Delay Marriages تا خیر سے شا دیو ں کا رجحا ن

ہمارے معاشرے میں ایسے کئی گھرانے ہیں جہاں لڑکیاںشادی کے انتظار میں،آنکھوں میں سپنے سجائے ،والدین کی دہلیز پر زندگی کے قیمتی ماہ و سال گنوا رہی ہیںوجہ ہے لڑکیوں اور والدین کی ضرورت سے زیادہ توقعات۔۔۔۔ لڑکیوں کی شادی ایک گمبھیر مسئلہ اس لئے بھی بن چکی ہے کیونکہ گھر کی بیری پر آنے والے بیشتر کنکر نہ تو لڑکیوں کے شایان شان ہوتے ہیں اور نہ ہی والدین انھیںاہمیت دیتے ہیں، اور بلآخر شادی کی عمر نکل جانے کے بعدلڑکیوںاوراُنکے والدین کیلئے سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔ایسے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں جہاںخواتین میں تعلیم کے رجحان میںاضافہ ہوا ہے وہیں لڑکیوں کیلئے اچھے رشتوں کی تلاش ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جس نے والدین کی راتو ںکی نیندیں اُڑا رکھی ہیں، خصوصاً ملازمت کرنے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں نے شادی کیلئے جو آئیڈیل تراش رکھا ہے، وہ صرف ہمسایہ ملک کے سوپ سیریلزمیں ہی مل سکتا ہے، یعنی چارمنگ ہو، ویل سیٹلڈ ہو ،بیک گراﺅنڈ شاندار ہو اسکے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہو۔۔۔کراچی میں ویمن ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے میرج بیورو چلانے والی مسزممتاز قریشی نے ہمیں اپنے تجربے کی روشنی میں چند ایسے حقائق بتائے جن کی وجہ سے لڑکیوں کی شادی میں تاخیر والدین کیلئے ذہنی اذیت کا باعث بنتی ہے:
مسز قریشی کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کی بڑھتی عمراُنکی شادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے:
اعلیٰ تعلیم اور بہترین کریئر فی زمانہ لڑکیوں کی اولین ترجیح ہے، نامور محکموں میں فائز اعلیٰ عہدوں پر ملازمت کرنے والی لڑکیاں، لڑکے والوں کے معیار پر پوری نہیں اُترتیں،کیونکہ ہمارے ہاں شادی بیاہ کے معاملات میں کم عمر لڑکیوں کو ترجیح دی جاتی ہے:
ایسے میں لڑکی والوں کے مطالبات بھی کم نہیں،معاشی بدحالی کے اس دور میں جہاں ملازمتوں کا فقدان ہے لوئر کلاس گھرانوں میں بھی لڑکی کیلئے بر ڈھونڈتے ہوئے ہائی فائی نوکری اور بھاری بھرکم تنخواہ دیکھی جاتی ہے:
لڑکیوں کی شادی ایک بہت بڑا سماجی مسئلہ ہے ، ایسے میںجعلی میرج بیورو چلانے والے افرادنہ صرف لوگوں کی مجبوریوں سے کھیلتے ہیں بلکہ لڑکے اور لڑکی والوں کو شادی کا آسرا دے کر موٹی رقمیں بٹورنے اور فراڈ کے دیگر واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں،ویمن ویلفیر سوسائٹی کی سر براہ مسز ممتاز قریشی کا کہنا ہے:
مسز ممتاز قریشی کہتی ہیںکہ جعلی میرج بیوروچلانے والوں کے خلاف کوئی چیک اینڈ بیلنس پالیسی ہونی چاہئیے، یہ کھلے عام لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں، خصوصاً لڑکی والے اپنی مجبوری کے باعث انکے ہاتھوں لٹتے رہتے ہیں:
ہمارے ہاں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں میں اعلیٰ تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے ایسے میں ہم پلہ رشتے ڈھونڈنا لڑکیوں کے والدین کیلئے انتہائی مشکل ہے،جبکہ کم تعلیم یافتہ اور معمولی پوسٹ پر فائز لڑکوں کو درجہ قبولیت بخشنا لڑکیاں اپنے اسٹیٹس کے خلاف سمجھتی ہیں، کچھ سالوں پہلے تک لڑکے کے خاندان، حسب نسب اور شرافت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی،لیکن وقت کے ساتھ جہاں اور بہت کچھ بدلا ہے وہیں لوگوں کا معیار بھی بدل چکا ہے۔
شادی ایک مقدس بندھن ہے اور لاحاصل خواہشوں کے پیچھے زندگی کے قیمتی سال گنوانا غیر دانشمندی۔۔۔یہ اہم ترین نکتہ لڑکیوں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *