنے والوں کو جیل میں ڈال سخت ترین سزا دی جائے”۔
بین الاقوامی گروپس کی جانب سے بھی گرفتار کارٹونسٹ کی حمایت کی جارہی ہے۔ Aseem Trivedi کو ممبئی ہائیکورٹ نے بارہ ستمبر کو ضمانت پر رہا کردیا تھا، جیل سے باہر آنے کے بعد اس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کرپشن کیخلاف اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
(male) Aseem Trivedi “میں عام شہریوں اور سماجی کارکنوں کی جانب سے میری حمایت کرنے پرانتہائی شکرگزار ہوں۔ اب میں اپنی جدوجہد کو مزید آگے بڑھاﺅں گا تاکہ مستقبل میں کوئی فنکار، مصنف یا کارٹونسٹ اس طرح کے قوانین کا شکار نہ ہو اور نہ ہی اسے عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا پڑے”۔
Aseem Trivedi پر بھارتی ترنگے کی توہین کا بھی الزام ہے۔ Gang Rape of Mother Indiaنامی ان کے کارٹون میں ایک خاتون کو دیکھا گیا ہے جس نے بھارتی ترنگے کو اوڑھ رکھا ہے، جسے ایک سیاستدان اور ایک بیوروکریٹ اتارنے کی کوشش کررہا ہے۔ وزیر اطلاعات و نشریات Ambika Soni کا کہنا ہے کہ کارٹونسٹ نے اس کارٹون کے ذریعے قومی علامت کی توہین کی ہے۔
(female) Ambika Soni “آئین نے ہمیں اظہار رائے کی آزادی کا حق دیاہے،مگر اس کے ساتھ اس نے بھارتی شہریوں پر تمام قومی علامات کا احترام کرنے کی بھی ہدایت کی ہے”۔
Jitendra Awhad حکومتی اتحادی جماعت Nationalist Congress Party کے رہنماءہیں، وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
جتندر(male) “یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، آپ پارلیمنٹ کو اس طرح نہیں دکھاسکتے، یا دیگر علامات کا مذاق نہیں اڑا سکتے ہیں، اس طرح تو آپ ملک کو انارکی جانب لے کر جانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں”۔
حالیہ مہینوں کے دوران متعدد مصنفین، اسکالرز اور فنکار سیاسی انتظامیہ کا ہدف بنے ہیں، دو سال قبل معروف مصنفہ Arundhati Roy پر بھی کشمیر میں بھارت مخالف تقاریر کا الزام عائد کرکے غداری کا مقدمہ دائر کردیا گیا تھا۔مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی نے حال ہی میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کو ان کے اوپر بنائے جانے والا ایک تنقیدی کارٹون اپنے دوست کو بھیجنے پر گرفتار کرادیا تھا۔معروف فنکارہ Anjolie Ela Menon کا کہنا ہے کہ کارٹونسٹ کا کام لوگوں کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔
(female) Anjolie Ela Menon “ایک کارٹونسٹ اپنے ذہن میں موجود خاکے کو اس طرح پیش کرتا ہے جو ایک ہزار الفاظ سے بھی زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ یہ کارٹونسٹ مزاح اور دیگر عناصر کو اپنے کام کیلئے استعمال کرتے ہیں”۔
اگرچہ Aseem Trivedi جیل سے باہر آچکے ہیں، تاہم ان کے خلاف مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ اب ممبئی ہائیکورٹ فیصلہ کرے گی کہ Aseem Trivedi غداری کے مرتکب ہوئے ہیں یا نہیں۔Colin Gonsalves سپریم کورٹ کے وکیل ہیں۔انکا کہنا ہے کہ Aseem Trivediنے ریاست کے خلاف کوئی جرم نہیں کیا۔
(male) Colin Gonsalves “ہر بھارتی شہری حکومت اور ریاست کے خلاف نفرت کا اظہار کرسکتا ہے۔ تاہم جب تک میں ہتھیار نہیں اٹھالیتا یہ ریاست کے خلاف جرم نہیں۔ Aseem Trivedi نے سیاسی کام کیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ آج پارلیمنٹ میں جانا ایسے ہی جیسے بیت الخلاءمیں جانا، یہ انتہاپسندانہ سیاسی جملہ ضرور ہے، مگر یہ کوئی غیرقانونی بیان نہیں”۔
Meenakshee Ganguly جنوبی ایشیاءمیں ہیومین رائٹس واچ کی ڈائریکٹر ہیں۔
(female) Meenakshee Ganguly “لوگوں کے خلاف برطانوی سامراج کا قانون استعمال کرنا ایسا ہی ہے جیسے ملک میں انتظامیہ ختم ہوکر رہے گئی ہے”۔
You may also like
- Solangi Inaugurates Media Training Program at Reactivated Pakistan Broadcasting Academy
- NACTA delegation, DG Information KP discuss media role in peace
- PEMRA to hold bidding for FM Radio licenses on Thursday
- Radio Pakistan achieves significant milestones in ‘digital migration’: Solangi
- Khyber Pakhtunkhwa minister opens podcast studio in UoP Journalism Dept
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| 1 | ||||||
| 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
| 9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
| 16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
| 23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | |

Leave a Reply