Demonstrations at Press Clubs پریس کلبوںکے باہر احتجاجی مظاہرے

            گزشتہ تین سے چاربرسوں کے دوران ملک بھر میں خصوصاً پریس کلبوںکے باہر احتجاجی مظاہروں کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔پریس کلب وہ مقام ہے جہاں معاشرے کا پسماندہ طبقہ آکر اپنے مسائل بیان کرتا ہے، اس پر احتجاج کرتا ہے اورکیمپ لگاتا ہے جبکہ اخبار نویس یا الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی ،لوگوں کے مسائل کو اعلیٰ حکام تک پہنچاتے ہیں۔جمہوری ممالک میں پرامن مظاہرے عوام کا بنیادی حق سمجھے جاتے ہیں جن پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہوتا۔ان مظاہروں کا مقصد حکومت تک اپنی بات یا مطالبات پہنچانا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے پریس کلبوںکے سامنے ہونیوالے احتجاج کی تعداد دیکھی جائے تو کراچی پریس کلب کے سامنے سب سے زیادہ احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔اے ایچ خانزادہ کراچی پریس کلب کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

            پاکستان میں عوام کسی بھی معاملے جیسے ریمنڈڈیوس کی رہائی، اساتذہ کی مستقلی اور گمشدہ افراد کی بازیابی سمیت دیگر مسائل پر احتجاجی مظاہروں کیلئے پریس کلبوںکے باہر پہنچ جاتے ہیں۔سرمد بشیر لاہور پریس کلب کے صدر ہیں،انکے خیال میں پریس کلب کے سامنے ہونیوالے احتجاجی مظاہروں کی تعداد میں اضافے کی وجہ لوگوں کے مسائل میںہونیوالابے پناہ اضافہ ہے۔

            معروف قانون دان اور سماجی رہنما اقبال حیدر ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ ملک کے بدتر حالات کے باعث لوگوں کے پاس احتجاج کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں رہ گیاہے۔

            پشاور پریس کلب کے صدر سیف الاسلام سیفی کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں چونکہ پریس کلب مرکزی شاہراﺅں پر واقع ہوتے ہیں، اس لئے مظاہروں کے دوران ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ مظاہرین کو اس سے اجتناب برتنا چاہئے۔

            پریس کلب ایسی جگہ ہے جہاں مظاہرین کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے قانون نافذ کرنیوالے ادارے ہچکچاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مظاہرین پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کو ترجیح دیتے ہیں۔سلیم شاہد کوئٹہ پریس کلب کے صدر ہیں، وہ اس بارے میں اپنا خیال پیش کررہے ہیں۔

            احتجاجی مظاہرین کے رویے سے پریس کلبوں کی انتظامیہ کو پریشانی بھی اٹھانا پڑتی ہے، کیونکہ مظاہروں سے صحافیوں کی سرگرمیاں متاثر ہونے کیساتھ ساتھ پریس کلب میں صحافیوں کیلئے دستیاب سہولیات کا مظاہرین بے تکلفی سے استعمال کرتے ہیں۔ کراچی پریس کلب کے سیکرٹری جنرل اے ایچ خانزادہ اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *