Exam system امتحانی نظام

    ملکی امتحانی نظام کو بہتر بنانے کیلئے ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے سربراہان کی کمیٹی آئی بی سی سی نے گزشتہ ماہ کراچی میں ایک کانفرنس منعقد کی۔ دو روزہ کانفرنس میںآئی بی سی سی نے متعدد اہم فیصلے کیے جن میںمیٹرک اور انٹر کی جعلی مارکس شیٹ اور اسناد کی روک تھام کیلئے اہم دستاویزات پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ پریس سے چھپوانے کی منظوری ،آئی بی سی سی کے گزشتہ دس برس کے فیصلوں کو کتابی شکل دیکرملک بھر کے تعلیمی اداروں کو فراہمی، تمام امتحانات کا انعقاد بورڈز کے شیڈول کے مطابق کرایا جانااور اے اور اولیول کے طالبعلموں کو اے پلس یا اے گریڈ کی جگہ نمبر دیکر اسناد کو میٹرک کے مساوی کرنا شامل ہیں۔ انور احمد زئی آئی بی سی سی اور انٹربورڈ کراچی کے چیئرمین ہیں،وہ اس کانفرنس کے دیگر فیصلوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔

رواں برس پنجاب کے آٹھوں سیکنڈری بورڈز نے آن لائن سسٹم کے تحت رول نمبر سلپس کا اجراءکیا، جن میںتاریخ پیدائش اور ولدیت غلط لکھنے کے علاوہ تصاویر بھی غلط لگی ہونیکے واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ ہزاروں طالبعلم سلپس سے محروم ہونیکی وجہ سے امتحانات دینے سے قاصر رہے۔تاہم سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کے پی آر اوقیصر محمود کے مطابق جتنے طالبعلموں نے آن لائن فارم بھرے، انہیں سلپس جاری کردی گئیں اور وہ سب امتحانات دے رہے ہیں۔

بورڈز کی جانب سے رول نمبر سلپس یا ایڈمٹ کارڈز دیر سے جاری کئے جانے کی شکایات کے بارے میںآئی بی سی سی کے چیئرمین انور احمدزئی کا کہنا ہے کہ ایک مافیا مخصوص مراکز میں جگہ حاصل کرنے کیلئے آخری تاریخوں میں فارم جمع کراتا ہے۔
پنجاب میں بورڈز کے ناقص نظام کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ لڑکیوں کو لڑکوں اور لڑکوں کو لڑکیوںکے مراکز الاٹ ہوئے جبکہ شاہدرہ کے ایک ہائی سکول کا امتحانی مرکز کوٹ لکھپت جیل میں بنادیا گیا۔اسی طرح طلبا ءو طالبات کے مراکز انکے گھروں کے مقابلے میں دور دراز علاقوں میں بنائے گئے،جبکہ کچھ طالبعلموں کیساتھ یہ ظلم ہوا کہ انہیں صبح کی شفٹ میں بلایا گیا، امتحانی مراکز پرجاکر پتا چلا کہ انکی شفٹ دوپہر کی کردی گئی ہے ۔اسی طرح رول نمبر سلپس رکھنے والے کئی امیدوار امتحانی مرکز کی نشاندہی نہ ہونے کے باعث مارے مارے پھرتے رہے۔طالبعلموں کو پیش آنیوالی مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے لاہورہائیکورٹ نے تمام تعلیمی بورڈز سے جواب طلب کرلیا ہے۔تاہم لاہور سیکنڈری بورڈ کے پی آر اوقیصر محمود صورتحال کو معمول کے مطابق قرار دیتے ہیں۔
آئی بی سی سی کے چیئرمین انور احمد زئی کا کہنا ہے کہ ممتحن کے صوابدیدی اختیارات میں بھی کمی کی گئی ہے، اب ممتحن اپنی مرضی سے نمبرنہیں دے سکےںگے۔
کراچی میں میٹرک کے ڈھائی لاکھ طلباءکیلئے 436 امتحانی مراکز بنائے جاتے تھے جسکی وجہ سے نقل اور دیگر ناجائز ذرائع کے استعمال کی شکایات عام تھیں۔ گزشتہ برس بھی اس بارے میں کئی شکایات منظرعام پر آئی تھیںجنکی تحقیقات کیلئے قائم کی جانیوالی کمیٹی کے جائزوں اور اقدامات کے بارے میںانٹربورڈ کراچی اور آئی بی سی سی کے چیئرمین کا کہنا ہے۔
کراچی سمیت صوبہ سندھ میں میٹرک کے سالانہ امتحانات 18 اپریل سے شروع ہوں گے۔ اس حوالے سے ایک نئے طریقہءکار کی آزمائش کیلئے25مارچ کوسیکنڈری بورڈکیجانب سے ایک Mock Examکا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔اس نئے طریقہءکار کے بارے میں انور احمد زئی بتارہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *