(Dealing with the Dead in Malaysia)ملائیشیاءمیں آخری رسومات
ملائیشیاءکی ریاست Malacca صدیوں سے مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی رہائشگاہ ہے، اسی وجہ سے یہاں مرنے کے بعد کی رسومات اور مذہبی عقائد کافی دلچسپ ہیں
صدیوں سے Malacca میں محفوظ بندرگاہ کی سہولیات تاجروں کو فراہم کی جارہی ہے۔ماضی میں یہاں بارشوں کے موسم میں جہاز یورپ جانے کیلئے کافی عرصے تک انتظار کرتے تھے، جس دوران تاجر، سیاح اور مقامی افراد آپس میں ملکر رہتے تھے۔ اسی طرح یہاں کے ملے جلے معاشرے کی بنیاد پڑی، جس نے جدید ملائیشیاءکی تعمیر میں بھی مدد دی۔ چینی مسلم ایڈمرل Zheng He نے 15 ویں صدی کے شروع میں یہاں اپنا جہاز لنگرانداز کیا تھا۔جس کے بعد پرتگیز، ڈچ اور برطانوی بھی یہاں اپنے نقش ثبت کرکے چلے گئے۔
ہم لوگ اس وقت Bastion House میں موجود ہیں، جو ایک پرانے پرتگالی قلعے A Famosa کے پیچھے واقع ہے۔ Bastion House کے اندر آخری رسومات کے حوالے سے اشیاءنمائش کیلئے رکھی گئی ہیں۔ اس نمائش کو Beyond Eternity کا نام دیا گیا ہے۔ میوزیم کے منیجر Khamis Abas ہمیں نمائش کے بارے میں بتارہے ہیں۔
(male) Khamis Abas “ہماری نمائش کا آغاز Perak Man سے ہوا، جو قدیم حجری دور سے تعلق رکھتا ہے۔یہ Perak Man یونان کی اس ریاست سے آیا جسے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا ہے”۔
Perak Man درحقیقت ملائیشیا میں دریافت ہونے والی سب سے قدیم انسانی کھوپڑی کو کہا جاتا ہے، ایک اندازے کے مطابق یہ کھوپڑی گیارہ ہزار سال پرانی ہے۔
(male) Khamis Abas “یہ بہت منفرد ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل بھی لوگوں کو دفن کیا جاتا تھا۔ Perak Man کو چھوٹے بچے کی پوزیشن میں دفن کیا گیا تھا، جبکہ اس کے ساتھ ہرن، چھپکلے، بندر اور ایسی چیزیں بھی دفن کی گئیں جو عام زندگی میں وہ استعمال کرتا ہوگا”۔
وہ مزید بتارہے ہیں۔
(male) Khamis Abas “اس کے علاوہ نمائش میں دکھایا جارہا ہے کہ کس طرح مختلف ملائیشین علاقوں میںOrang Aslis ، Ibans اور Kadazans نسل کے افراد کی آخری رسومات ادا کی جاتی تھیں”۔
Orang Aslis کا مطلب حقیقی افراد ہے، یہ ملائیشیاءمیں پائی جانے والی ایک اقلیتی برادری کا نام ہے۔ اسی طرح Ibans اور Kadazans دو ریاستوں Sabah اور Sarawak کے قبائل کا نام ہے۔
(male) Khamis Abas “قبائلی آخری رسومات تقریباً ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔ Orang Aslis میں کئی بار لاشوں کو زمین میں دفن کردیا جاتا ہے، جبکہ کبھی کسی درخت کے نیچے چھوڑ دیا جاتا ہے، کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ مرنے والے شخص کی لاش ایک بار واپس آکر اپنی زندگی کا جائزہ لے گی۔ کئی بار تو پورا گاﺅں ہی لاش کی وجہ سے دوسرے علاقے میں چلا جاتا تھا، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا تھا کہ روح واپس آکر انکا شکار نہ کرلے”۔
اس کے بعد مسلمانوں کی تدفین کے حوالے سے مختلف اشیاءموجود ہیں۔ اس ریاست میں اسلام 1414ءمیں آیا تھا۔
(male) Khamis “مسلمانوں کی تدفین قرآن و حدیث کے احکامات کے تحت ہوتی ہے۔ مسلمان اپنے پیاروں کی لاشیں غسل کرکے پاک صاف کرتے ہیں اور اسے طویل عرصے تک اپنے پاس نہیں رکھتے۔ اگر کسی کا انتقال فجر کی نماز سے پہلے ہو تو اسکی تدفین ظہر سے پہلے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ امیر ہو یا غریب ہر شخص کی لاش کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سفید کفن پہنایا جاتا ہے”۔
Malacca میں ہندو برادری بھی موجود ہے جو اپنی لاشوں کو جلاتی ہے۔
(male) Khamis ” ہندو اپنی لاشوں کو جلاتے ہیں، اور اس کی راکھ کو بکھیر دیتے ہیں۔ ہماری ریاست میں ہندو لاشیں جلاتے ہیں، تاہم وہ یہ کام کھلے علاقے مین نہیں کرسکتے، بلکہ یہ کام حکومت کے مخصوص کردہ مقام پر ہی ہوتا ہے”۔
چینی نژاد افراد یہاں مسلمانوں اور یورپی باشندوں سے صدیوں قبل آئے تھے، اور ان کی برادری میں لاشوں کو انتہائی پرتعیش طریقے سے ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔
(male) Khamis “جو جتنا امیر ہوگا اس کا مقبرہ بھی اتنا ہی بڑا ہوگا، تاہم اب تدفین کی جگہ محدود ہوتی جارہی ہے، اس لئے یہ رجحان بھی کچھ حد تک تبدیل ہوگیا ہے۔ چینی اپنے پیاروں کی لاشیں دو سے تین روز تک اپنے پاس رکھتے ہیں، اس دوران وہ دعائیں کرتے ہیں اور مختلف اشیاءکی کاغذی نقلیں جلاتے ہیں، تاکہ دوسرے جہاں میں انکے پیاروں کو کسی چیز کی کمی نہ ہو”۔
نمائش کے آخر میں مسیحی کفن اور تابوت صلیب کے ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔
(male) Khamis “عیسائی قبروں کی شناخت بہت آسان ہے کیونکہ ان کے اوپر صلیب کا نشان بنا ہوتا ہے۔ یہاں سب سے پہلے پرتگیز برادری آئی مگر اب تو کچھ چینی اور بھارتی افراد بھی عیسائی بن چکے ہیں۔ عیسائیت میں آخری رسومات کیلئے پادری کا کردار اہم ہوتا ہے اور آج کل تمام رسومات برطانوی انداز میں ادا کی جاتی ہیں”۔
Khamis کا کہنا ہے کہ اس نمائش کا مقصد عوام کو مختلف مذاہب کی تعلیم دینا ہے۔
(male) Khamis “ہم مرنے کے بعد مختلف برادریوں کی رسومات سے عوام کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں،کیونکہ ملائیشیاءمیں مختلف مذاہب کے ماننے والے آباد ہیں۔ویسے بھی یہ تو سب کو ہی معلوم ہے کہ ہم سب کو ایک دن مرنا ہی ہے”۔